سانحہ زیارت
وہ آپ کو فون کرتے رہے کہ ہمارے پاس کارتوس نہیں آپ نے پرواہ نہیں کی، آپ کے طیارے، ڈرون، مشینری کس لئے ہیں؟
ان شہیدوں کی لاشیں اٹھانے کیلئے کوئی نہیں جارہا تھا اور جس بے عزتی سے لاشیں ایک دوسرے پر رکھ کر پک اپ گاڈی میں پہنچائی گئی ۔۔۔
کتنے ہی لوگ شہید کردئے گئے، کتنوں کو زندہ جلایا گیا مگر کسی بھی ذمہ دار شخص نے اس کوتاہی پر نہ تو استعفیٰ دیا، اور نہ ہی حکومت کے فیصلہ سازوں نے کسی ڈی سی، کمشنر، آئی جی یا کسی بریگیڈیئر کو معطل کیا، اور نہ ہی کسی سے بازپرس کی گئی۔
زیارت میں لیویز اہلکاروں کو بلایا گیا اور انہیں کوئی واضح مقصد بتائے بغیر یہ حکم دیا گیا کہ فلاں مقام پر جائیں، صرف ایک یا دو میگزین لے کر جائیں۔
دو دو میگزین کے ساتھ ان کو بھیجا گیا۔وہاں ان پر حملہ ہو گیا۔ یہ حملہ کس نے کیا اور کہاں سے ہوا؟
تحریک تحفظ آئین پاکستان کا اہم اجلاس محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت اسلام آباد میں جاری ہے، جس میں آزاد جموں و کشمیر، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سیاسی و امن و امان کی صورتحال، سابق وزیراعظم عمران خان و دیگر اسیران کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک و اہم امور پر تفصیلی غور کیا جا رہا ہے
ہم جرگہ بنا کر آرمی چیف کے پاس چلے جائیں گے کہ خدا کو مانو ہماری جان بخشو! اپنا کام کرو! پاکستان ہم بنا لینگے۔
آپ پشتون بلوچ سے یہ کہے کہ خدا نے تمہیں جو وسائل دئے اس پر پہلا حق تمہارا ہے۔یہ ٹینشن ختم ہوگی، اگرآپ نے بسم اللہ کرنی ہے تو فوج اور عوام کی لڑائی میں ہمیشہ عوام جیتی ہے
پاکستان کے جاسوسی ادارے اتنے competent ہے کہ گدلے پانی میں سوئی ڈھونڈ سکتی ہے لیکن باجوڑ سے بلوچستان تک جو کچھ ہوریا ہے یہ کسی کو نظر نہیں آتا۔ کیوں؟
ارادہ کیا ہے؟
اور جب ہم کچھ کہتے ہیں تو فورا غداری کے فتوے لگ جاتے ہیں۔
ایک بات ہم نے بلکل واضح طور پر کہنی ہوگی۔
پاکستان افواج کیلئے ہے یا افواج پاکستان کیلئے ہیں؟
جب تک یہ فیصلہ نہیں ہوتا پاکستان کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
انسان اپنی اجتماعی دانش میں اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ ملک جمہوریت کے تحت چلے گا۔ اس کی بنیادی وجہہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہماری انگلیاں جلتی ہے اور وہ یہ تھی کہ جس آدمی کو بندوق کا شوق ہے وہ جا کر سرحدوں کی رکھوالی کریں، جرگے میں بیٹھنا اس کا کام نہیں ہے، جرگہ سسٹم چلائے گا۔
پاکستان ہوا میں لٹکتی کوئی چیز نہیں بلکہ چار بڑی قوموں کے وطنوں پر مشتمل ایک ملک ہے۔ نا کوئی کسی کا مفتوح ہے نا کوئی فاتح۔ نا کوئی کسی کی کالونی ہے نا کوئی آقا۔ ایک رضا کارانہ فیڈریشن ہے لیکن پاکستان کے بنتے ہی آئین نہیں بننے دیا گیا اور اسی کشمکش میں ایک دفعہ ہمارا ملک ٹوٹ گیا۔
ہم اپنی افواج اور اپنی ایجنسیوں سے درخواست کرتے ہیں کہ جو آئین کا حلف آپ نے اٹھایا ہے اس کا آپ خیال رکھیں، جو ہم نے اٹھایا ہے ہم اس کا خیال رکھیں گے۔ سپاہی سے لے کر جرنیل تک، ان کا حلف یہ ہوتا ہے کہ ہم سیاست میں حصہ نہیں لیں گے۔ اپنے حلف کا خیال رکھیں، پاکستان بچ جائے گا۔
زیارت و ہنہ اوڑک سانحہ:
کسی شریف آدمی کو تو استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا یا کسی کو تو نوکری سے نکال دینا چاہیے تھا۔ بس انسان ہیں، مرتے رہیں گے اور آپ بس 'پاکستان زندہ باد' کہتے رہیں گے، پاکستان اس طرح زندہ باد نہیں ہو گا۔
12 بجے زیارت سانحے میں ان لوگوں نے اپنے افسران کو کہا کہ ہماری گولیاں ختم ہو رہی ہیں، خدا کے لیے ہم تک مدد پہنچائیں۔ پانچ بجے تک وہ محنت کرتے رہے، پانچ بجے کے بعد انہوں نے اپنے عزیزوں کو ٹیلی فون کیا کہ ہم بالکل بے بس ہو گئے ہیں، اگر وہ نہیں آتے تو آپ کچھ امداد پہنچائیں۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ، اپوزیشن لیڈر، پشتونخوامیپ کے چیئرمین محمود خان اچکزئى اور دیگر سیاسی پارٹیوں کے قائدین پاکستان تحریک انصاف کے زیر اہتمام پشتون بلوچ صوبہ بلوچستان کے موجودہ صورتحال پر منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں شريک ہے