Emergency 🚨
جس کی نظر سے یہ ٹویٹ گزرے اگنور مت کرے ریٹویٹ کرکے اس ٹرینڈ کو جوائن کریں
اور عمران خان کے لیے اواز اٹھائ��ں عمران خان کی جان کو خطرہ ہے
#عمران_خان_کی_جان_کو_خطرہ
”ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہئیے کہ اصل غدار تھا کون؛ جنرل یحیٰ خان یا شیخ مجیب الرحمٰن“ - بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان
#غدار_کون_تھا
سر یہی تو میرا سوال ہے کہ کیسے؟
بارہا بتایا کہ صرف گوادر جاتے ہوئے 10 بار ہم نے اپنا شناختی کارڈ دکھایا
کوئ چھوٹی سی بوتل میں تو تیل نہ آتا ہوگا گاڑیوں کی لمبی لائنز ہوتی ہیں
کیسے ؟
کیسے؟
میرے دماغ کی دہی بن چکی ہے سوچ سوچ کر
بنوں میں امن مارچ کے شرکاء پر فائرنگ کا مجھے اس کے علاوہ کوئی مقصد سمجھ نہیں آتا کہ اپنی مٹھیوں سے سرکتی ہوئی طاقت بچانے کے لیے پاکستان کی فوجی قیادت خیبر پختونخواہ کو آگ میں دھکیل کر اب یہاں نفرت کی سیاست کو فروغ دینا چاہتی ہے ورنہ جو گھر سے نکلے ہی امن کے نام پر ہیں ان پر گولیاں برسا کر انہیں کس سے محبت کا درس دینا مقصود ہے؟
کونسی پالیسی ہے یہ کہ پہلے سیف پیسج فراہم کرو، پھر واپس لاکر بساؤ، پھر ان کو مارنے کے بہانے بے گناہوں کا خون بہاؤ، وہ اپنے خون کا حساب مانگنے نکلیں تو اور گولیاں چلاؤ۔ اور خون بہاؤ۔۔ چالیس سال سے یہی ہی کھیل رچایا جارہا ہے، لیبل بدل بدل کے ایک ہی سودا ہے جو ہمارے خون کی قیمت پر بیچا جاتا ہے۔ دو سال سے ہم کہہ کہہ تھک گئے ہیں کہ مزید جنازے اٹھانے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ کسی کے دل میں خلوص کی رمق بھی ہو تو دو سال کم عرصہ نہیں ہوتا اس بات کی طرف توجہ کرنے کے لئے کہ جس کا عندیہ آپ کو ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں امن کا نعرہ لگاتی عوام دے رہی ہو۔
نیت کا کھوٹ ہی آپ کو بےخبر رکھ سکتا تھا یا پھر شریکِ جُرم ہونا۔ اور اگر کوئی آخری گمان رہ بھی گیا تھا اس بات میں تو آج وہ بھی زائل ہوا؛ تم ہو شریکِ جرم!
تم شریکِ جُرم نا ہوتے تو حالات کو سانحات کی نہج پر ہی نہ آنے دیتے۔ تم شریکِ جُرم نہ ہوتے تو ہماری پکار کو دیوانے کے بڑ کہہ کر نہ جھٹلاتے۔ تم شریکِ جُرم نہ ہوتے تو ہمارے ہاتھوں میں بغاوت اور غداری کے پرچے نہ ہوتے۔ تم شریکِ جُرم نہ ہوتے تو تمہاری آستینوں کے سانپ ہماری گل��وں میں اژدھوں کیطرح نہ پھنک رہے ہوتے۔ تم لائے ہو یہ آگ ہماری دہلیز پر اور اب تم مصر ہو کہ ہم مان لیں کہ تم اسے بجھاؤ گے؟
اپنے آنگن کے پھول تو اپنے خون سے سینچے تھے ہم نے، کونسی قیمت تھی جو اپنی خوشحالی کی ادا نہیں کی تھی۔۔ جو مانگا تم نے، دان دیا۔ دھن دولت، طاقت عزت۔۔ کیا نہیں دیا اس قوم نے تمہیں؟
بدلے میں فقط ایک در و دیوار کی حفاظت کا تقاضہ تھا تم سے، تم نقب زنوں کے سہولتکار بن گئے۔۔ ہمارے قاتلوں کے آلہ کار بن گئے؟ تم۔ میرے قاتل میرے دلدار، تم ہی میری مٹی کے غدار بن گئے۔۔ میں نہیں کہتا آفیشل میٹنگز کا احوال لے آؤ باہر، کیا تمہارے سامنے پولیس افسر منت نہیں کررہے آج کہ ہمارے راستے کی ایک ہی رکاؤٹ ہے؛ ہمارے محافظ۔ یہ کہ ہم اپنے شہر بسانا بھی جانتے ہیں، بچانا بھی۔ بس ایک تم اپنے پنجے نکال لو۔
بس ایک تم ہماری گردن میں گڑے اپنے د��نت نکال لو۔
مگر تم تو شریکِ جُرم ہو۔ تم ہی تو میرے مجرم ہو!