"خان کیلئے جو کچھ میرے بس میں ہوگا کرتا رہوں گا۔" یہ ہے خان سے محبت کرنے والوں کا جذبہ!!
یہ خدا کے کرم کے سوا ممکن ہی نہیں کہ کسی انسان سے مخلوق ایسے محبت کرے جیسے عوام خان سے کرتی ہے۔
ہم عمران خان اور بشری بی بی کی قید کے ایک ایک دن کو نا حق سمجھتے ہیں، ہم عدالتوں میں گئے ہمیں ریلیف نا دیا گیا، ہم نے ایوان میں آواز اٹھائی ہماری بات نا سنی گئی، ہم عوام میں جا رہے ہیں، تو آپ ہمیں دھمکیاں لگاتے ہیں کہ آگے نا بڑھنا ورنہ دہشتگردوں کی طرح ٹریٹ کریں گے،
ہم آپ کی اس فاشسٹ سوچ کی مذمت کرتے ہیں، آپ ہمارے ساتھ عوام کی بھی توہین کر رہے ہیں جنہوں نے کروڑوں ووٹ ہمیں دیے ہیں، بیرسٹر گوہر علی خان
برطانوی سیاستدان اور دانشور جارج گیلوے:
کانگو کے وزیر اعظم پیٹریس لومومبا (1961)، ایرانی وزیر اعظم ڈاکٹر محمد مصدق (1953) اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان (2022) کی جمہوری طور پر منتخب حکومتوں کے خلاف بغاوتوں میں برطانوی ریاست کے خونی اور گھناؤنے فنگر پرنٹ واضح ہیں۔
عمران خان میرا دوست اور بھائی ہے۔ میں خاموش نہیں رہ سکتا۔ میں کبھی خاموشی نہيں رہا۔ میں اس ظلم کے خلاف بولوں گا۔
اس ذہنی مریض کو پتہ ہونا چاہیئے کہ عمران خان کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے اور جو کچھ بھی ہو سکتا ہے وہ سب اس کی مرضی کے خلاف نہیں ہوسکتا!!
یہ مریم، شہباز یا زرداری وغیرہ تو صرف کٹھ پتلیاں ہیں، آج عاصم منیر کا پیچھے سے ہاتھ ہٹ جائے تو یہ بے جان ہو جائیں
#اکتوبر4_آغاز_مزاحمت
🚨PTI leadership in Pakistan: peaceful protest is the only way forward. No negotiations without Imran Khan. We cannot trust the establishment. Stand united, defend democratic rights and keep the struggle peaceful.
#FreeImranKhan#PTI#Pakistan
رسائی نہیں خان کی رہائی 🚨
رسائی نہیں خان کی رہائی 🚨
رسائی نہیں خان کی رہائی 🚨
رسائی نہیں خان کی رہائی 🚨
رسائی نہیں خان کی رہائی 🚨
رسائی نہیں خان کی رہائی 🚨
رسائی نہیں خان کی رہائی 🚨
رسائی نہیں خان کی رہائی 🚨
رسائی نہیں خان کی رہائی 🚨
بہت ظلم ہوا ہے پچھلے چار سالوں میں، بہت بار دل ٹوٹا
”تب بھی دل سے گھر کا راستہ مٹتا نہیں
پاکستانی کے دل سے پاکستان نکل سکتا نہیں
جسم پردیس میں سہی، دل پردیسی نہیں ہے“
#اکتوبر4_آغاز_مزاحمت
سہیل خان آفریدی صاحب جب حالیہ دورہ کے دوران وزیرآباد گجرانوالہ میں ایک دہشتگردی دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا۔اس میں گرفتار 26 لوگوں کو اج 10 روزہ ریمانڈ کے بعد دہشت گردی عدالت پیش کیا گیا۔10 دن میں تفتیشی نے کہا کہ میں مصروف تھا میں کوئی تفتیش نہیں کر سکا۔ اس میں اٹھ بچے وہ ہیں جن کی عمر 14 سے 16 سال ہے۔ میں نے ریمانڈ کنٹیسٹ کیا ہے معزز عدالت سے درخواست کی ہے کہ ان کو جوڈیشل فرما دیا جائے۔
@PTIofficial