سماء نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، مالی سال 25-2024 کے دوران 18 غیر ملکی کمپنیوں نے پاکستان میں اپنا کاروبار بند کر دیا ہے۔
رپورٹ میں بجلی کی بلند قیمتوں اور سخت ریگولیٹری اقدامات کے نفاذ کو ان کمپنیوں کے انخلا کی اہم وجوہات قرار دیا گیا ہے۔
Iranian media report that a home in the Kohestak area of Sirik County, Hormozgan Province, was attacked during a wedding ceremony, leaving five people dead and 68 others injured.
According to reports, children are among the injured.
#Iran#Hormozgan#Sirik
گزشتہ ایک سال کے دوران افغان وزارتِ دفاع کی اہم اور نمایاں کامیابیاں:
آپریشنز:
۱۴۴۷ ہجری قمری سال کے دوران مجموعی طور پر ۶۰۲ آپریشنز کیے گئے، جن میں دشمن کے پیچیدہ منصوبوں، ٹھکانوں اور خطرناک نیٹ ورکس کو بے نقاب کرکے ختم کیا گیا۔
مہاجرین کی منتقلی اور امداد:
وزارتِ دفاع کے ۲۷۵ اہلکاروں کو ۶۰ مختلف قسم کی گاڑیوں کے ساتھ مسلسل تعینات کیا گیا ہے، تاکہ مہاجرین کو سرحد اور فرضی لکیر سے کیمپوں تک، اور کیمپوں سے صوبوں تک منتقل کیا جا سکے، اور انہیں سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
مجموعی طور پر وزارتِ دفاع نے مہاجرین کے لیے ۳ کیمپ قائم کیے ہیں اور ہر کیمپ میں ایک ایک کلینک بھی بنایا ہے۔ ہزاروں خاندانوں کو غذائی اور غیر غذائی اشیاء کے ساتھ ساتھ لاکھوں افغانی نقد امداد فراہم کی گئی ہے۔ ہزاروں خاندانوں کو کیمپوں میں اور کیمپوں سے صوبوں تک منتقل کیا گیا ہے، اور یہ عمل اب بھی جاری ہے۔
تعلیم:
افغانستان کی اسلامی فوج میں ۲۰۷۵۱ اہلکاروں کو تعلیمی اداروں میں داخل کیا گیا، جبکہ ۱۹۷۵۳ اہلکار فارغ التحصیل ہو چکے ہیں۔
سرحدوں کی حفاظت:
افغانستان ۱۹ صوبوں اور ۹۰ اضلاع کے راستوں کے ذریعے ۶ ہمسایہ ممالک کے ساتھ ڈیورنڈ فرضی لکیر اور سرکاری سرحدوں کے ذریعے منسلک ہے۔ سیکیورٹی خطرات کی روک تھام کے لیے سرحدی فورسز کو ضروری وسائل، سازوسامان اور سہولیات کے ساتھ مقررہ علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے اور وہ ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
سیکیورٹی فراہمی:
گزشتہ سال کے دوران ۲۸۵۸ ہلکے اور بھاری ہتھیار، ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کے ۲۵۸۵۴ کارتوس/گولیاں، مواصلات کے ۷ آلات، دوربین کے ۱۰ جوڑے، ۷ دستی بمیں، ۱۶۹ بارودی سرنگیں اور ۲۳۲ گاڑیاں، ۷۰۸۸ بھینسیں، ۱۱۹۴ گائیں، ۱۲۲۳۶ بھیڑیں، ۱۱۲۵۸ کلوگرام افیون، ۴۱۸۲ کلوگرام چرس، ۵۸ کلوگرام کرسٹل میتھ (آئس)، شراب کی ۱۷ بوتلیں، ۲۶ موٹر سائیکلیں، رینجرز کی ۱ گاڑی اور ۱ سگنل جیمر کے ساتھ ساتھ ۸۰۴ اسمگلرز کو گرفتار کر کے لے کر متعلقہ ادارے کے حوالے کیا گیا ہیں۔
اس ویڈیو کو دیکھیے اور ملاحظہ فرمائیے-
کیا یہ تباہی قدرتی ہے؟
نہیں یہ تباہی حکومت کی اپنی پیدا کردہ ہے-
حکومت نے طاقتور لوگوں کے لیے الگ راستے اور سہولیات فراہم کیں، جبکہ غریب عوام کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ جیسے ہی بارش ہوتی ہے غریب عوام کا سب کچھ تباہ ہو جاتا ہے اور ان کی برسوں کی جمع پونجی پانی کی نظر ہو جاتی ہے، ایک لمحے میں ان کی زندگی بھر کی کمائی اور محنت ختم ہو جاتی ہے-
#فیصلہ_اب_سڑکوں_پر_ہوگا
پاکستان میں اس وقت 12 کروڑ افراد غربت کی زندگی گزار رہے ہیں اور 4 کروڑ بے روزگار ہیں۔ جبکہ معاشی شرحِ نمو صفر پر ہے۔
پاکستان کے سابق وزیرِ خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا
🚨🚨🚨 #کشمیر
