مخدوش عمارت کے خلاف کارروائی کی کوشش پر پر سابق ممبر قومی اسمبلی آصف خان اور ممبر صوبائی اسمبلی فضل الہی رکاوٹ بن گئے اور انہیں اور انکےاہلِ خانہ کوہراساں کیا۔
بلڈنگ انسپکٹر عبدالقدوس خان کا بیان
اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد اگر کِسی کو کوئی شک رہ گیا ہے کے تحریک انصاف اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں جنہوں نے ملکر تیرہ سالوں میں خیبر پختونخوا تباہ کیا تو انتہائی افسوس کی بات ہے. ...
یہ صاحب واضح کہنے کو تیار نہیں کہ TTP ایک دھشت گرد تنظیم ھے پاکستان دشمن ھے۔ جب ایک جماعت یہ نظریہ رکھتی ھو اسکو پاکستان کے کسی حصہ پہ حق حاکمیت رہتا ھے؟
پشاور میں گرنے والی بلڈنگ کی انسپیکشن کرنے والے سرکاری ملازم کا بیان
* اب تک اس سانحے میں 20 بچے لقمۂ اجل بن چکے ہیں، جن میں ایک استانی بھی شامل ہے۔ اس واقعے سے میرا دل بے حد رنجیدہ ہے اور مجھ سے کچھ بولا بھی نہیں جا رہا۔
* میں آج آپ سب کے سامنے حاضر ہوا ہوں تاکہ اصل صورتحال بیان کر سکوں۔ دو سے تین سال پہلے مجھے احکامات دیے گئے تھے کہ جا کر اس عمارت کا معائنہ کروں اور رپورٹ پیش کروں۔
* جب میں وہاں گیا اور عمارت کی حالت دیکھی تو وہ اسکول تو کیا، کسی عام استعمال کے قابل بھی نہیں تھی۔
* جس کے بعد عمارت کے مالک خان محمد صاحب کو باقاعدہ نوٹس جاری کیا گیا۔ نوٹس میں صاف لکھا تھا کہ اس عمارت کو فوری خالی کیا جائے کیونکہ اس کی حالت انتہائی خستہ اور مخدوش ہے۔
* لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ میری بات ماننے کے بجائے وہاں کے ایم این اے اور ایم پی اے—فضل الٰہی صاحب اور آصف خان صاحب—نے خدا ان کا بیڑا غرق کرے، میرے لیے مسائل اور پریشانیاں کھڑی کر دیں۔ ان کے کارندے میرے پاس آ کر مجھے ڈراتے دھمکاتے اور ہراساں کرتے تھے۔
* یہ تقریباً چالیس پچاس سال پرانی خستہ حال عمارت تھی۔ مجھے دھمکیاں دی گئیں کہ اگر اس عمارت کے خلاف کوئی کارروائی کی تو تمہارا اور تمہارے بچوں کا جینا حرام کر دیں گے۔
* اس وقت میرے لیے شدید مشکلات پیدا کر دی گئیں، میرا گھر پر رہنا، بازار جانا اور بچوں کا اسکول جانا محال ہو گیا تھا۔
* میں اس قدر تنگ آ چکا تھا کہ آخرکار میں نے دفتر سے لمبی رخصت لی، اپنے بیوی بچوں کو ساتھ لیا اور مردان اپنے گاؤں منتقل کر دیا۔ تقریباً ڈیڑھ سے دو سال میں نے اسی اذیت اور پریشانی میں گزارے۔
* خدا ان کا بیڑا غرق کرے، میں اور کیا کرتا؟ میں تو صرف قانون اور قواعد کے مطابق اپنا فرض نبھا رہا تھا۔ مجھے جو احکامات ملے تھے، میں نے صرف ان کی تعمیل کی اور کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا تھا۔ یہ عمارت ہر لمحہ گرنے کے خطرے سے دوچار تھی۔
* صرف یہی ایک نہیں، بلکہ ایسی کئی پرانی اور مخدوش عمارتیں موجود ہیں جنہیں گرانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس دور میں مجھے اور میرے خاندان کو شدید ذہنی اور مالی اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔
* آج جب یہ سانحہ پیش آیا ہے تو میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے، مجھ سے کوئی لفظ ادا نہیں ہو رہا۔ انتہائی افسوس کی بات ہے۔
* میں آج ان لوگوں کے لیے یہ بات کر رہا ہوں کہ ان ایم این ایز، وزراء اور بااثر شخصیات نے جو ظلم میرے ساتھ کیا تھا، آج وہی ہوا جس سے میں نے خبردار کیا تھا؛ آج وہ عمارت منہدم ہو گئی اور اتنے معصوم بچوں کی جانیں چلی گئیں۔
