#کراچيPTM
پوری 41 گھنٹے پورے ہوگئے پی ٹی ایم کی وفد ابھی تک لاپتہ ہے
پی ٹی آئی کی طرف سے بلایا گیا جرگہ کیا امن کا جرگہ تھا یا پھر ان لوگ��ں کو مزید سہولی��ت فرہم کرنا تھا
#وياړ_خپل_قامي_تحریک
#ویاړ_ملي_مشر_منظور_جان
سہیل آفریدی بھی علی امین گنڈاپور جیسا ثابت ھورہا ہےاور صرف لفظی بیان بازی تک محدود ہے، یہ جرگہ کی حدود سے PTM کے وفد کا اغواء مان رہا ہے،اغواء کاروں کا اسے پتہ ہےلیکن بس بیان دے دیا ہے اور عملی طور پر نہ اغواء کاروں کے خلاف کاروائی کا اعلان کیا اور نہ وفد کی بازیابی کا بتایا ہے
پشتون تحفظ مومنٹ کے قائدین جو کہ آج خیبرپختونخوا اسمبلی کے امن جرگہ میں شریک ہوئے تھے، سے رابطہ نہیں ہو پارہا جبکہ بعض ساتھی یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ انکو KFC کے سامنے سے اٹھا لیا گیا۔
منظور پشتین کا ٹویٹ
وزیراعلیٰ سہیل افریدی کی اوقات ہم نے دیکھ لی وزیراعلیٰ کے بلائے ہوئے مہمانوں کو وزیراعلیٰ کے ماتحت پولیس نے اغوا کر لیا کتنے شرم کی بات ہے لعنت ہو
#WhereIsPTMDelegation
سرکاری کنٹرولڈ جرگہ میں PTM وفد کو بات نہیں کرنے دی گئی اور اسکے بعد باہر نکلنے پر وفد میں شریک حنیف پشتین،سندھ سے آئے صوبائی کوارڈینٹر نوراللہ ترین سمیت 5 افراد کو اغواء کرلیا گیا ہے لہذا ��یکھتے ہیں کہ فلک جاوید کے لئے نوٹس لینے والا سہیل آفریدی اس واقعہ پر نوٹس لیتا ہے یا نہیں
پختونخوا سرکاری جرگہ میں PTM کو مدعو کیا گیا لیکن اپنا موقف رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ کہا گیا کہ “ہم پر تھوڑا پریشر ہے،کوشش کررہے ہیں” کہ آپکو بات کرنے کی اجازت دی جائے اور وفد کے وہ��ں سے نکلنے کے بعد حنیف پشتین اور نوراللہ ترین کو لاپتہ کردیا گیا ہے
#WhereIsPTMDelegation
علی وزیر کو تقریباً دو سال قبل اسلام آباد سے جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا گیا اور پنجاب،بلوچستان اور سندھ کی مختلف جیلوں کے بعد سکھر جیل میں رکھا گیا اور آج اسے سکھر جیل سے لاپتہ کردیا گیا ہے اور علی وزیر کو کچھ ہوا تو اسکی ذمہ داری منیرے مارشل اور بلاول پر ھوگی
���