ویسے محمد حسین نے اپنے ہی خلاف کمال سکرپٹ بنایا ہے، یہ بھی کتنا بیوقوف کارکن تھا کہ عین 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد اکیلا پستول اٹھائے حملہ کرنے نکل آیا۔ جب پارٹی لانگ مارچ عمران خان کیلئے شروع کر رہی ہے تو محمد حسین کو تو خوش ہونا چاہیے تھا اور لانگ مارچ کی تیاری کرنا چاہیے تھی لیکن یہ تو انتہائی بیوقوف نکلا کہ لانگ مارچ سے پہلے ہی مارنے مرنے پر نکل آیا۔ اور یہ کارکن بھی کہاں سے آیا؟ ضلع خیبر، تاکہ سہیل آفریدی کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔ ساتھ ہی ریاستی بھونپو بھی اس واقعہ کو ایک مخصوص پروپیگنڈا کیلئے استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں، ویسے لانگ مارچ کو ابھی سے ناکام اور بدنام کرنے کیلئے کمال twist آ گیا ہے۔ اسلحہ اٹھانا چاہے کسی فرد کے خلاف ہو، تنظیم یا ادارے کے، ایک متشدد عمل ہے جس کی کوئی حوصلہ افزائی یا تائید نہیں ہو سکتی لیکن محمد حسین کی پہیلی سمجھ نہیں آ رہی
”ایک سیکٹر کمانڈر، جو عوام کے ٹیکس سے تنخواہ لیتا ہے، ایک منتخب وزیرِاعلیٰ کو دھمکیاں دے رہا ہے! ایک سرکاری ملازم، ایک فوجی افسر، جو اپنے بچوں کا پیٹ اپنی سرکاری تنخواہ سے پالتا ہے، وہ عوام کے منتخب وزیرِاعلیٰ کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو اس پر جواب دینا چاہیے. اس پر جواب دینا چاہیے—خاص طور پر وہی ڈی جی آئی ایس پی آر جو دعویٰ کرتے ہیں کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرتی۔ یہ سیکٹر کمانڈر کے باپ کا ملک ہے؟“- @ImranRiazKhan
جی ٹی روڈ پر ہمارے مارچ کے ہمراہ عوام کا سمندر۔ میں 6 ماہ سےملک میں ایک انقلاب کا مشاہدہ کررہا ہوں۔سوال صرف یہ ہے کہ آیا یہ بیلٹ باکس کےذریعے نرم ہوگا یا خونریزی کے ذریعے تباہ کن؟
"ہمارا عمران خان سے رابطہ نہیں ہے ان کو کال کوٹھڑی میں بند کیا ہوا ہے ان کی صحت کے حوالے سے تشویشناک خبریں جو ہمارے تک پہنچی ہیں وہ اچھی نہیں ہیں۔عمران خان کی صحت کے ساتھ کھلواڑ قوم کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔ان کی صحت کے حوالے سے جو آنکھ کی مصدقہ خبر ہے وہ پوری قوم جانتی ہے اس کا بھی آج تک علاج نہیں کروایا گیا، ان کے ذاتی معالجین ، ان کی فیملی کو ان تک رسائی نہیں دی گئی یہ صورتحال اب برداشت کی حد سے گزر چکی ہے۔خان صاحب کی صحت سے بڑھ کر کچھ اہم نہیں ہے" @salmanAraja
میرےحقیقی آزادی جلسےمیں شرکت کیلئےریکارڈ تعداد میں نکلنےپر اہلِ چکوال آپکا شکریہ! میں نےاپنی قوم سےخوف کےاس بُت کو پاش پاش کرنے کا کہا ہے جس کے ذریعے مجرموں (60% کابینہ اراکین ضمانت پر ہیں) کی یہ امپورٹڈ سرکار ہمیں غلام بنانے کے خواب دیکھتی ہے۔ ہماری قوم تیار ہے، ماشاءاللہ!
