A personal plea to @elonmusk
My two sons have not been allowed to see or speak to their father Imran Khan who has been held unlawfully (acc to the UN) for 22 months of solitary confinement.
X is the only place left where we can still tell the world he is a political prisoner without basic human rights.
Yet every time I post about him, the reach inside Pakistan (and often globally) is throttled to almost zero.
You promised free speech, not “speech but no one hears it”.
Please fix the visibility filtering on my account so we can get the message out! @MarioNawfal
“The military operation in Khyber Pakhtunkhwa must be stopped immediately. ANP was made unpopular through similar actions in the past. Launching operations against our own people merely to please foreign powers does not improve the situation; it only makes it worse. In these operations, on one side our security forces are killed, and on the other, our citizens lose their lives. Killing one’s own always leads to an increase in terrorism. Drone strikes taking place in Afghanistan and Pakistan must also be halted immediately.
I instruct all members of provincial and national assemblies and the senate who are from Khyber Pakhtunkhwa to come together and resist these operations and drone strikes against our own people, and to work for peace so that issues can be resolved through dialogue. At a time when people are already suffering from floods and unbearable inflation, they are now being subjected to military operations as well. This is extremely painful. History bears witness that apart from negotiations, there has never been any lasting solution to peace.
Afghanistan is our brotherly Muslim country. Afghan refugees have been living here for three generations. When the Holy Prophet (Peace Be Upon Him) migrated to Madinah, the people opened their doors for him, and for this reason the Ansar (helpers) of Madinah are honored to this day. Yet we have made life unbearable for our Muslim brothers. Forcibly expelling refugees is deeply regrettable. Asim Munir is doing all this merely to appease the anti-Taliban lobby, deliberately imposing war in a place where no war exists. These measures must stop immediately, otherwise the situation will deteriorate further.”
Former Prime Minister Imran Khan’s conversation with his sisters in Adiala Jail (10 September 2025)
2/3
“1971 میں جب سقوط ڈھاکہ کا افسوسناک سانحہ پیش آیا تب بھی ایک ڈکٹیٹر یحیٰی خان ملک پر مارشل لاء نافذ کر کے کرتا دھرتا بنا ہوا تھا۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد حمود الرحمان کمیشن بنا جس نے بتایا کہ یحیٰی خان نے اپنے ذاتی مفاد اور اپنے ناجائز اقتدار کو دس سال تک طول دینے کے لیے ایسے فیصلے کیے جس سے پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا۔
حمودالرحمان کمیشن رپورٹ اعلیٰ عدلیہ سمیت آرمی، نیوی اور ائیر فورس کے نمائندوں کی تحقیقات کے بعد بنائی گئی- ان تحقیقات کے دوران سینکڑوں لوگوں کے بیانات ریکارڈ کروائے گئے اور 4 سال اس سانحے کی وجوہات پر تحقیقات کی گئیں۔
حمود الرحمان کمیشن کے مطابق ایک شخص کی ہوس اور انا نے ظلم و جبر کا وہ باب رقم کیا جس کے بعد ملک ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا۔سب سے غلط فیصلہ شیخ مجیب الرحمان کی مقبول ترین جماعت عوامی لیگ کو دبانے کا تھا۔ جس پارٹی نے 162 میں سے 160 نشستیں جیتیں اسے دیوار سے لگا دیا گیا اور مجیب الرحمان کو جیل میں ڈال کر مغربی پاکستان میں اپنی نشستیں بڑھا کر دکھائی گئیں۔ 24 مارچ 1971 کو مجیب الرحمان کے ساتھ مذاکرات شروع کیے گئے مگر اسی رات بنگالیوں کے خلاف آپریشن لانچ کر دیا گیا جس میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 50 ہزار افراد کا خون بہا جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
