Currently, my Aunties are still abducted. Family and lawyers have received no update on how they are, nor why they are incarcerated. Concerning my father, there is complete silence.
My brother and I have had no contact with him for more than six months. We do not even know the true state of his health.
Meanwhile, thousands of Pakistanis are peacefully taking to the streets to protest against his illegal and politically motivated imprisonment.
However, the people of Pakistan have not given up. No barricade, intimidation or repression can muzzle the people’s demand for justice and their democratic right to be heard.
There can be no lasting peace or stability while their democratic will is suppressed and their chosen leader remains behind bars.
عمران خان صاحب کو جولائی میں بلڈ پریشر کی شکایت اور پمز کے ڈاکٹروں کی ناکامی کے بعد لندن سے بلائے گئے ڈاکٹر سے علاج کی اطلاع ہمیں مزاکرات کے دوران دی گئی۔ بتایا گیا کہ اگست سے خان صاحب کا بلڈ پریشر بالکل نارمل ہے۔
اگست میں سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے داخل کرائی گئی رپورٹ میں بھی بتایا گیا تھا کہ جولائی میں خان صاحب کو بلڈ پریشر کی شکایت ہوئی تھی۔ اسی رپورٹ کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے 18 اگست کو خان صاحب کی شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کا حکم دیا تھا۔
مزاکرات کے دوران نئی بات جولائی میں لندن کے ڈاکٹر سے علاج کے حوالے سے کی گئی۔
18، 21 اور 25 اگست کو عمران خان صاحب کی بہنوں نورین بی بی اور ڈاکٹر عظمی صاحبہ کی ملاقاتوں کے بعد خان صاحب کی صحت کے حوالے سے بہنوں کے اطلاع قوم کے سامنے ہے۔ 21 اگست کو ڈاکٹر عظمی صاحبہ نے تفصیلی پریس کانفرنس کی تھی جس میں بلڈ پریشر کے حوالے سے بھی سوالات کا جواب دیا تھا۔ بظاہر بلڈ پریشر اگست سے نارمل ہے۔
سوال اٹھایا گیا ہے کہ جولائی میں لندن سے بلائے گئے ڈاکٹر کی اطلاع قوم کو 4 اکتوبر کی بجائے 5 اکتوبر کو کیوں دی گئی؟ مختصر جواب: میں اور دیگر ارکان یہ اطلاع اور مزاکرات کا باقی احوال مزاکراتی ٹیم کے تمام ارکان لے ساتھ کی گئی پریس کانفرنس میں بیان کرنا چاہتے تھے۔ایسی پریس کانفرنس نیچے دئیے گئے حالات کے تناظر میں 4 اکتوبر کو نہ ہو سکی۔
میں 3 اکتوبر کو 1 بجے دوپہر سے 4 اکتوبر کی صبح 3 بجے تک مزاکراتی عمل کے حوالے سے مختلف نشستوں میں شامل رہا۔ حکومتی ٹیم سے میٹنگ سے پہلے ہماری اپنی میٹنگ ہوئی۔ مزاکرات کے اختتام کے بعد بھی پونے چار بجے تک ہماری ٹیم پارلیمنٹ ہاوس میں رہی۔ 4 اکتوبر کے دن کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ میں اگلے دن عمران خان صاحب اور بشری بی بی کی القادر ٹرسٹ کیس میں دائر اپیلوں کی سنوائی کے حوالے سے معاملات طے کیے۔ سلمان صفدر صاحب، لطیف کھوسہ صاحب، حامد خان صاحب اور گوہر خان صاحب سے ٹیلی کانفرنس اور انفرادی گفتگو ہوئی۔
