I'm a Web Apps Developer having more than 17 years of experience in developing (eCommerce) websites & customized web applications using Open Source technologies
جن غلط پالیسیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے، ملک و قوم کی جس تباہی کے خدشے کا اظہار کیا تھا وہ تمام خدشات ان چار سالوں میں سو فیصد درست ثابت ہوچکے ہیں، ۲۰۲۳ میں جنوبی اضلاع کے حوالے سے جو حقائق بیان کیے اور کتاب کی صورت مرتب کیے آج آپ گلی محلوں بلکہ سرکاری دفاتر میں لوگوں کی زبانی سن رہے ہیں۔ ابھی تو مالاکنڈ ریجن کے چند واقعات میں آپ کے کردار پر پولیس جوان بولے نہیں، جس دن وہ بولے آپ کے مونہوں پر کیا رہ جائیگا؟
مسئلہ یہ ہے کہ یہاں وارن کرنے والا، جنازے اٹھانے سے پہلے آواز اٹھانے والا، آگ بجھانے والا؛ غدار، دہشت گرد اور باغی بنا دیا جاتا ہے۔ بریکنگ نیوز کے چکر میں قوم بس دن کے ایونٹس پر ریکشن تک محدود ہوگئ ہے۔ آج ہر کسی کی ٹائم لائن پر بنوں لکی مروت کی ویڈیوز تو ہیں لیکن آج بھی دہشت گردوں کو لانے سے لے کر، معصوم لوگوں کی شہادتوں، امن کمیٹیز کے قیام اور لشکر کے نئے بیانیے کو سمجھنے کی کوشش نا کر کے سب اس درندگی کو مزید ایندھن مہیا کر رہے ہیں۔
بلوچستان کے بعد پختونخواہ میں جرنیلوں کی ہوس کی وجہ سے نفرت اس مقام تک آگئی ہے کہ نا ہی کسی پولیس کے تبادلے سے کام ہوگا نا ہی ایک ہفتے میں کئی بار ڈی آئی جیز، ڈی پی اوز اور دیگر کے تبادلوں سے پولیس میں آپ کی نیک نامی ہوگی۔
۲۰۲۳-۲۴ میں عوام کے بعد پولیس میں میڈ اپ دہشت گردی کے خلاف بڑھتی تشویش کے متعلق آپ کو وارن کیا، آج وہ آپ کے سامنے کھڑے ہیں۔
ریاستی چھتری تلے امن کمیٹیز بنانے کے وقت خبردار کیا، آج وہی امن کمیٹیز بھی آپ کی حقیقت جان ک�� آپ سے نبردآزما ہیں۔
آج یہ بھی بتا دوں جو یہ آخری چیز رہتی ہے یہ جو امن لشکر بنانے کی آپ کی کوششیں ہیں جسے اگر آپ زبردستی بنانے میں کامیاب ہوگئے تو ہر شہری کے ہاتھ میں بندوق ہوگی تو جب کل آپ کی پالیسی بدل جائے گی تو ان بندوقوں کا رُخ کس جانب ہوگا کچھ سوچاہے؟
اللہ پاکستان اور پاکستانی قوم کو آپ کے مزید شر سے بچائے۔
Pakistan-administered Kashmir is facing its biggest political crisis in years, with deadly protests ahead of a final round of voting in regional elections.
Al Jazeera’s Ava Warriner explains why the wider territory is divided and what's driving the latest unrest.
کبل، دیر، وزیرستان، ہنگو میں شہادتیں، بلوچستان میں شہادتیں۔ کسی کو علاقہ چھوڑنے کا حکم، تو کہیں فصل تیاری سے قبل کاٹنے کا حکم!!!
جو ڈرون،لڑاکہ طیاروں، دھماکوں، میڈ اپ دہشت گردی کی پہنچ سے دور ہیں ان کے لیے ریاست ہر پر امن اجتماع کو نشانہ باندھ کر مقتل گاہ بنانے کے لیے تیارہے۔
میرے پاکستانیو!