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں خواتین بھی پاکستانی حکومت کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔
یہ احتجاج جاری جبر اور مبینہ زیادتیوں کے خلاف کیا جا رہا ہے، جبکہ ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ بڑی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
US Vice President-elect JD Vance has stated that a key lesson regarding potential conflict with Iran is that the country's leaders are prepared to take extreme measures to disrupt the flow of oil and gas through the Gulf.
Vance added that a significant portion of US regional activity is now focused on securing the free movement of shipping and international trade through the Strait of Hormuz.
#USA #Iran
#JDVance #Hormuz
باپ گھر کی چھت کی مانند ہوتا ہے، ایک بغیر چھت کی گھر میں رہنا کیا ہوتا ہے؟ ان معصوم بچوں سے پوچھیں، جو سالوں سے باپ کی شفقت سے محروم ہیں اور یتیموں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں-
#ReleaseAsifAndRasheedBaloch#EndEnforcedDisappearances
🚨 #بریکنگ_مستونگ
کوئٹہ-کراچی قومی شاہراہ پر چوٹو مل کے قریب سڑک کنارے زوردار بم دھماکہ، جس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔
ذرائع کے مطابق، مستونگ کے علاقے چھوٹو میں دھماکے کے نتیجے میں ایک سرکاری عمارت تباہ ہوگئی۔
وردی عزت دیتی ہے، استثنا نہیں۔
اختیار ذمہ داری دیتا ہے، بدمعاشی کا لائسنس نہیں۔
وردی کسی کو شہری کی تذلیل اور تشدد کا لائسنس نہیں دیتی۔
مگر یہاں سب برعکس ہیں، افسوس!
مسلسل شدید اور طوفانی بارشوں کے بعد راولپنڈی کی سڑکوں پر کشتیوں کے چلنے کے مناظر۔
یہ پاکستان کے مشہور ترین شہر راولپنڈی کی صورتحال ہے۔
اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عاصم منیر نے ملک کی کتنی "خدمت" کی ہے۔ 😁
Key notes from the Address by H.E. Ambassador Sardar Ahmad Shakeeb, at National Defence University (NDU)-Islamabad:
1- Afghanistan and Pakistan are not merely two neighboring countries. Our geographies are interconnected, our peoples and societies share deep ties, and our histories are intertwined in many respects. Trade, transit and the movement of people connect our economies and societies. At the same time, the wars and security developments of the past several decades have created a situation in which the security calculations of both countries are also deeply interconnected.
2- Political, security, and economic issues in Afghanistan affect Pakistan, just as developments in Pakistan affect Afghanistan. This is a geographic and strategic reality that neither country can change. But we do have a choice: whether to regard this interdependence as a source of crisis, or to utilise it as an opportunity for stability, security, and shared economic interests.
3- Both countries must move beyond outdated assumptions about each other’s present realities. Today’s Afghanistan should not be assessed through the lens of the past several decades. Afghanistan is not the Afghanistan of the Cold War. It is not the Afghanistan of the 90s, nor it is the Afghanistan that existed after 2001 under the direct influence of foreign military presence and foreign political involvement. After 2021, a new political reality has emerged in Kabul.