میں مزاکرات کے حوالے سے تمام ممبران کے ساتھ 4 اکتوبر کو ہی پریس کانفرنس کرنا چاہتا تھا۔ پارٹی کے شعبہ اطلاعات نے اطلاع دی کے مزاکراتی کمیٹی کے تمام ممبران میسر نہیں۔ چیئرمین گوہر خان صاحب کی قریبی عزیزہ کی صحت کی خرابی اور پھر قضائے الہی سے وفات کی افسوسناک خبر آئی۔ میں نے بہرحال انگریزی اور اردو میں مفصل ٹویٹس کے علاوہ متعدد ٹی وی پروگرام کیے اور مزاکرات کی ناکامی کی اصل وجہ بیان کی۔
5 اکتوبر کو بھی جب دیگر ممبران کے ہمراہ پریس کانفرنس نہ ہو سکی تو میں نے بابر اعوان صاحب کے ساتھ پریس کانفرنس کی اور خان صاحب کی جولائی کے مہینے میں لندن سے بلائے گئے ڈاکٹر سے علاج کی بات قوم کے سامنے رکھ دی۔
ہم ایک لمحے کیلئے بھی مزاکرات کے دوران یا بعد خان صاحب کے ذاتی معالجین کے ذریعے علاج کے حق سے دستبردار نہیں ہوئے نہ ہونگے۔ اس حق کا نہ دینا مزاکرات کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ تھی۔ لندن سے بلائے گئے ڈاکٹر کی اطلاع ہمارے موقف کی تائید ہے کہ پمز کے ڈاکٹروں سے خان صاحب کا علاج ناکافی ہے۔ خان صاحب کی صحت کی یقینی نگہداشت ان کے ذاتی ڈاکٹروں کے ذریعے ہی کی جا سکتی ہے۔
یہ ظلم کی انتہا ہے کہ عمران خان صاحب کے بہنوئی احد خان، جو شاید کبھی میڈیا پر نہیں آئے اور نہ ہی عدالتوں میں نظر آئے، آج انہیں بھی عدالتوں کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں۔
احد خان کا کہنا تھا کہ عمران خان بھی غیر قانونی طور پر جیل میں قید ہیں، جو لوگ یہ سب کر رہے ہیں وہ اپنی آخرت برباد کر رہے ہیں۔ اللہ نے ججز کو قوم کی اصلاح کا موقع دیا تھا، مگر وہ غلط راستے پر چل پڑے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کی بہنوں کو آپ ہرا نہیں سکتے۔
اہم ، عمران خان کا بلڈ پریشر تین چار ہفتے کنٹرول نہیں ہو رہا تھا پھر لندن سے ڈاکٹر بلوایا گیا تو ان کی ادویات کی وجہ سے بلڈ پریشر کنٹرول ہوا ، سلمان اکرم راجہ کے بقول حکومتی مزاکراتی ٹیم نے دوران مزاکرات انہیں بتایا ہے: صحافی ثاقب بشیر کی خبر
عمران خان کی صحت سے متعلق نیا انکشاف۔
حکومتی مذاکراتی ٹیم نے پی ٹی آئی کے مزاکراتی وفد کو بتایا کہ چار پانچ ہفتے عمران خان کا بلڈ پریشر انتہائی بڑھ گیا تھا اور لندن سے ڈاکٹر کو خاص طور پر بلایا گیا تھا جو بڑی مشکل سے بلڈ پریشر کو کنٹرول میں لایا۔
عمران خان سے ملاقات نہ ہونے دینے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے خان صاحب کی ساتھ کوئی بڑا کھلواڑ کر دیا ہوا ہے اور یہ نہیں چاہتے کہ انکا آزادانہ علاج انکے ذاتی معالج اور خاندان کی نگرانی میں ہو اور رپورٹس میں سے وہ چیزیں باہر آئیں
یہ سنیں
اللہ خیر کرے : تو یہ وجہ ہے کہ عمران خان صاحب سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی ؛ اب اللہ جانے یہاں تک بھی حکومت سچ بول رہی ہے یا جھوٹ - فیملی اور جماعت کے لوگوں کی فوری ملاقات کروانی چاہیئے یہ بہت الارمنگ سیچوایشن ہے
سہیل افریدی کو کل صبح 10 بجے کرک میں کسی منصوبے کا اعلان کرنا چاہیے اور ساتھ ہی وہاں چیف سیکٹری اور ائی جی کو طلب کر لے اور پھر ان کو تگڑا پیغام دینا چاہیے اور ساتھ ہی 144 کمیشنر لگا رہے ہیں اس پر بھی ان کو ہدایت کریں کہ یہ واپس لیں اور جس شہر میں رات رکیں اگلے دن وہاں کوئی افتتاح رکھیں اور ان دونوں کو ہر شہر میں طلب کریں