“جو حق پر کھڑا ہوتا ہے وہ ہارتا نہیں ہے۔ اللہ تعالٰی کا قرآن پاک میں فرمان ہے کہ: "میں کسی ایسی قوم کو تباہ نہیں کرتا جو حق سچ پر کھڑی ہوتی ہے۔" حضرت علیؓ کا قول ہے کہ: "کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ناانصافی کا نہیں-" جھوٹا اور دھوکے باز خود بخود بے نقاب ہو جاتا ہے۔
۹ مئی درحقیقت لندن پلان کا حصہ تھا جس کا مقصد ہی ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت تحریکِ انصاف کو ختم کرنا تھا۔ جس میں مجھے اور دیگر پارٹی اراکین اور کارکنان کو پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت جیل میں ڈالا گیا۔ ہمارا مینڈیٹ لوٹ کر چوروں کو ملک پر مسلط کیا گیا۔ ہم پر ہر طرح کی فسطائیت کے پہاڑ توڑے گئے۔ ہمارے لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں اور ہمیں پر جھوٹے کیسز بنائے گئے-
میں نے بطور وزیراعظم جنرل عاصم منیر کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹایا تو عاصم منیر نے اپنے ذرائع سے بشریٰ بی بی تک رسائی کی کوشش کی کہ میں اس حوالے سے آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں، جس پر بشریٰ بی بی نے صاف انکار کر دیا کہ میرا ان معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے لہٰذا میں آپ سے ملاقات نہیں کرونگی۔ بشریٰ بی بی کی گزشتہ 14 ماہ کی ناحق قید اور جیل میں ناروا سلوک کے پیچھے جنرل عاصم منیر کا یہ انتقامی رویہ ہی کارفرما ہے۔ مجھے زیر کرنے کیلئے جس طرح میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے اس طرح پاکستان کی تاریخ میں آمریت کے دور میں بھی کبھی نہیں ہوا۔ ان پر اعانت کا الزام تھا جو کہ ثابت بھی نہیں ہوا۔ لہذا ایک کیس سے دوسرے میں گرفتاری ڈال دی جاتی ہے۔ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں جنکا سیاست سے کوئی تعلق نہیں- چار ہفتوں سے میری اپنی اہلیہ سے ملاقات بھی نہیں کروائی جارہی۔ جیل ضابطے کے مطابق کل میری اپنی اہلیہ سے ملاقات کا دن طے تھا مگر عدالتی حکم کے باوجود طے شدہ شیڈول کے مطابق ہماری ملاقات نہیں کروائی گئی۔
کل ہمارے ایک ایم این اے عبدالطیف چترالی کو ۹ مئی کے جھوٹے مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے، کس ثبوت کی بنیاد پر؟ اسی طرح ڈاکٹر یاسمین کو جیل میں رکھا گیا ہے اور شاہ محمود قریشی اگر مطلوبہ بیان دے دیں تو انہیں قید سے خلاصی مل جائے۔ انسدادِ دہشتگردی عدالت اور تمام ججز سب ملے ہوئے ہیں کیونکہ ۹ مئی کی جو سی سی ٹی وی فوٹیجز چوری ہوئی ہیں ججز ان کو پیش کرنے کا حکم نہیں دیتے۔ کسی جج نے ہمت نہیں کی کہ وہ سی سی ٹی وی فوٹیج منگوائے اور ثبوتوں کی روشنی میں فیصلہ سنائے۔ ہم بے قصور ہیں اور ہمارے لوگوں کو ثبوتوں کی عدم موجودگی اور بغیر فئیر ٹرائل کے سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ہم تمام عدالتوں میں ۹ مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج منگوانے کیلئے درخواست دیں گے۔
میں نے ۹ مئی اور 26 نومبر کے قتل عام کی منصفانہ تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا تھا جس پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ پاکستان میں عدلیہ اتنی disgraceful کبھی نہیں تھی جتنی آج ہے۔ پہلے ایک جسٹس منیر تھا جسے اسکے ناجائز فیصلے کے باعث دنیا جانتی تھی۔ قاضی فائز عیسیٰ نے بھی وہی روش اختیار کی۔ اب سارے ججز ملے ہوئے ہیں اور صرف اپنی نوکریاں بچانے کے چکر میں ہیں۔”
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی وکلأ اور میڈیا سے گفتگو
2/3
“میں ساری زندگی جیل کی چکی میں گزار لوں گا لیکن فرعونیت اور یزیدیت کے سامنے نہیں جھکوں گا!!