روزانہ بنیادوں پر آئی ایس آئی پی آر کی پریس ریلیزز آ رہی ہیں کہ فلاں جگہ ”کامیاب“ آپریشن کیا، پریس کانفرنسز میں ڈھائی دہشت گردوں کے مدمقابل ایک شہادت کو کارکردگی بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ روز ہماری پولیس کے جوانوں اور شہریوں کی شہادتوں کی خبریں چلتی ہیں اور یوں سیکورٹی سٹیٹ کے نام پر جرنیلوں کی طاقت کا کھیل جاری رہتا ہے۔ ہم ایشوز اور ایونٹس پر ریکٹ کرنی والی قوم، ہم واقعات کو حادثات اور پھر سانحات کے بدلنے کے انتظار میں بیٹھی قوم بس اسی دن اسی ایشو پر ریکشن مانگتے ہیں پھر ایک اور سانحہ ایک اور جنازہ ایک اور آپریشن ایک اور بم دھماکہ، ایک اور ڈی چوک�� ایک اور مرید کے، ایک اور راولا کوٹ۔ اور اگر کوئی ایک واقعے، ایک پالیسی کی نشاندہی کرے، دہرائے، بارہا بتائے، تاریخ کا سبق یاد دلائے تو جرنیل تو غدار قرار دیتے ہی ہیں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ جن کو روز نیا مواد چاہیے وہ کہتے ہیں پرانا چھوڑو اب بتاؤ۔
ڈرون پر ٹویٹ کرو، شہید پر بات کرو۔
بیماری کی جڑ پر کیوں بات نہ کروں؟
اصل وجہ پر کیوں بات نہ کروں؟
میں اگر کہوں کہ دو دفعہ تو قوم کے ساتھ مل کر ان کو نکالا یہی جرنیلی اکاونٹس کہیں گے کہ وہ چھوڑو جو آج حالات خراب ہیں اس کا بتاو، اُس کا کیا؟
کیا ہماری اجتماعی یاداشت اتنی کمزور ہے یا تیز تر خبروں کی دوڑ میں ہم کل کی بات بھی بھولتے جا رہے ہیں؟
چند عسکری ٹاوٹس کے ذریعے اتنا کہا جاتا ہے کہ لمبی بات نہیں، پرانی بات نہیں ابھی کا بتاو، ہمارے نادان دوست بھی اسے بیانیے کا نشانہ بن کر ایشوز پر ریکٹ کرنے تک محدود ہوگئے ہیں اور اسی بیانیے کی آڑ لے کر جرنیل اپنی ڈالری جنگ کی خواہش اور میڈ اپ دہشت گردی سے لے کر نہتے لوگوں پر گولی چلانے تک کے سوال سے بچ نکلتے ہیں۔
میرے پیارے پاکستانیو!
یہ لاشوں کی گنتی آپریشن کے اعداد و شمار اور ہر جنازے پر کندھا دینے والوں کے سوال کے بجائے ان کی ہر پریس ریلیز اور ہر ٹی وی ٹِکر پر سوال اٹھائیں کہ کیوں ہماری زندگیوں کا سودا کرنے کی پالیسی بنائ؟
دہشت گردی آئی نہیں لائی گئی۔
دہشت گرد آئے نہیں لائے گئے اور لا کر بسائے گئے۔
یہ دعوی نہیں گزشتہ چار ساڑھے چار سال کا میرا ہر بیان، ہر ٹویٹ اور بتائی گئی تفصیلات سے واضح ہے۔
ابھی کل ہی کی تو بات ہے یہ آگ جو آج گھر گھر تک آ گئی ہے اسی کی نشاندہی میں کر رہا تھا۔ پاکستان کے ہر چوک، چوراہے میں چیخ چیخ کر بتاتا رہا کہ لگے گی آگ تو آئینگے گھر سبھی زد میں۔ آپ کو بتایا کہ اپنی زندگی داو پر لگا کر مالاکنڈ کا امن اپنی قوم کے ساتھ بحال تو کر لیا لیکن یہ جرنیل فیصلہ کر چکے ہیں۔ یہ پھر وار کریں گے۔ مئی/جون ۲۰۲۲ میں پی ڈی ایم کی حکومت بنتے ہی اس کا ساماں کرلیا گیا تھا۔ دوبارہ پھر ان کو لایا گیا۔ سوال پوچھا کہ نکالنے کے بعد کیا آپ بارڈر محفوظ نہیں کر سکتے تھے؟بارڈر پر لگی باڑ کے باوجود پھر کیسے آئے؟ لیکن خاموشی سے اسی پالیسی کا تسلسل جاری رہا۔ میں ہی غدار۔ میں ریاست کا مجرم۔ میرے پوسٹر لگا کر اس پر غداری کا نعرہ چسپاں کروایا۔ مقدمے ایسے کہ سزا موت۔ سر کی قیمت الگ۔ ایک مرتبہ پھر انہیں اپنے لائے ہوں کو واپس بھیجنے پر مجبور کیا تو وہ ریاست جو دہشت گردوں کی موجودگی سے ہی انکاری تھی ان کو واپس لوٹا کر، ان کے جانے پر پریس ریلیز جاری کرکے کریڈیٹ لینے لگی کہ بس تھوڑے سے تھے، بروقت کاروائی سے نکال دیے حالانکہ حقیقت میں جب قوم اٹھ کھڑی ہوئ اور پولیس نے ان کے گرد گھیرا تنگ کرلیا تو ان کا فقط اتنا کردار تھا کہ گاڑیاں لا کر انہیں سیف ایگزیکٹ مہیا کیا۔
پھر جب نو مئی کا بہانہ کرکے پی ٹی آئی اور ہم سب کو کرش کیا جا رہا تھا اس وقت جنوبی اضلاع میں انہیں دوبارہ داخلہ مہیا کیا گیا اور یوں ہر سمت آگ پھیلائ گئی۔ ڈرون، لڑا��ا طیارے، ٹارگٹ کلنگ، دھماکے۔۔ کب تک بند کمروں کے فیصلوں سے عام شہری سے لے کر فوج اور پولیس کے جوان تک شہید ہوتے رہیں گے؟ ہاں وطن پر جان نچھاور کرنے کا عزم کیا ہے مگر تم پہ مرنے کے لیے تو نہیں جنے گئے تھے یہ بیٹے۔
1/2
ڈی جی آئ ایس پی آر صاحب!
ی�� پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ میں نے سوال آپ پر اٹھایا ہو اور جواب مجھے دوسری جانب سے ملا ہو۔ اپریل ۲۰۲۳ میں بھی یونہی آپ پر سوال اٹھانے کا جواب مجھے میرے گاؤں میرے لوگوں کو لہولہان کرکے ملا تھا اور آج پھر کبل سوات میں ہونے والے امن پاسون پر حملے اور امن کا سفید جھنڈا لی کر نکلنے والے ہمارے معصوم شہریوں کو لہولہان کیا گیا ہے۔
امن پاسون کا اعلان ہوتے ہی امن تحریک کے پرانے ساتھی اور اولسی پاسون کے خلاف جو کریک ڈاون ہوا اس سے واضح تھا کہ امن کے نام سے کس کو نفرت ہے۔ آج کے امن پاسون کو روکنے کی کوشش ناکام ہوئی تو دھماکہ کروایا گیا۔ اس کا ایک ہی مقصد ہے کہ جو قوم میڈ اپ دہشت گردی کی کئی کوششوں کو ناکام بنا کر اپنا امن قائم کر چکی ہے اس دفعہ ان کے اجتماعات پر دھماکے اور فائرنگ سے خوف پیدا کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کیے جائیں۔
