@MicrosoftHelps
My account has been locked and I have not been able to submit an appeal as the form fails to submit.
I tried to recover password of my account and it fails to send code to my email address.
Can you please help?
سنا ہے ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے یہ حم��د الرحمن کمیشن رپورٹ کے ویڈیوز شیئر کرنے پر مُرشد کیخلاف FIA نے انکوائری شروع کردی ہے
چلو پھر پاکستانیو دوبارہ اس وڈیو کو شئیر کرتے ہیں یہ رُکنی نہیں چاہیے...
The former prime minister of Pakistan writes from prison that his party is being unfairly muzzled, in a guest essay for The Economist https://t.co/6DBPaTgETY
25 کڑوڑ عوام کا ملک، دنیا کی چھٹی بڑی فوج اور ایک ایٹمی طاقت، اس نے اپنے وزیراعظم اور وزیر خارجہ کو بیرونی سازش بےنقاب کرنے پر قید کر رکھا ہے۔ غلامی کی انتہا ہے!
#عمران_خان_کی_جان_کوخطرہ
ایک عرصے تک ہندوستان پاکستان کو دنیا میں بدنام کرنے کے لیے سرگرم رہا۔ کشمیر پر پاکستان کا مقدمہ کمزور کرنے کے لیے اسے پاکستان کو دہشتگردی سے جوڑنا ضروری تھا۔
۱۱ ستمبر کے بعد باوجود اس کے کہ اس واقعہ میں کوئ بھی پاکستانی شہری ملوث نہیں تھا ہمارے حکمرانوں کے غلط فیصلوں نے ہندوستان سمیت پاکستان دشمن قوتوں کو یہ موقع دے دیا کہ وہ پاکستان کو بطور ایک دہشتگرد ریاست مشہور کرادیں۔
بیس سال پاکستانی شہری مرتے رہے۔ بیس سال پاکستان پر انگلیاں اٹھتی رہیں۔ بیس سال ہمارے چھلنی چھلنی وجودوں پر دشنام کے تیر چلتے رہے۔
بیس سال بعد ایک مردِ مجاہد نے دنیا کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے مذہب سے دہشتگردی کے نام کی کالک ہٹانے کی ڈیمانڈ کی۔
بیس سال بعد کوئ اپنے مذہب اپنے وطن کی آواز بنا۔ اپنی قربانیاں گنوائیں، اپنی تکلیفوں کا ازالہ مانگا۔
بیس سال بعد اس نے اسی ہندوستان کی حقیقت کو بھی دنیا کے سامنے عیاں کیا جو اپنے کیسری چولے کے پیچھے اپنے سیاہ کرتوت چھپاتا رہا۔ اس کشمیر کا مقدمہ بھی لڑا جس کو وہ اپنی تئیں فتح کرچکا تھا۔ اس فلسطین کی بھی بات کی جس پر دنیا مٹی ڈال چکی تھی۔ ان افغانوں کی بھی آواز بنا جن کے اپنے ڈالروں کے عوض ان کی زبوں حالی بیچتے تھے۔
بیس سال بعد ایک مردِ حق نے عالمی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کہ میری قوم تم لوگوں کی عالمی گیموں کا چارہ نہیں بنے گی۔ صلہ کیا دیا اس کو؟
جب پوری دنیا اس کی تعظیم میں اٹھ کھڑی ہوئ، جب پوری دنیا کے مسلمانوں نے اس کو اپنا رہنما گردانا اس کے اپنے ملک کے چند غداروں نے ان عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر اس کی کمر میں چھرا گھونپا۔ اس کا قصور یہ کہ اس نے وہ چھرا اپنی قوم کے سامنے رکھ دیا۔ اس کا قصور یہ کہ اس نے اپنے ��یس کے گرہن زدہ قمر کی حقیقت بیان کر دی۔ اس کا قصور یہ کہ اس نے شریفوں کی شرافت، زرداروں کے زر کی سیاہی، وطن پرستوں کی وطن دشمنی اور دینداروں کی لادینیت کا پردہ چاک کردیا۔ اس کا قصور یہ کہ اس نے ان سب کے آقاؤں کو ننگا کر دیا۔ آج ہوری دنیا دانتوں میں انگلیاں دبائے دیکھ رہی ہے، ایک “ریاست” اپنے ایک محب وطن سپوت پر حب الوطنی کی فردِ جرم عائد کررہی ہے۔
کوتاہ قامت، تنگ ذہن، پست کردار، بد طینت، بد خصلتوں! دنیا تم پر لعنت بھیج رہی ہے۔