آج پاکستان میں وہی حالات بنا دئیے گئے ہیں جو 1971 میں تھے۔ عاصم منیر نے نو مئی کا فالس فلیگ ملک کی مقبول ترین پارٹی تحریک انصاف کو کچلنے کے لیے کروایا۔ دو راتوں میں تحریک انصاف سے منسلک دس ہزار سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ 10 ہزار لوگوں کو دو راتوں میں بغیر تحقیق گرفتار کر لیا جائے؟ اس کے بعد پارٹی کو کچلنے کا سلسلہ شروع ہوا- ملک کی سب سے بڑی جماعت کی تمام سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی، کوئی تحریک انصاف کا پرچم اٹھاتا تو اسے اٹھا لیا جاتا، ہمارے امیدواروں اور ان کی فیملیز کو اغوا کیا گیا۔ ہم سے ہمارا انتخابی نشان تک چھین لیا گیا مگر عوام نے 8 فروری کو باہر نکل کر اس سارے بیانیے کو زمین بوس کر دیا۔
8 فروری انقلاب کا دن تھا جب لوگوں نے ظلم کے نظام کے خلاف ووٹ دئیے اور تحریک انصاف کو 2 تہائی اکثریت دلوائی۔ کمشنر پنڈی نے جب ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے انتخابی دھاندلی کا پردہ چاک کیا اور پچاس پچاس ہزار ووٹوں کی دھاندلی کا اعتراف کیا تو دھاندلی کے جرم میں ملوث قوتوں نے ان کے ذہنی توازن بگڑنے کا بھونڈا بیانیہ بنا کر انہیں غائب کر دیا۔ ان کا آج تک کسی کو معلوم نہیں لیکن ہم انہیں بھولنے نہیں دیں گے۔
نو مئی کے اصل مجرم وہی ہیں جنھوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی۔ اب اسی نو مئی کو بہانہ بنا کر جو نشستیں ہمارے پاس بچی تھیں وہ نا جائز دس دس سال کی سزائیں دے کر ہم سے چھنیی جا رہی ہیں۔ بےشرمی کی انتہا یہ ہے کہ اعجاز چوہدری کی سیٹ چھین کر الیکشن ہارنے والے رانا ثنا اللہ کو دے دی گئی۔ یہ سب سزائیں بالکل ناجائز ہیں۔ دو دو چار چار کر کے بے شرمی سے ہماری نشستوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ اسی لیے ہم نے ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے کیونکہ وہ پھر یہ نشستیں چوری کر لیں گے۔ اور اس الیکشن میں حصہ لینا ان جعلی سزاؤں کو ماننے کے مترادف ہو گا- میں قومی اسمبلی کی کمیٹیوں سے استعفی پیش کرنے اور تمام مراعات سے دستبردار ہونے پر سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور ہدایت دیتا ہوں کہ اب سینٹ قائمہ کمیٹیوں سے بھی استعفی دے دئیے جائیں۔ میں کچھ دن تک اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کروں گا”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اپنی ہمشیران سے گفتگو (10 ستمبر، 2025)
1/3
“میری بہنوں اور اہلیہ کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں۔ علیمہ خان باہر آ کر صرف میرا پیغام پہنچاتی ہیں۔ ان کے خلاف مہم افسوسناک اور ملک پر مسلط رجیم کی بزدلی اور خوف کا واضح ثبوت ہے۔
بشریٰ بیگم کا سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ بشرٰی بیگم نے آج تک مجھے کسی وزیر، ٹکٹ ہولڈر یا سینٹر کو نامزد کرنے کا نہیں کہا۔ وہ کوئی سیاسی پیغام نہیں بھیجتیں۔ وہ قید تنہائی میں ہیں ان کا باہر کسی سیاسی شخصیت کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے۔ ان کو قید و بند کی صعوبتیں صرف میری اہلیہ ہونے کی وجہ سے برداشت کرنی پڑ رہی ہیں۔
ظالم رجیم کو گمان تھا کہ بشرٰی بیگم کو میری کمزوری بنا کر استعمال کریں گے لیکن اپنے غیر متزلزل ایمان کے باعث وہ میری طاقت بن گئی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ کی شاید وہ واحد خاتون ہیں جو غیر سیاسی ہیں مگر صرف ان کے خاندان کے کسی شخص کے سیاست میں ہونے کی وجہ سے انہیں قید برداشت کرنی پڑی ہو۔ بشری بیگم کی طبعیت ناساز ہے۔ انھیں چلتے ہوئے چکر محسوس ہوتے ہیں۔ ان کے معائنے کے حوالے سے درخواست دائر کی گئی ہے لیکن اب تک قبول نہیں کی گئی۔ ان کا ڈاکٹر سے ترجیحی بنیادوں پر معائنہ انتہائی اہم ہے۔ بشری بیگم کو سیاسی مقدمات میں قید کرنا عاصم رجیم کی اخلاقی اور مذہبی گراوٹ کا ثبوت ہے۔