کئی دفعہ مالاکنڈ س�� ریاست کی چھتری تلے دہشت گردوں کو بسانے کی کوشش کو ہم نے ناکام بنایا۔ پچھلے سال سے پھر کوشش جاری تھی اور کچھ عرصہ قبل میں نے پوری تفصیل بیان کی کہ بیس دہشت گردوں کی سوات، پندرہ شانگلہ، دس بونیر اور اس طرح دیر تشکیل ہوگئی ہے۔ سات مہینے پہلے پختونخواہ حکومت کو بھی آگاہ کیا۔ کتاب میں ان کو باجوڑ سے روٹ لگا کر لے جانے اور پھیلانے کی پوری تفصیل لکھ دی۔ سوات میں پرسوں جو خیبر پختونخواہ پولیس کے جوانوں کی شہادتیں ہوئی ہیں اس واقعے کی تفصیلات اتنی خطرناک ہیں کہ متعلقہ لوگ سب جانتے ہوئے بھی خاموش ہیں کہ ”گیم بڑی لگ رہی ہے کچھ کہیں گے تو مارے جائینگے“۔ مارے جانے کا ساماں تو ��یاست کر چکی ہے بس فیصلہ یہ کرنا ہے آپ نے کہ پھر سے بے گھر ہونا ہے، ایک ایک کر کے نشانہ بننا ہے یا اسی طرح ان کو نکال باہر کرنا ہے جس طرح ہم پہلے کئی بار کر چکے ہیں۔ جنوبی اضلاع میں پولیس نے کھل کر اس ڈبل گیم پر اعتراض اٹھایا سوات اور مالاکنڈ پولیس سے گزارش ہے کہ پردہ پوشی چھوڑیں، دیکھ لیجئے آج پھر آپ نشانہ بن گئے۔کھل کر پچھلی دفعہ ڈی ایس پی کو گولی لگنے اور پھر مٹہ کے پہاڑوں میں پولیس کے اغوا کی کہانی قوم کے سامنے رکھیں۔ ۲۰۲۳ میں کبل سی ٹی ڈی پولیس لائن پر ہونے والے حملے کی حقیقت قوم کے سامنے رکھیں جس کو شارت سرکٹ کہہ کر دبایا جارہا تھا۔ پرسوں جو شہادت ہوئی جس کا ذکر آپ نے بند کمرے میں کیا قوم کے سامنے وہ حقیقت رکھیں ورنہ یونہی فرنٹ لائن پر رہتے ہوئے جنازے اٹھاتے رہیں گے۔ اداروں کے کہنے پر امن کی آوازوں کو حراساں کرنے کا سلسلہ روکیں کیونکہ ان کی پالیسی تو بدل جائے گی بے گھر ہم نے ہونا ہے۔ قیمت ہم نے مل کر ادا کرنی ہے۔ سوال پوچھیں کہ آخر یہ چھپن چھپائی یہ لانا، بسانا، جنازے اٹھانا اس سے کونسا ملک کا مقصد حاصل ہو رہا ہے جس کی ہمیں سمجھ نہیں۔ جھوٹ بولنے اور ہمارے جنازوں کے اعداد و شمار دکھانے کی بجائے ایک دفعہ سچ پر مبنی بریفنگ دے کر اپنی پالیسی بدلیں۔ اور کان کھول کر سن لیں کہ آج کا یہ ترقی یافتہ مالاکنڈ ریجن یہ سیاحت ترقی اور امن کا گہواہ مالاکنڈ ہم نے ۲۰۱۳ کے بعد سے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے اور کسی کو اس کا امن تباہ نہیں کرنے دیں گے چاہے وہ آنے والے ہوں یا لانے والے!
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی ��ہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
بریکنگ سرکاری اعدادوشمار
غربت پاکستان کی ۱۱ سال تاریخ کی بلند ترین ۲۹ فیصد شرح تک پۂنچ گی
آمدن میں عدم مساوات تاریخ کی ۲۷ سال کی بلند ترین سطح پر پۂنچ گی۔
بے روز گاری ۲۱ سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گی۔
آئی ایم ایف پروگرام، روپے کی بے قدری، غیر تسلسل پالیسیاں چند اہم وجوۂات
One of the most underrated quality about Imran Khan is his foresight. He had predicted that the imported govt will sell out Palestine for their own interests; and that’s what happened!
Regime Change is proving to be the biggest National Security risk.