* مجھے گہرا صدمہ ہے۔ شکر ہے کہ اب پشاور میں گورنر راج نافذ ہو چکا ہے۔
* میری موجودہ حکومت اور حکومتِ پاکستان سے یہ پرزور اپیل ہے کہ ان تمام ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور ان کا محاسبہ کیا جائے۔ ان سے پوچھا جائے کہ انہوں نے اس وقت مجھے قانونی کارروائی کرنے سے کیوں روکا اور احکامات پر عمل کیوں نہیں ہونے دیا؟
* میں نے کیا گناہ کیا تھا؟ میں تو صرف اپنے بچوں کے لیے حلال روزی کمانے کی خاطر نوکری کر رہا تھا اور انصاف کے تقاضے پورے کر رہا تھا۔ اگر اس وقت میری بات مان لی جاتی اور یہ لوگ رکاوٹ نہ بنتے تو آج یہ معصوم پھول یوں ضائع نہ ہوتے۔
* خدا کے واسطے، میری حکومت سے التجا ہے کہ ان بااثر مجرموں کو سخت سے سخت اور عبرتناک سزا دی جائے، کیونکہ وہ سزا کے مکمل حقدار ہیں۔ انہی کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے آج معصوم بچے شہید ہوئے ہیں۔
* ان بچوں کے والدین اور ماؤں سے جا کر کوئی پوچھے کہ ان پر کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ ان بااثر لوگوں کی غفلت اور خودغرضی کی بھینٹ چڑھ کر یہ پھول جیسے معصوم بچے آج قبروں میں اتر گئے ہیں۔ انتہائی افسوس کا مقام ہے۔
یہ وو لوگ ہے
جنہوں نے اس ملک اور اس قوم کیلئے
اپنے بڑھاپے کا سہرا جوان بیٹے
اپنے مظبوط بھائی
اپنے شفیق باپ
اور اپنے مجازی خدا قربان کر کے جوانی میں بیوہ ہو گئ
یہ لوگ قابل احترام ہیں
ان عظیم لوگوں کے احسانات کا احساس کرتے ہوئے ان کا احترام کرنا چاہیے تھا
لیکن افسوس کہ پچھلی حکومت نے ان کا احترام نہ کیا
ان کی قربانیوں کو تسلیم نہ کیا
انہیں در در ذلیل و رسواء کیا
ان کے پیاروں کی شہادت کا مذاق اڑایا
لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں
آج ریاست نے بذریعہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم خان کنڈی صاحب کے ان کے سروں پر دست شفقت رکھا
انکی قربانیاں تسلیم کی
انہیں بتا دیا کے ریاست آپ کے ساتھ ہے
آپ ریاست کو یاد تھے
ریاست آپکی قربانیوں کا احترام کرتی ہے
ریاست انکے پیارے تو نہیں لوٹا سکتی لیکن انکے دکھوں کا مداوا کرنے کی کوشش ضرور کر سکتی ہے
ریاست نے دکھا دیا کے ریاست واقعی ماں ہیں ،،
اللہ تعالیٰ تمام شہداء کی مغفرت فرمائیں اور تمام شہداء کی فیملیز کو صبر وہ جمیل ؤ استقامت عطا فرمائیے ،،
پاکستان زند باد 🇵🇰✊
خیبرپختونخوا کی پچھلی حکومت شہداء کے جنازوں تک میں شرکت نہیں کر رہی تھی
اور ایک یہ حکومت ہے جو شہداء کی فیملیز کی ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہے،
فرق واضح ہیں ۔۔
اسکا نام فیض الرحمٰن جسرا ھے ۔ یہ ضلع خوشاب کی تحصیل نور پور کا رہاٸشی ھے ۔ یہ ریاست پر بارے مغلظات بکتا ھے ۔ ایسے انتشاری لوگوں کیخلاف اداروں کو سخت ایکشن لینا ہو گا ۔ ایسے لوگوں کا محاسبہ ہو گا تبھی بدلاٶ آٸے گا ۔ تمام حکام سے گزارش ھے کہ حکومت اور صدر و وزیراعظم پاکستان کا اس قسم کی منافرت پھیلانے والوں کیخلاف سخت ایکشن لیا جاٸے
برمنگھم ریلوے اسٹیشن پر ایک فلسطینی بھائی سے ملاقات, ایک ناقابلِ فراموش لمحہ! 🇵🇰🇵🇸
آج برطانیہ کے شہر برمنگھم کے ایک ریلوے اسٹیشن پر فلسطین سے تعلق رکھنے والے ایک شہری، جن کا نام ابراہیم تھا، سے ملاقات ہوئی۔ تعارف کے دوران جب میں نے انہیں بتایا کہ میرا تعلق پاکستان سے ہے تو، میرے بیان کے مطابق، ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ انہوں نے ہاتھ اٹھائے اور مسلم امہ، پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب کے لیے دعائیں کرنے لگے۔