مجھ پر اور میرے خاندان پر تمام مظالم عاصم منیر کروا رہا ہے۔ ملک میں اس وقت عاصم لا نافذ ہے جس نے ڈاکو ڈفر الائنس کے تحت ملک چلا کر اخلاقیات کا جنازہ اٹھا دیا ہے۔ اخلاقی پستی کا ثبوت یہ ہے کہ میرے خاندان کی عورتوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے-“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء سے گفتگو (۱۰ ستمبر، ۲۰۲۵)
3/3
کسی پر جوتا پھینکنا یا سیاہی پھینکنا اختلاف کرنے کا طریقہ نہیں ہے میں اسکی مزمت کرتا ہوں۔ عمران خان کا خواجہ آصف اور نواز شریف پر سیاہی اور جوتا پھینکنے پر ردعمل
علیمہ آپا پر ہوئے حملے کو جسٹیفائی کرنے والے صحافیوں اور دانشوروں کے منہ پر یہ ماریں
“میں پاکستانی قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ملک بھر میں جاری افسوسناک سیلابی صورتحال میں ریسکیو اینڈ ریلیف مہم میں ہمیشہ کی طرح بڑھ چڑھ کر حصہ لیں- تحریک انصاف بھی سیلاب زدگان کے لیے بلاتفریق اپنا کردار ادا کرے۔
میں ہمیشہ موسمیاتی تبدیلیوں اور ان سے آنے والے نقصانات کے حوالے سے شعور اجاگر کرتا رہا ہوں- ہم نے پہلے خیبر پختونخوا میں”بلین ٹری منصوبہ” شروع کروایا اور وفاقی حکومت میں آ کر “ٹین بلین ٹری منصوبہ” شروع کروایا- اس کے ساتھ متعدد چھوٹے، درمیانے اور بڑے درجے کے ڈیمز اور نیشنل پارکس سمیت ایسے اہم ماحولیاتی حفاظت کے منصوبے شروع کروائے جو ماحولیاتی تباہی میں کمی کا باعث بنے- درخت ہی ماحولیات کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ ایسے منصوبوں پر تیزی سے کام کرنا قومی ترجیح ہونی چاہیے-
افغانستان میں زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں اور نقصان پر دل شدید رنجیدہ ہے۔ ہم مشکل کی اس گھڑی میں اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مجھے افغانیوں کے پاکستان سے زبردستی نکالے جانے پر بھی شدید تحفظات اور افسوس ہے۔
خیبرپختونخوا میں اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشن فوری طور پر بند ہونا چاہیئے۔ علی امین گنڈا پور سمیت صوبائی حکومت کو اس معاملے پر بھرپور مزاحمت کرنی چاہیئے۔ پہلے ہی وہ علاقے سیلاب کی تباہی جھیل رہے ہیں ان حالات میں آپریشن یا ڈرون حملے اور اپنے علاقوں سے بے دخلی زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
میری ہدایات کی روشنی میں تحریک انصاف کا ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ قابل تحسین ہے۔ کاغذات نامزدگی واپس لینے والے امیدواران بھی داد کے مستحق ہیں۔ جن ارکان نے اسمبلی کی کمیٹیوں سے استعفی دیا ہے وہ بھی قابل تعریف ہیں۔ ان کو یہ بھی ہدایت کرتا ہوں اگر ان کے زیر استعمال کوئی بھی گاڑی یا مراعات ہیں تو اسے فوری واپس کریں۔ پشاور جلسے کی حتمی تاریخ کا فیصلہ ستمبر میں ہی سیلاب کی صورتحال دیکھ کر مشاورت سے کیا جائے۔
تین سال ظلم و جبر سہنے اور حق پر ہونے کے باوجود میں نے ملکی مفاد میں مذاکرات کی بات کی مگر مجھ سمیت میرے خاندان سے سیاسی انتقام کی انتہا کر دی گئی ، ہمارے لوگوں پر سیدھی گولیاں چلائی گئیں اور پارلیمان میں ہمارے اپوزیشن لیڈرز تک کو نا اہل کر دیا گیا اس کے بعد مذاکرات کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
یہ مجھ سمیت میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید کر دیں میں اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا اور نہ ہی ان کے آگے جھکوں گا”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں گفتگو (2 ستمبر، 2025)
بریکنگ نیوز 🚨: اعجازالحق کا بڑا انکشاف🔥
جرنل عاصم منیر نے جیل میں پیغام پہنچایا عمران خان کو آپ DGISi, DGC, اور جنرل باجوہ کا ارٹیکل 6 کے تحت ٹرائل کر لیں میری جان بخشی کر دیں 🔥
خبردار اسکو ریٹویٹ کیے بغیر کوئی نہ گزرے 🚨
بریکنگ نیوز 🚨: محمد زبیر کے بڑے انکشاف 🔥
مریم نواز اور نواز شریف کے کہنے پر جنرل باجوہ سے لمبی ملاقاتیں کیں مگر جب میڈیا پر بھانڈا پھوٹا تو مریم نواز صاف مکر گئیں.مجھے کہا گیا کہ الزام اپنے سر لے لوں