#900DaysOfInjustice
Sovereign Constituent Assembly ❌ Civilian supremacy ❌ Judicial independence ❌ Minority rights ❌ Friends with the neighbours ❌ But we’re still so so confuje over what the Quaid e Azam Jinnah really wanted ?
یہ بات @reema_omer کی بلکل ٹھیک ہے کہ پہلے نیشنلزم اور پاکستانیت اداروں سے جوڑی جاتی تھی اب عمران خان سے جوڑی جاتی ہے۔
یہ چھیننے کا کوئی شوق نہیں تھا، مگر باجوہ، عاصم منیر اور فوج کے بڑوں نے اپنی منافقت اور ظلم سے عوام کو ادارے سے بہت دور کردیا اور آج عوام کا سارا مان اور بھروسہ عمران خان پر ہے!
آج کی نوجوان نسل دلیل سے بات کرتی بھی ہے اور دلیل ہی سے قائل ہوتی ہے۔ اس با شعور نسل کو ڈرا کر، دھمکا کر اور ہر روز نئے چہرے اور نئے بیانیے لانچ کرکے آپ brainwash نہیں کر سکتے۔۔۔!!
#ImranKhanTillLastBall
عاصم منیر اور ان کی ٹیم عمران خان سے کافی پریشان اور جیلیس ہوتے ہوں گے۔ تین سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا مگر عمران خان کی پوپولیریٹی میں کمی تو دور کی بات ، اور زیادہ اضافہ ہو رہا ہے ہر دن۔ سہیل آفریدی نے جو عوال کو جوش دلا رکھا ہے وہ تو اور ڈراتی ہوگی ان سب کو، کسی دن کال آگئی تو ٹکر کے لوگ اپنا مشن پورا کئے بغیر نہیں جائیں گے!
SIFC failing big time !!!
It’s not just Procter & Gamble’s (including Gillette) who is exiting Pakistan, here are some more notable multinational companies that have exited or are in the process of exiting Pakistan:
•Sanofi-Aventis (Pharmaceuticals), April 2023
•Shell Pakistan (Energy), Mid 2023
•Bayer (Pharmaceuticals), June–July 2023
•Telenor (Telecom), December 2023
•Pfizer (Pharmaceuticals), May 2024 (asset sales)
•TotalEnergies (Energy), 2024 (stake sale)
•Eli Lilly (Pharmaceuticals), November 2022 (ceased manufacturing)
•Microsoft (Technology), July 2025
•Careem (Ride-hailing), July 2025
List via @javedhassan
Does anyone have a full list of multinational companies exiting Pakistan since regime change?
“You just claimed that India is controlling Imran Khan’s Twitter account. What evidence do you have for this?”
Watch @mehdirhasan grill Pakistan’s Defense Minister Asif Khawaja in this preview of Zeteo’s exclusive interview.
مٹہ، سوات امن پاسون؛ عوامی طاقت سے دو مرتبہ دہشت گردوں کو نکالنے کے بعد ایک دفعہ پھر حالیہ سیلاب کے دوران ریاستی سرپرستی میں دیر سوات مالاکنڈ کی طرف تشکیل ہوئی/کروائی گئی ہے، جس کا میں نے تین ہفتے قبل ذکر بھی کیا تھا کہ اب ان علاقوں کے ا��ن پر بھی میڈ اپ دہشت گردی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ریاست ماضی کی طرح ایسی کسی ڈیولپمنٹ سے انکاری ہےلیکن کچھ عرصے بعد اپنے مضموم مقاصد کے حصول کے لیے مگر مچھ کے آنسو بہا کر بیانیہ بنایا جائے گا۔ کل کی طرح آج بھی ہمارا پیغام واضح ہے ڈالری جنگ نامنظور،آپریشن نا منظور،ڈرون حملے نامنظور،بے گھری نا منظور اور وسائل پر قبضہ نامنظور !