“صاحب قوم کے شعور کی توہین نا کریں۔ آپ چور کو چور کہتے تھے قوم ہم آواز تھی۔ آپ فتوی لگاتے آپ پر ایمان کی حد تک بھروسہ تھا، لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے۔ آپ غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹتے آپ کی حب الوطنی کی قسم کھاتے تھے، کس نے جھٹلانا تھا؟ مگر اب نہیں اب آپ قوم کی توہین کر رہے ہیں۔ آپ صحافی چھوڑ، چینلز خریدیں، جس حب الوطنی کی بنیاد پر آپ کے بیانیے بکتے تھے آپ بھی جانتے ہیں کہ اس کا تمغہ ان سینوں پہ بھی سجا ہے جن کو آپ زبردستی مقابل بنارہے ہیں”؛ ارشد بھائ کی مسکراہٹ بتا رہی تھی وہ دوسری طرف کی جھنجلاہٹ سے بڑے محظوظ ہورہے ہیں۔
ادھر سے گلہ یہ بھی تھا کہ ان کے شاہکار بھی اپنے نام کرلیے۔ “نغمے بھی قوم کے ہیں، قوم کے پیسے سے بنے ہیں۔ احتساب بھی قوم کے پیسے کا تھا جس سے آپ پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ جب آپ قوم کو چھوڑ کر ان کے مجرموں کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو قوم بھی آپ کے ساتھ نہیں کھڑی ہوگی۔ وہ اپنے نغموں۔ قسموں۔ اپنے بھروسے، سب سے آپ کو عاق کر دے گی۔ سمجھ جائیں آپ کی طاقت قوم ہے، ڈنڈا نہیں۔ آپ کے پاس صرف ڈنڈا رہ جائیگا۔ ڈنڈے سے دل نہیں جیتے جاتے”۔
راس نہیں آتی اتنی جرات ہم جیسی قوموں کے بیٹوں کو۔ راس آئ بھی نہیں بڑی قیمت چکھانی پڑی لیکن بات اس کی یہ بھی سچ ثابت ہوئ، اس کی ہر بات کیطرح۔۔
ڈیڑھ سال سے بیانیے بن رہے ہیں۔ یار بک گئے۔ غم خوار بک گئے۔ وفاداریاں اونے پونے نکل گئیں۔ ایمان کوڑیوں کے بھاؤ آ گئے۔ اصول، اقدار، قانون کونسی چیز ہے کہ جس کی بولی نہیں لگی۔ لیکن قوم نے اپنے بھروسے سے ایسے عاق ک��ا ہے بیانیہ بن کے ہی نہیں دے رہا۔
ارشد بھائ جان سے گئے، جیتے جی رسوا کرنے کی کوششیں کیں، مرے تو کیا کیا تہمتیں لگیں۔ ظلِ شاہ کے جسم میں کوئ عضو سلامت نہ چھوڑا، جن انگلیوں سے اس کا خون ٹپک رہا تھا، وہی ہاتھ اس کے محبوب گریباں پر ڈالے۔ اب عمار۔۔
عمران خان کی جان پر حملہ، کردار پر حملہ، مکان پر حملہ، حملہ بھی اس پر، پرچہ بھی اس پر۔
ہم بالوں سے پکڑ کر دنیا کے سامنے بھری عدالت سے گھسیٹتے لے گئے، ظلم تم نے کیا تم نے آنکھیں کیوں نا پھیریں؟
پنجاب میں الیکشن جیت گئے؟ زیادتی کردی اب تو آئین پامال ہوگا مجبوری ہے ہم کہہ رہے ہیں، مان لو تمہاری مجبوری ہے۔
کشمیر، گلگت بلتستان میں تمہاری حکومتیں ہیں؟ ہم نہیں چاہتے۔ خاموشی سے حوالے کردو۔ بولوگے تو برے بنوگے۔
سائفر تھا، نہیں تھا۔ مداخلت تھی، سازش تھی۔ ہائے ہائے قوم کو بتا دیا؟ یہ کوئ بتانے والی بات تھی بند کمرے میں گھٹنوں کو ہاتھ لگانے ��ھے یہ کیا کردیا؟
سرحد پار سے کوئ آیا؟ نہیں آیا۔ پراپگنڈہ کر رہے ہو، شرپسند کہیں کے۔ مگر اب آگیا ہے، دیکھو لوگ مر رہے ہیں بد امنی ہے، الیکشن نہیں مانگنا۔۔ اب جواب مانگ رہے ہو؟ سوال ہوچھ رہے ہو؟ غدار! واجب القتل ہو تم تو۔
میں ��ہشتگرد، میرے یار غدار، میری قوم باغی، میری نسل گناہگار۔
مسئلہ یہ ہے کہ سننے والوں کو یاد ہے، بولنے والے اپنی ہی گڑی کہانی بھول جاتے ہیں۔ پھر جھنجلا جاتے ہیں کہ قوم مان کیوں نہیں رہی۔
جنجھلاہٹ میں پھر ۹ مئی کی تلوار لے کر پل پڑتے ہیں۔۔ اور ۹ مئی بھی کیا اپنی صفوں میں مڑ کر پوچھ لیں۔ وہ بھی جانتے ہیں کہ ۹ مئ کی فصل ۹ اپریل کو بوئ گئ تھی اور بونے والے ہاتھ دونوں مرتبہ ایک ہی تھے!
“بیانیہ سچ پر بنتا ہے” ایک اپنے نام کیطرح راست باز دیوانہ ہوتا تھا ارشد شریف، جس نے تمہیں یہ حقیقت سمجھانا چاہی تھی۔
آج بھی حقیقت یہی ہے کہ جب قوم اپنے بچوں کے جنازے پڑھتے نڈھال ہورہی ہو تو د��من کے بچوں کو پڑھانے کا عزم کانوں میں پگلتے سیسے کیطرح اترتا ہے۔ خدا کے لیے مان جاؤ۔ قوم کے شعور کی توہین نا کرو۔لاشوں پہ نوحے لکھے جاتے ہیں بیانیے نہیں بنائے جاتے۔