قانون کی حکمرانی میری تحریک کا مرکزی مقصد ہے، جس سے ہم جنگل کا قانون ختم کریں گے-
جب سیاسی جماعت پر تمام دروازے بند کر دئیے جائیں ان پر ظلم کیا جائے، عدلیہ آزاد نہ ہو تب ان کے پاس سوائے پر امن احتجاج کے کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا۔
میں اپنی پارٹی، کارکنان اور سپورٹرز کو ہدایت کرتا ہوں کہ آپ سب لوگ ایک بھرپور ملک گیر تحریک کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس بار صرف اسلام آباد نہیں پورے پاکستان کی کال دوں گا-
پارٹی کے تمام لوگوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں آپ میں سے کوئی بھی “الیکٹیبل” نہیں ہے۔ آپ سب نظریے کے زور پر جیت کر آئے ہیں۔ مجھے سب کے بارے میں معلوم ہے کہ کون وکٹ کے دونوں اطراف کھیل رہا ہے، جو پارٹی احکامات پر عمل پیرا نہیں ہو گا اس کی جماعت میں کوئی جگہ نہیں ہو گی۔ مجھے جب بھی موقع ملا پارٹی انتخابات کرواؤں گا۔ پارٹی میں الیکشن کروانا ناگزیر ہے تاکہ ورکرز اوپر آ سکیں۔
نو مئی صرف آدھے گھنٹے کا کیس ہے۔ اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج چرانے والے ہی اصل ذمہ دار ہیں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے نو مئی کیا تھا تو CCTV فوٹیجز سامنے لے آئیں۔
پولی گرافک ٹیسٹ تو شہباز شریف کا ہونا چاہیئے اور اس سے پوچھنا چاہئیے کہ وہ فارم 47 سے آیا ہے یا 45 سے۔
میں پاکستان کا سابق وزیراعظم ہوں، جس کے لیے جیل میں علیحدہ کیٹیگری ہوتی ہے لیکن مجھے جیل میں عام قیدیوں والی سہولیات بھی نہیں دی گئیں- مجھے جیل کے جس سیل میں 22 ماہ سے قید کیا ہوا ہے وہ ایک “چکی” ہے۔ اسی ملک میں چوروں کو وی وی آئی پی سیل میں رکھا گیا جو کسی “سویٹ”سے کم نہیں تھے۔
یہاں جنگل کا قانون نافذ ہے اور ایک کرنل کے کہنے پر تمام عدالتی احکامات ہوا میں اڑا دئیے جاتے ہیں- میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری بہنوں کو مجھ سے ملنے نہیں دیا جاتا۔ میری کتابوں سے پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے کہ ڈھائی ماہ سے مجھ تک کوئی کتاب نہیں پہنچنے دی گئی، صرف وہی کتابیں دی جاتی ہیں جو پہلے ہی پڑھ چکا ہوں- میں ایک سیاسی جماعت کا سربراہ ہوں لیکن میری جماعت کے لوگوں کو مجھ سے ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی حالانکہ ان کے پاس عدالتی احکامات موجود ہوتے ہیں-
صرف مجھے اذیت دینے کے لیے میری اہلیہ کو سزائیں سنائی گئیں اس سے زیادہ گھٹیا پن کیا ہو سکتا ہے۔ ایک ہفتے میں میری اہل خانہ یا وکلاء سے صرف 30 منٹ کی ملاقات کروائی جاتی ہے۔ میری اہلیہ پر صرف سہولت کاری کا جھوٹا الزام تھا جو ثابت بھی نہیں ہو سکا۔
کل ہائی کورٹ کے باہر ہونے والے احتجاج میں تمام اپوزیشن اراکین لازمی شرکت کریں۔چھبیسیوں ترمیم کے بعد عدلیہ بلکل مفلوج اور بےاثر ہو چکی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بارہا وعدے کرنے کے باوجود بھی ہمارے کیسز نہیں لگا رہا-
سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کے حق میں فیصلہ دے کر اپنے ہی عدالتی نظام پر عدم اعتماد کر دیا ہے-
بھارت کے جواب میں ہماری فورسز خصوصاً پاک فضائیہ نے زبردست جواب دیا ہے اور پوری قوم نے بھی ساتھ دیا۔ میں جیل میں مقید ہوں مگر یہاں بھی لوگوں نے پاکستان کے جواب پر خوشی منائی۔”
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی دوران ٹرائل کارکنان، وکلأ اور صحافیوں سے گفتگو اور سوالات کے جوابات
I want to thank the people of Islamabad & Pindi for coming out in such large numbers and standing up against this Imported govt of crooks.#امپورٹڈ_حکومت_نامنظور
This image will remain with me for the rest of my life. The passionate cry for freedom while dancing and pouring water on his head to dilute the effects of tear gas.
MashaAllah a nation waking up finally and demanding freedom.