پچھلے جمعے کو تمام قومیتوں کے امن مشران نشتر ہال میں جمع ہوئے اور متفقہ طور پر قرارداد منظور کی۔میں پاکستان تحریک انصاف کی اپنی قیادت سے گزارش کرتا ہوں کہ اس قرارداد کی حمایت اور جرگے کی طرف سے آنے والے تمام امن پاسون میں تنظیموں کو شرکت کی ہدا��ت جاری کی جائے کیونکہ یہی مطالبات ہمارے لیڈر عمران خان کے بھی ہیں اور انہوں نے بھی آپ کو اس ڈالری جنگ کے خلاف کھڑے ہونے کو کہا ہے۔میں تحریک تحفظ آئین پاکستان اور اس میں شامل تمام جماعتوں سے بھی یہی گزارش کرتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ تمام اراکین اسمبلی بھی پچھلے ہفتے نشتر ہال میں ہونے والے جرگے کی قرارداد کی حمایت کرینگے اور اعلی اعلان کرینگے۔ آئی ایل ایف سے گزارش ہے کہ وہ امن پاسون کے ساتھیوں کی قانونی معاونت کریں۔شکریہ!
”عمران خان کو دہشتگردی کے خلاف کاروائ�� پر کوئی اعتراض نہیں” مگر سوال یہ ہے کہ کون سی دہشت گردی؟؟ وہ سیلف کرئیٹڈ دہشت گردی جو پراپگینڈہ تھی؟ جس کے بارے میں آگاہ کرنے پر مجھ پر غداری کے مقدمے ہوئے؟ وہ دہشتگردی پہلے جس کے denial میں آئی ایس پی آر کے بیانات آئے اور پھر ۴۸ گھنٹوں کے عوامی الٹی میٹم کے سبب ان کی فوجی ٹرکوں میں واپسی کا کریڈٹ لیا گیا؟
اور دہشت گرد کون؟ وہ جن کی آبادکاری کے حق میں پہلے آرمی چیف ڈی جی ایم او اور ڈی جی آئی ایس آئ کی جانب سے وزیراعظم اور کابینہ اراکین کو دلائل دیے گئے اور پھر ہمارے سوالوں پر جھاگ اڑاتے آرمی چیف کوئی دلیل نہ ہونے پر جھاگ کیطرح بیٹھ تو گئے، مگر رجیم چینج کراکر نگران حکومت میں انہی لوگوں کو جنوبی اضلاع میں لا کر آباد کر دیا۔۔ اسی باڑ سے گزار کر جس پر نیشنل سیکیوریٹی کے نام پر اس غریب قوم کا اربوں روپے برباد کیا گیا؟ (وہ باڑ جس کا ٹھیکہ بھی ان کے ذیلی ادارے کو ہی ملا، جن کے معاملات پر سوال اٹھانے کو نعوذباللہ شہدا کی توہین گردانا جاتا ہے)
عمران خان ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف اور امن کے ساتھ ہے اور اسی لیے وہ اس میڈ اپ دہشت گردی کی جنگ میں اپنی قوم کو جھونکنے کے خلاف ہے۔
تصحیح ضروری ہے؛ عاصم منیر اینڈ کو کی بین الاقوامی طاقتوں کی خوشنودی اور خیبر پختونخواہ کے معدنیات پر قبضہ کے لیے سٹیج کی ہوئ جنگ ہرگز خیبر پختونخواہ کی عوام کی جنگ نہیں ہوسکتی نہ ہی ایسی کسی جنگ کو عمران خان کی حمایت حاصل ہوسکتی ہے۔
“میں عاصم منیر کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کے ماننے والے ہیں۔ ہم نے عہد کیا ہے کہ ہم جب تک زندہ ہیں یزیدیت اور فرعونیت کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے کیونکہ ہم اللہ کے سوا کسی بھی انسان کے آگے جھکنے کو شرک مانتے ہیں۔ مجھ پر اور بشرٰی بی بی پر جیل میں جو ذہنی تشدد ہو رہا ہے وہ عاصم منیر کروا رہا ہے اور اسکی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم جھک جائیں یا ٹوٹ جائیں-
جنرل یحیٰی خان کو فوج نے ملک چلانے کے لیے منتخب نہیں کیا تھا بلکہ اس نے فوج کا کندھا استعمال کر کے ڈکٹیٹر شپ کی اور ملک میں ظلم و جبر کا بازار گرم کیا۔ اپنے دس سالہ اقتدار کی لالچ میں اس نے ملک دو لخت کر دیا۔ آج عاصم منیر بھی اسی طرز پر فوج کا کندھا استعمال کر کے ملک میں لاقانونیت اور فسطائیت کا ماحول بنائے ہوئے ہے۔