خبردار اسکو ریٹویٹ کیے بغیر کوئی نہ گزرے 🚨
میں اعلان کرتا ہوں کہ ہم 14 اگست کا بائیکاٹ کرتے ہیں فضل الرحمن
یاد رہے جو اس وقت محب وطن ہونے کا دعوی کر رہے ہیں اس پی ڈی ایم نے 14 اگست کا بائیکاٹ کیا تھا
" In these dark days of unprecedented oppression and tyranny, the massive turnout of the Pakistani nation in response to the August 5th call for protest is not only admirable, it is a powerful sign that a new dawn is beginning to break through the long-standing darkness of injustice that has engulfed our country. The way people took to the streets, despite extreme fascism, to assert their constitutional rights is highly commendable.
I extend special appreciation to the people of Punjab, who broke through the shackles of fear despite raids and arrests. The citizens of Sindh, Balochistan, Gilgit-Baltistan, Azad Kashmir, Punjab, and Khyber Pakhtunkhwa, who participated in the nationwide protests on August 5th in such large numbers, deserve admiration. A nationwide protest of such magnitude, despite immense pressure on the leadership, is a remarkable display of public awareness and awakening.
Never before in Pakistan’s history has any dictatorship, even under martial law, perpetrated such levels of cruelty as are being carried out today by Asim Munir under his ‘Asim Law’. This can only be compared to the era of Yahya Khan, when brutal fascism was unleashed upon Mujibur Rahman's party and the public, crushing democratic will and, ultimately, splitting the country in two, all for the sake of holding on to power. What is happening in the country today painfully echoes the Fall of Dhaka. Then too, democracy was strangled, rule of law eliminated, freedom of media and the right to protest denied, and the law of the jungle imposed. Deliverance from this system of oppression is only possible if the nation stands united.
The next significant milestone in our movement is the 14th of August: the day our forefathers, after immense sacrifices, secured independence from British colonial rule. Yet, the nation continues to be deprived of true freedom. Without the restoration of the Constitution and the rule of law, independence will remain an illusion. On August 14th, the entire nation must once again rise against the fascism gripping our beloved country.
We must liberate ourselves from this mafia. And true liberation is only possible when a nation is willing to make sacrifices. I am enduring the most inhumane conditions in prison for the sake of my people. Even fellow prisoners here acknowledge that no ordinary inmate is subjected to the kind of treatment that I am being subjected to. In their futile attempt to break me, my wife Bushra Bibi is also being held in deplorable conditions. Yet, I remain steadfast in my commitment to the supremacy of the Constitution and the restoration of democracy. Achieving genuine freedom will require collective sacrifice from all of us.
I will never bow down before this ‘Dacoits and Duffers Alliance’, nor will I ever accept ‘Asim Law’. Even if I must spend the rest of my life in prison, I am ready.
Remember: no force in the world can defeat a brave nation. I urge all Pakistanis to cast aside the fear of imprisonment. A special message to the leadership of Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI): abandon your fear of jail and rise to lead the people, answering the call of democracy.