ابراہیم نے جذباتی انداز میں کہا کہ اگر عاصم منیر صاحب نہ ہوتے تو نیتن یاہو اور اس کی فوج فلسطین اور غزہ کے عوام پر مزید تباہی مسلط کر سکتی تھی۔ اس نے کہا کہ اگر عاصم منیر صاحب نہ ہوتے تو نیتن یاہو اور اس کی فوج فلسطین اور غزہ کے عوام کو کھا جاتی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ غزہ میں بہت سے گھرانوں میں پاکستان کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں اور عاصم منیر صاحب کو غزہ کے عوام کے لیے دورِ حاضر کے صلاح الدین ایوبی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
یہ ابراہیم کے اپنے الفاظ اور ان کے جذبات کا اظہار تھا۔ ان کی باتیں سن کر میرا سینہ فخر سے چوڑا ہو گیا اور میرا سر فخر سے بلند ہو گیا۔ ایک پاکستانی ہونے کے ناتے یہ لمحہ میرے لیے انتہائی جذباتی اور یادگار تھا۔
یہ ملاقات مجھے یاد دلاتی ہے کہ مظلوم فلسطینی عوام کے دلوں میں پاکستان کے لیے محبت، امید اور یکجہتی کے جذبات کتنے گہرے ہو سکتے ہیں۔
ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلسطین کے مظلوم عوام کی حفاظت فرمائے، انہیں امن و آزادی عطا کرے اور پاکستان کو ہمیشہ مظلوموں کی حمایت کرنے کی توفیق دے۔ آمین!
پاکستان زندہ باد! 🇵🇰
فلسطین پائندہ باد! 🇵🇸
پاک فوج زندہ باد!
پاکستان اور فلسطین کی دوستی ہمیشہ قائم و دائم رہے!
@OfficialDGISPR
اکثر مشاہدے میں یہ بات آتی ہے کہ ہماری تبصروں میں دنیا کی سب برائیاں پاکستان میں اور سب اچھائیاں باقی ممالک میں بتائی جاتی ہیں کئی لوگ تو افغانستان کو پاکستان سے بہتر سمجھتے ہیں بھارت بارے خیال کیا جاتا ہے گویا ادھر دودھ شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں درحقیقت ایسا نہیں ہے ہم باقی ممالک بارے جانتے کم ہیں یا موازنہ درست نہیں کرتے، بھارت میں آج کل کیا ہو رہا ہے؟ اس بارے جاننے کیلئے وہاں کی خبروں پر نظر رکھیں،
کوئی بھی ملک آئیڈیل نہیں جن ممالک کی ہم مثالیں دیتے ہیں یا وہاں جا کر رہنا چاہتے ہیں وہاں بھی حالات اتنے اچھے نہیں، اکثر سمندر پار پاکستانیوں بالخصوص والدین سے بات ہوتی ہے وہ اپنے بچوں کی تربیت اور وہاں انتہا پسند جماعتوں سے خوفزدہ ہیں وہ اپنے آپکو دائیں بازو (جو دیگر قومیتوں کے لوگوں کو نکالنا چاہتے ہیں) اور بائیں بازو (جو ہم جنس پرستی کو فروغ دے رہے ہیں) کے درمیان پھنسا ہوا محسوس کرتے ہیں، اس وجہ سے کئی والدین عرب ممالک منتقل ہونا چاہتے تھے اب وہ بھی محفوظ نہیں رہے، لہذا آپ جدھر بھی ہیں اس وجہ سے پریشان نہ ہوں کہ آپکے علاوہ باقی لوگ خوش ہیں یا بیرون ملک جانے والے بہت سکون میں ہیں، مسائل ہر جگہ پر ہیں محض انکی نوعیت میں فرق ہے اور مسئلہ کوئی بھی چھوٹا نہیں ہوتا چاہے سر میں درد ہی کیوں نہ ہو
ہمارے پاس مصدقہ اطلاعات موجود ہیں کہ پی ٹی آئی کے بعض عناصر ٹی ٹی پی کیساتھ رابطے میں ہیں اور خیبرپختونخواہ میں بڑے پیمانے پر دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی کررہے ہیں ۔
مارخور ان تمام عناصر پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔
مارخور خبردار کررہا ہے کہ انتشار کی راہ ترک کردیں ۔
ورنہ قانون حرکت میں آئے گا اور کوئی معافی نہیں ملے گی ۔