@SohailAfridiISF@ptio
میرا کیس ملک پرویز اقبال اُموی یڈووکیٹ نے ہینڈل کیا۔ایک سال پہلے بھی انہوں نے ہی ہینڈل کیا تھا ملک صاحب ہزاروں ورکرز کی ضمانت کروانے کے علاؤہ سینکڑوں کے جیل ٹرائل اور کیسز فری میں لڑ رہے ہیں ۔ اس کیلئے جہاں اپنی پریکٹس قربان کردی وہیں قیادت کی طرف سے انہیں صفر سپورٹ ملی
وہ نہیں کہیں گے مگر میں جانتا ہوں کہ چار سال کی اس جنگ میں انکی مالی حالت اتنی تباہ ہو چکی ہے کہ ان کیلئے باقی ماندہ کیسزلڑنا ممکن نہیں رہا
۹ مئی کے اہم ترین چھ مقدمات کا ٹرائل ابھی بینڈنگ ہے جن میں روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردی عدالتوں میں پیش ہونا اس کے علاوہ جیل ٹرائل میں جانا شامل ہے
پوزیشن یہ ہے کہ انہوں نے تھک کر سلمان اکرم راجہ ' بیرسٹر گوہر اور شیخ وقاص اکرم کو خط لکھا جواب میں سلمان راجہ نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ بیرسٹر گوہر نے ٹویٹر پر بلاک کردیا اور شیخ وقاص اکرم نے علیمہ آپا سے رابطے کا کہا
یہ فرض تو پارٹی قیادت کا ہے کہ ان کو فنانشلی سپورٹ کرے اور پارٹی سے محبت کرنے والے لوگ جو صاحب حیثیت ہیں وہ ملک صاحب کی مدد کریں تاکہ وہ کم از کم ان مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کامیاب رہیں۔اور وہ ورکر جو تحریک انصاف کے لیے جیلوں میں قید ہیں یا وہ اپنے ٹرائل فیس کر رہے ہیں ان کے لیے کوئی مشکلات پیدا نہ ہوں
قانون کے میدان میں ان جیسے جنگجو کم ہی ہونگے مگر ایک جنگجو بھی خالی پیٹ آخر کب تک لڑ سکتا ہے
@salmanAraja@BarristerGohar@SheikhWaqqas@SHABAZGIL
I’ve been instructed to call on the public not to attempt to march or protest nearby Adiala jail on 27 March. I’ve heard from sources that this may be used as an excuse for the establishment to launch a “counter” assault on the jail (Which my father is being held in), which could endanger his life. Please do not give them any reasons for “accidents” to happen to my father during the protest.
ایک دفعہ کا زکر ہے، تب کا جب بادشاہ بھلے ظالم ہوں کم از کم خود کو عقلِ کل نہیں سمجھتے تھے، ایک بادشاہ نے اپنے عہد کے ایک ذی عقل سے سوال کیا کہ مجھے طویل مدت تک اقتدار کا گُر بتائیں۔
عقل والے نے کہا لوگوں کے دلوں میں اپنی محبت جگاؤ۔ بادشاہ نے کہا لوگ تو مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔
کہا پھر اپنا خوف پھیلاؤ۔ کہا اتنے عرصے سے اسی کی بنیاد پر تو حکومت کررہا ہوں، اب مگر لوگوں نے ڈرنا چھوڑ دیا ہے۔
کہا گر لوگ ڈر نہیں رہے، تو اقتدار کو بھول جاؤ، اپنا سر بچاؤ۔
۲۰۰۹ کے سوات آپریشن کے وقت کراچی سے چند متاثرین آپریشن کو رینجرز نے ناکے پر سے اٹھایا اور انہیں لاپتہ کردیا گیا۔ سپریم کورٹ میں ان کی برآمدگی کی اپیل ہوئی وہاں سے آرڈر بھی جاری ہوا۔ درگئی فورٹ میں ان کی موجودگی کی تصدیق بھی ہوگئی۔ کچھ عرصہ بعد سوات اور دیر کی سرحد پر فوج اور طالبان کی جھڑپ ہوئ، ہلاک ہونے والے افراد لی فہرست میں وہ افراد بھی تھے جو پہلے ہی فوجی تحویل میں تھے، یہاں تک کہ ان کے حوالے سے سپریم کورٹ کا حکم بھی موجود تھا۔ بلوچستان کی سڑکوں پر پڑی مسخ شدہ لاشیں دیکھیں تو اس واقعہ کی یاد آگئی، عمران خان صاحب نے اس وقت کے آرمی چیف کو ان لوگوں کے حوالے سے خط بھی لکھا تھا۔