4- Afghanistan doesn’t want its soil to be used against Pakistan. At the same time, Afghanistan cannot accept that Pakistan’s security concerns should become a justification for military action on Afghan territory. If cooperation is expected from Afghanistan regarding specific concerns, Afghanistan likewise wishes to engage directly with Pakistan, regarding its own security concerns.
5- Pakistan has concerns regarding potential security threats from Afghan soil and Afghanistan fully understands these concerns. However, Afghanistan equally emphasizes that security-related allegations should be specific, exact and linked to concrete information, identifiable individuals, specific networks and particular cases.
6- Pakistan has its national interests. Afghanistan has its national interests. Being neighbors does not mean that one state must endorse all another state’s strategic choices. It means that both states should be able to make independent decisions while, at the same time, taking each other’s valid security and national concerns into consideration.
7- Afghanistan’s relationship with one country should not be interpreted as a position directed against another country. An independent state can maintain relations with several countries, even with those countries who do not have good relations with each other, without its relationship with one being seen as hostility towards another.
8- Today, despite the crisis in the region, the closure of routes by Pakistan, and the arrival of millions of returnees, Afghanistan has continued to make progress and move forward. Its political and economic partnerships in the region have expanded, confidence has grown, and, instead of the externally dependent economy of the twenty-year occupation, Afghanistan has now laid and strengthened the foundations of a genuine and sustainable national economy.
9- Afghanistan does not want: A:To face the logic of external pressure regarding its sovereignty and internal affairs. B: Military action to become a substitute for diplomatic engagement. C: Collective punishment of Afghan citizens to become a means of resolving security problems. D: Trade and transit to be used as instruments of political pressure.
بھارتی وزیرِاعظم کا شنگھائی تعاون تنظیم سے خطاب:
ایشیا میں استحکام اور سلامتی افغانستان پر توجہ دیے بغیر مشکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم افغان عوام کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں اور افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید جاری رکھیں گے۔🏳️🤝🇮🇳
#الرٹ
اطلاعات کے مطابق، بلوچستان کے علاقے پشین میں مبینہ ٹی ٹی پی عسکریت پسندوں نے ایف سی کی چوکی، کسٹمز آفس اور پولیس چوکی پر حملہ کیا۔
اس کارروائی میں 15 سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ حملہ آوروں نے اسلحہ قبضے میں لیا، ایک ڈرون مار گرایا اور تنصیبات کو نذرِ آتش کر دیا۔
کل رات خیبر پختونخوا کے ضلع مہمند میں مقامی باشندوں نے علاقے کو غیر محفوظ بنانے کے لیے سول کپڑوں میں آنے والے 20 فوجیوں کو گرفتار کر لیا۔
ضلع مہمند کے مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے آج رات سول کپڑوں میں ملبوس 20 فوجیوں کو گرفتار کیا، جو مبینہ طور پر ضلع میں بدامنی اور انتشار پیدا کرنا چاہتے تھے۔
مقامی باشندوں کے مطابق، فوج یہ کارروائی اس لیے کرتی ہے تاکہ علاقے کو غیر محفوظ ظاہر کیا جا سکے اور لوگوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا جائے، تاکہ وہ علاقے کے معدنی اور قدرتی وسائل پر کنٹرول حاصل کر سکیں۔
پشین میں جھڑپوں کے دوران پولیس اور کسٹمز کی عمارت کو دھماکے سے اڑانے کی اطلاعات!
مقامی ذرائع کے مطابق، پشین میں زیارت کراس کے قریب ’گھرکی‘ کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے بعد مسلح افراد نے مبینہ طور پر پولیس اور کسٹمز کی عمارت میں دھماکہ خیز مواد سے دھماکہ کیا۔ مقامی اطلاعات میں متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کئی گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔
جانی نقصان کی تعداد اور دیگر تفصیلات تاحال واضح نہیں ہیں۔ آزادانہ تصدیق کا عمل ابھی باقی ہے۔