The military operation in Khyber Pakhtunkhwa is being conducted solely to weaken PTI. A similar operation was launched during the ANP's tenure, and by adopting Musharraf-era failed policies, ANP was eventually wiped out from Khyber Pakhtunkhwa. I have always maintained that military operations are never a solution, they only breed more terrorism, hatred, and destruction. A new operation must not be conducted in the tribal areas. The problems of that region can only be resolved through dialogue with local leaders and elected representatives. The merciless expulsion of Afghan refugees, merely in anticipation of a reaction from Afghanistan that never came, is deeply regrettable. 1/2
”ظلم و جبر کے بدترین دور میں 5 اگست کی کال پر پاکستانی قوم کا بڑی تعداد میں نکل کر احتجاج ریکارڈ کروانا ناصرف قابل تعریف ہے بلکہ ملک پر چھائی ظلم کی اندھیری رات میں طلوع سحر کی نوید ہے۔ عوام نے جیسے تمام تر فسطائیت کے باوجود کل سڑکوں پر نکل کر اپنے آئینی حقوق کے لیے احتجاج ریکارڈ کروایا وہ قابل تحسین ہے۔
میں بالخصوص پنجاب کی عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے چھاپوں اور گرفتاریوں کے باوجود خوف کے سب بتوں کو توڑ دیا۔ سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، پنجاب اور خیبرپختونخوا کی عوام جس تعداد میں 5 اگست کو ملک گیر احتجاج میں شامل ہوئے وہ شاباش کے مستحق ہیں۔ لیڈر شپ پر پریشر کے باوجود بھرپور ملک گیر احتجاج عوامی شعور و بیداری کا شاندار مظہر ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں آج تک کسی ڈکٹیٹر کے مارشل لأ دور میں اس قدر ظلم نہیں ہوا جتنا “عاصم لأ” میں عاصم منیر کر رہا ہے۔ موجودہ دور کا موازنہ صرف یحییٰ خان کے دور سے کیا جا سکتا ہے جب عوامی رائے کو روندنے کی غرض سے مجیب الرحمٰن کی پارٹی اور عوام پر فسطائیت کے پہاڑ توڑے گئے اور محض اپنے اقتدار کے لیے ملک کو دو لخت کردیا تھا۔ آج ملک میں جو ہورہا ہے وہ سقوط ڈھاکہ کے دور کی یاد تازہ کرتا ہے۔ تب بھی جمہوریت کا گلہ گھونٹ کر قانون کی بالادستی کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا تھا۔ میڈیا کی آزادی اور احتجاج کا حق چھین لیا گیا تھا اور ملک میں صرف جنگل کا قانون نافذ تھا۔ اس جبر کے نظام سے نجات صرف تب ممکن ہے جب یہ قوم یکجا ہو کر کھڑی ہو گی۔
ہماری تحریک کا اگلا اہم دن 14 اگست ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ہمارے آباؤاجداد نے قربانیاں دے کر انگریزوں سے تو آزادی حاصل کر لی تھی لیکن قوم آج تک “حقیقی آزادی” سے محروم ہے۔ اس ملک میں جب تک آئین و قانون کی بحالی نہیں ہو گی آزادی نہیں ملے گی۔ 14 اگست کو وطن عزیز میں جاری فسطائیت کے خلاف پوری قوم ایک مرتبہ پھر بھرپور انداز میں نکلے۔
ہمیں اس مافیا سے آزادی لینا ہو گی۔ اور آزادی لینا تب ہی ممکن ہوتا ہے جب کوئی قوم قربانی دینے کو تیار ہوتی ہے۔ میں خود اپنی قوم کی خاطر جیل میں بدترین حالات کاٹ رہا ہوں۔ یہاں موجود قیدی بھی اعتراف کرتے ہیں کہ ایسا سلوک تو کسی عام قیدی کے ساتھ بھی نہیں ہوتا جیسا کہ میرے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ مجھے توڑنے کی ناکام کوشش میں میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو بھی بدترین حالات میں رکھا جا رہا ہے، مگر میں پھر بھی آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوریت کی بحالی کے لیے قربانی دے رہا ہوں۔ حقیقی آزادی حاصل کرنے کے لیے ہم سب کو مل کر قربانی دینا ہو گی۔
میں اس “ڈاکو، ڈفر الائنس” کے آگے کبھی نہیں جھکوں گا اور عاصم لاء کو کبھی تسلیم نہیں کروں گا۔ مجھے ساری زندگی بھی جیل میں رہنا پڑے میں اس کے لئے تیار ہوں!!