سالوں کی غلط پالیسیوں کے باعث بلوچستان میں حالات کو اس نہج پر لے آیا گیا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر درجنوں کے حساب سے فوجی جوانوں کے جنازے اٹھ رہے ہیں اور جوابی سٹریٹجی اور مورال بلند رکھنے کے لیے ان قبیح حرکات کا سہارہ لیا جارہا ہے۔ اب نیا پلان یہ ہے کہ پرائیوٹ ملیشیا بنایا جائے گا۔ فوج سڑکوں سے لے کر مائننگ تک کے ٹھیکے لے گی، اور سیکیوریٹی کا کام پرائیوٹ ملیشیا کو سونپ دیا جائیگا۔
خیبر پختونخواہ میں بُھجی ہوئ آگ کو ایندھن برآمد کر کر کے بھڑکایا گیا۔ ہم چیختے رہے، دہائیاں دیتے رہے ہمیں غدار، ملک دشمن، پراپگنڈسٹ قرار دیے دیا۔ اب امن کمیٹیز کے بعد عوام پر مسلح لشکر بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ کل کو پالیسی بدل جائے گی تو اس لشکر کو فتنتہ ال فلاں نام دے کر ایک اور لشکر کشی کا جواز تراشا جائیگا۔ جیسے کل تک کشمیری مجاہد مُحبِ وطن تھے آج آئین و قانون کے دائرے میں اپنا جائز حق مانگ رہے ہیں تو ہندوستانی ایجنٹ ہیں۔ ان پر ایمپورٹڈ حکومت مسلط کرو انہیں گولیوں سے بھون دو۔
نہروں سے لیکر صوبوں تک کے منصوبوں پر سندھ کی نبض بھی آپ دیکھ چکے ہیں۔ “مرسوں مرسوں سندھ نا دیسوں” کا نعرہ لگانے والا خود مرے گا تو اکیلے تو نہیں مرے گا ناں۔۔
پہلے بھی نہیں مرا تھا۔۔
باقی بچا پنجاب تو گذشتہ چار سال کا جبر ایک جانب اور اس ایک ہفتے کا پاور پلے دوسری جانب۔ کون کون سی بے شرمی کی حدیں نہیں پاٹی گئیں۔ انتظامیہ سے لے کر قانون نافذ کرنے والے اداروں تک کے (بلاتفریق مرد و زن) افسران کی جانب سے جس درجے کی سفاکیت کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ کھولتے تیل میں گر کر جھلس کر مرنے والے شہید کارکن، بے عزتی کی تاب نہ لا کر دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہونے والے شہید عہدیدار، زمیں پر پڑی بزرگ پردہ دار ماں، اپنا ٹوٹا لُٹا پھٹا گھر دکھاتی ہوئی معصوم بچی۔ چہرے پہ کالا کپڑا ڈلا، ہتکھڑیوں میں بندھے ہاتھوں میں اپنی شناختی تختی لیے صحافی، کانپتے حرفوں میں اپنی لُٹی جمع پونجھی کی دہائی دیتا محنت کش مزدور حسنین جس کا جرم دوسرے صوبے سے آئے مہمان وزیراعلی کی مہمان داری کرنا تھا۔ لاہور سے لے کر راولپنڈی کی سڑکوں پر پٹتے نوجوان۔۔ بلوچستان کے لوگوں کے ہاتھوں میں بندوقیں آپ کی نفرت نے تھمائیں۔ پختونخواہ کے لوگوں کو آپ اپنی غلط پالیسی کا کفارہ ادا کرنے کے لیے بندوق اٹھانے پر اکسا رہے ہو۔ کشمیر میں نفرت کی کھیتی بو دی ہے، تو کاٹنی بھی پڑیگی۔ سندھ بھرا بیٹھا ہے۔ کل اسی پنجاب کی ایک ماں کہ جن کے خون کا ایندھن بھر کر جہاز اڑا رہے ہو تاکہ اپنے بچوں کی خوشیاں ہیروں میں لدھ سکو، اسی پنجاب کی ایک ماں نے غربت سے تنگ آکر اپنے بچوں کی گردنوں پر چھری پھیر دی۔ وہ ہاتھ جو پہلے ہی اپنی اولاد کی گردن پا چھری رکھ چکا ہو وہ آپ کی اولاد کی گردن پر ڈلتے کتنا ہی کوئی جھجھکے گا؟ اور آپ کے گریباں سے کتنا ہی عرصہ دور ہوگا؟ سیانے کہہ گئے ہیں جبر کی معیاد پوری ہوجائے تو اپنا سر بچانے کا سوچنا چاہئے کیونکہ اقتدار تو اب بچنا نہیں۔