”میری عمر 76 سال ہے۔ 9 مئی کے کیس میں میں نے جیل کاٹی ہے، میرا بیٹا 26 نومبر کے کیسز میں پکڑا گیا ہے۔ میں پھر بھی آیا ہوں۔ میرا بس یہی چلتا ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو بھی عمران خان کے لیے قربان کر دوں۔ عمران خان ہمارے سر کا تاج ہے۔“ آج پشاور میں عمران خان کے لیے آنے والے ایک بزرگ پاکستانی۔
#ناحق_قید_کے_3سال
5 نئے صوبے مطلب 5 نئے وزارِ اعلی 5 نئے گورنر۔ 5 نئے سیکریٹیریٹ۔ ہر صوبے میں کم از کم پندرہ وزرا مطلب 75 نئے وزیر۔ 75 نئے چیف سیکریٹیریز۔
ہر وزیرِ اعلیٰ کی نئی 7 Series BMW۔ ساتھ چار پروٹوکول کی لینڈ کروزرز۔
مطلب 5 BMWs. اور 20 لینڈکروزرز۔
پھر ہر وزیر کی نئے گاڑی۔ کم از کم ٹویوٹا Fortuner. مطلب 75 نئی Fortuners. ہر وزیر کے ساتھ کم از کم دو پروٹوکول کی گاڑیاں مطلب 150 مزید نئی گاڑیاں۔
چیف سیکریٹیرز۔ پولیس چیف۔ ججز اور دوسرے محکمے اور اسٹاف اور اُن کی مراعات تو بالکل الگ ہی موضوع ہے۔
سادہ سا حل ہے کہ تمام اختیارات لوکل گورنمنٹ کو دیدیں۔ اربوں روپے بھی بچا لیں اور لوگوں کی مشکلات کا حل اُن کے دروازے تک بھی لے آئیں۔
مگر جب تک ہم شاہانہ اور عیاش حل نہیں ڈُھونڈیں گے ہم کیسے ثابت کریں گے کہ ہم پاکستانی اشرافیہ ہیں۔
گزشتہ شب ہمارےجلسے کی نہایت پرجوش اور یادگارحمایت پر میں اہلِ کراچی کا مشکور ہوں۔ یہ مقامی سہولت کاروں اور بدعنوان سیاسی مافیا کی معاونت سے حکومت کی تبدیلی کی امریکی سازش کیخلاف پاکستان کی خودمختاری و جمہوریت (کے بقاء و تحفظ) کی جنگ ہے۔
#امپورٹڈ_حکومت_نامنظور
Maj Gen Atif Bin Akram is in the lead to be promoted in September and appointed the new DGISI, because of his glorious services mentioned here. I have mentioned this more than once on my reports.
" میں آج جتنا پریشان ہوں اس سے پہلے کبھی اتنا پریشان نہیں ہوا ، عمران خان سے 5 مہینے پہلے جب آخری مرتبہ ہماری گفتگو ہوئی تو وہ اپنے علاج اور دیگر قیدیوں کے علاج کے حوالے سے بہت پریشان تھے ، ان جیلوں میں قیدی ہیپاٹائٹس کی وجہ سے مر رہے ہیں، عمران خان کی آنکھ کا علاج نا کروانا پرفیکٹ مثال ہے ، عمران خان کو تین مہینوں تک تکلیف رہی لیکن کسی نے توجہ نہیں دی،جب ہماری عمران خان سے بات ہوئی بہت فرسٹریٹڈ تھے” قاسم خان کا انٹرنیشنل میڈیا کو انٹرویو
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
یہ دونوں گرافکس بینرز بغور دیکھیے؛
ایک بینر پیپلز پارٹی نے اپنے آفیشل پیج سے پوسٹ کیا ہے جس میں ن لیگ پر تنقید کی گئی ہے۔ دوسرا بینر ن لیگ نے اپنے آفیشل پیج سے پوسٹ کیا ہے جس میں پیپلز پارٹی پر تنقید کی گئی ہے
میں گرافکس ڈیزائننگ کو گہرائی سے سمجھتا ہوں
ان دونوں بینرز کو غور سے دیکھیے۔ کچھ دلچسپ مماثلتیں ہیں
1. دونوں بینرز میں تین، تین افراد، اوپر تلے stack فارمیشن میں دکھائے گئے ہیں
2. دونوں بینرز کا بیک گراؤنڈ، تھوڑی بہت تبدیلی کے سوا ایک ہی استعمال کیا گیا ہے
3. دونوں بینرز میں، پارٹی کا لوگو بلکل ایک ہی لوکیشن پر ہے یعنی ٹاپ لیف ہینڈ سائیڈ پر
میرا تجربہ کہہ رہا ہے کہ دونوں بینرز ڈیزائن کرنے والی سورس ایک ہی ہے۔ ایک ہی کانسیپٹ پر دونوں بینرز کو ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ایک پیپلز پارٹی کو، دوسرا ن لیگ کو بھیج دیا گیا کہ اپنے اپنے آفیشل پیجز پر پوسٹ کردو۔ دونوں نے کر بھی دیا
اس کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں جماعتوں کی نورا کشتی ایک ہی "ڈیزائن ہاؤس" سے پلان کی گئی اور execute کی جارہی ہے۔ دونوں کو اشارے ہیں کہ دھمال ڈالے رکھو۔ ایک دوسرے پر خوب حملے کرو، دبا کر کیچڑ اچھالو
یہ دونوں پارٹیاں ہدایات پر من و عن عمل کررہی ہیں
تحریر : شہزاد حسین.
This killer and criminal must be prosecuted locally and internationally along with Asim Munir , Dirty Harry and others for “crimes against humanity”. An example has to be set no matter how much time it takes.