یاد رکھیں کہ بہادر قوموں کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ تمام پاکستانی جیل جانے کا خوف اپنے دل سے نکال دیں۔ میرا تحریک انصاف کے ذمہ داران کو بھی خصوصی پیغام ہے کہ اپنے دلوں سے جیل کا ڈر نکال کر لوگوں کی قیادت کریں، اور جمہور کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے قیادت فراہم کریں۔
خیبرپختونخوا میں آپریشن صرف اور صرف تحریک انصاف کو کمزور کرنے کے لیے ہو رہا ہے-ایسا ہی آپریشن اے این پی کے دور میں بھی کیا گیا تھا اور مشرف دور کی ناکام پالیسیوں کو اپنا کر اے این پی خیبرپختونخوا میں ختم ہو کر رہ گئی۔ میرا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ فوجی آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا بلکہ اس سے دہشتگردی، نفرت اور تباہی مزید پھیلتی ہے۔ قبائلی علاقوں میں کوئی نیا آپریشن ہرگز نہیں ہونا چاہیئے۔ وہاں کے مسائل کا حل مقامی اور عوام کے منتخب نمائندوں کی بات چیت سے ہی ممکن ہو گا۔ صرف افغانستان سے ردعمل کی امید میں افغان مہاجرین کو جس بے دردی سے بے دخل کیا گیا، وہ بھی افسوسناک ہے۔ افغانستان سے کوئی ردعمل نہیں آیا تو اپنے ہی لوگوں پر بندوق اٹھا کر حالات خراب کرنے کی افسوسناک کوشش جاری ہے۔
ایک مرتبہ پھر واضح کر رہا ہوں کہ جن ممبران اسمبلی کو نا حق نااہل کیا گیا ہے ان کی نشستوں پر کوئی انتخاب نہیں لڑے گا۔ ان لوگوں نے تمام مشکلات کے باوجود تحریک انصاف پر یقین کیا اور پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑا لہٰذا یہ سیٹیں انہی کا حق ہیں۔ ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کا مطلب ہو گا کہ ہم ان کے ناجائز عمل کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ ضمنی الیکشن میں حصہ لینا ہمارے لوگوں کی کمر میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہو گا-
آئین و قانون کی بحالی کے لیے کامیاب آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد، قومی ڈائیلاگ کے آغاز اور اہم قومی مسائل کے حل پر متفقہ تجاویز پیش کرنے پر تمام شرکأ اور آرگنائزز خصوصاً “تحریک تحفظ آئین” کے عہدیداران مبارکباد کے مستحق ہیں”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ، وکلأ اور میڈیا سے گفتگو۔ (۶ اگست، ۲۰۲۵)
بریکنگ نیوز 🚨: جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینے سے پہلے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہماری اوپننگ ہو چکی تھی ایکسٹینشن قبول ہو نےکے بعد عدم اعتماد ہوا ہمیں پی ڈی ایم کی حکومت دی گئی، جاوید عباسی 🔥
خبردار اسکو ریٹویٹ کیے بغیر کوئی نہ گزرے 🚨
بریکنگ نیوز 🚨: ستمبر 2021 میں سی آئی آے کے چیف ولیم جے نے پاکستان کا دورہ کیا اور جنرل باجوہ سے ملاقاتیں کیں ولیم جے نے عمران خان سے ملاقات کی درخواست کی تو انہیں کہا گیا کہ تمہارا لیول نہیں ہے وزیراعظم سے ملاقات کا، اعزاز سید
خبردار اسکو ریٹویٹ کیے بغیر کوئی نہ گزرے 🚨
عاصم منیر آپ نے بشری بی بی پر کرپشن کا الزام لگا کر جیل میں ڈالا آپ نےکوئی فائل نہیں دی آپ تو پہلے ریٹائر ہونے کے باوجود آرمی چیف بن گئے اب آپ کے دو تین مہینے رہ گئے ہیں اب تو کرپشن کی فائل دکھا دو لیکن آپ کے پاس کچھ نہیں اور آپ نے ایک گھریلو خاتون کو جیل میں ڈالا ہوا ہے
شہباز گل
“We haven't seen our father for three years and haven't been able to speak to him for months. It's obviously brutal. It seems like they're trying to break him.”
Imran Khan’s sons #SulaimanKhan and @Kasim_Khan_1999 in an Exclusive Interview with @piersmorgan
بریکنگ نیوز 🚨: نیویارک ٹائمز میں عمران خان کی دو سالہ جیل اور سختیوں پر آرٹیکل پوری دنیامیں دیکھا جا رہا ہے 🔥
خبردار اسکو ریٹویٹ کیے بغیر کوئی نہ گزرے 🚨