Former Prime Minister Imran Khan in conversation at Adiala Jail - 24 July 2025
Note: This is a repost of the tweet from 24th July 2025
“We have knocked on every door, but no one has listened. I had asked for dialogue only once, and that too was conditional upon commissions to investigate the events of November 26th (2024) and May 9th (2023) being formed. It was Asim Munir who ordered the shooting of unarmed civilians on November 26th. I reiterate there is no longer any room for dialogue because this group has completely hijacked the entire system.
I have instructed Barrister Gohar, Salman Akram Raja, Ali Amin Gandapur, and Junaid Akbar to ensure the protest movement runs with full force. The objective of this movement must be the restoration of justice, the supremacy of law, and the protection of the Constitution. If we fail to raise our voices in the streets, this group of oppressors will gradually finish off our parliamentary party as well. I am standing firm; all of you must also stand firm.
Eighty percent of the people of Pakistan stand with me and we are entitled to fight for our rights. I am aware that 90% of the electoral fraud took place between polling and the compilation of results. I campaigned for the implementation of Electronic Voting Machines (EVMs) for two years. If EVMs had been used on February 8th (2024), the game would have ended there and then. I still say today: if transparent elections are desired, EVMs must be introduced, and rigging will end once and for all.”
دو دن قبل فارم ۴۷ کا نونی رکن قومی اسمبلی محمود بشیر ورک فوت ہوا کچھ کارکنان نے فارم ۴۷ کے حوالے سے بات سے بات کی چند صحافیوں کا کہنا تھا کہ اللہ کے سپرد کر دینا چاہئے معاملہ
اشتیاق خان کو زبردستی دفنایا گیا پھر اسکے گھر تعزیت کے لئے آنیوالوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے پوری چمڑا انکے گھر کے گردونواح کی گلیاں بند کی ہوئی ہیں میں نے کسی کو مذمت کرتے نہیں دیکھا
منافقت
سرکاری اداروں سے عوام تنگ ہوتی ہے جب انکے اہلکار گرفتار کئے جاتے ہیں تو عوام اس اقدام پر خوشی کا اظہار کرتی ہے لیکن اگر آپ کرپشن کو واقعی ہی ختم کرنا چاہتے ہیں تو یہ دس بیس ہزار لینے والوں کو پکڑنے سے نہیں ہو گی
تمام سرکاری اداروں کا کسی انٹرنیشنل فرم سے Third party Audit کروا لیں بس آپ کو اندازہ ہو جاے گا کہ کرپشن کیا ہے اور کون کر رہا ہے اور کیسے کر رہا ہے
ورنہ یہ کھیل تماشہ لگا ہے ٹھیک ہے دو ماہ گزر جائیں گے اور پھر کچھ اور آ جاے گا