عاصم منیر نے اپنے دس سالہ ناجائز اقتدار کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔ سب سے ��ہلے جمہوریت کا گلا دبوچا، نو مئی کا فالس فلیگ کر کے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کچلا گیا، پھر 8 فروری کو انتخابات میں عوام نے جب تحریک انصاف کو بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے اور تحریک انصاف نے کلین سویپ کیا تو اس مینڈیٹ کو بے شرمی سے چرا لیا گیا۔ عوام کا مینڈیٹ چرا کر سزا یافتہ لوگوں کو اقتدار دے دیا گیا۔ اس کے بعد عدلیہ کو مفلوج کیا گیا اور چھبیسویں ترمیم کے ذریعے ججز کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے۔ عدلیہ کو سرکاری ادارے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
تیسرے نمبر پر میڈیا کی آزادی پر قدغن لگا دی گئی ہے، آزاد میڈیا کا تصور پاکستان سے بالکل ختم ہو چکا ہے۔ نہایت مشکل سے پاکستان میں جیسی تیسی جمہوریت کے تسلسل سے یہ دو چیزیں، کسی حد تک خود مختار عدلیہ اور آزاد میڈیا تھا، مگر عاصم منیر کی وجہ سے ان دونوں کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ ملک میں اس وقت جمہوریت معطل ہے، انسانی حقوق کی پامالی عروج پر ہے، عدلیہ غلام اور میڈیا خوفزدہ ہے۔
عاصم منیر جب سے چیف بنا ہے افغانستان کے ساتھ حالات خراب کرنے کی کوشش میں ہے۔ چیف بنتے ہی پہلے افغانستان کو دھمکیاں لگائیں، پھر تین نسلوں سے مقیم افغانیوں کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا پھر وہاں ڈرون حملے کیے اور پوری کوشش کی کہ ان کو اکسا کر پاکستان سے جنگ کروائی جائے اور پاکستان میں دہشتگردی کا ماحول بنایا جا سکے تاکہ مغرب میں موجودہ افغان حکومت کی مخالف لابیز کو "مجاہد" بن کر دکھا سکے کہ میں ہی ہوں جو دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ سکتا ہوں۔
جبر کے اسی نظام کے باعث پاکستان میں اس وقت معیشت بھی تاریخی سست روی کا شکار ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری بالکل صفر ہے۔ پاکستان کی تار��خ میں کبھی اتنی کم سرمایہ کاری نہیں آئی جتنی اس دور میں ہوئی۔ تین سال میں ملک پر قرضہ دگنا ہو چکا ہے۔ ہر پاکستانی اس وقت قرضے کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔ جب تک ملک میں عوامی حکومت قائم نہیں ہو گی معاشی مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔
ملک میں اخلاقیات کا جو جنازہ اٹھا ہوا ہے اس کی بھی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ جو ک��م جنگوں میں بھی نہیں ہوتے وہ یہاں عوام کے ساتھ کیے گئے ہیں۔ عورتوں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا ہے، بچوں کو اٹھا کر ہراساں کیا گیا، بزرگوں کا تقدس پامال کیا گیا ہے۔ کبھی کسی سیاستدان کے گھر کی غیر سیاسی خواتین کے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا جو میری اہلیہ اور دیگر گھر والوں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ جب ملک کا اقتدار ان چور لٹیروں کے ہاتھوں میں دے دیا جائے گا جن کی کرپشن کی داستانوں سے بچہ بچہ واقف ہے تو اخلاقیات ایسے ہی تباہ ہوں گی”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (17 ستمبر، 2025)
1/2