جمہوریت کا تقاضا ہے کہ جےیوآئی کو پُرامن سیاسی اجتماعات کی اجازت دی جائے، رکاوٹیں نہیں کھڑی کی جائیں۔ عوامی حقوق کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ ان شاء اللہ قصور میں عوامی حقوق کانفرنس بھرپور انداز میں منعقد ہوگی۔
#قصور_مولانا_آ_رہا_ہے
سردار اختر جان مینگل کی وفد کے ہمراہ جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد
ملاقات میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر بات چیت ۔ترجمان جےیوآئی
ملاقات میں بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال پر غوروخوض اور انتہائی تشویش کا اظہار کیا گیا۔اسلم غوری
امن وامان کی موجودہ صورتحال کسی بھی صورت ملک اور قوم کے مستقبل کے لئے امید افزاء نہیں ۔رہنماؤں کا اتفاق ۔ترجمان جےیوآئی
دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ موجودہ ہائبرڈ نظام کی وجہ سے معیشت اور امن وامان کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔اسلم غوری
ملاقات میں اسلم غوری ،سنیٹر کامران مرتضی ،مولانا صلاح الدین ایوبی، مولانا عبیدالرحمان بھی موجود تھے۔ترجمان جےیوآئی
جاریکردہ ۔مرکزی میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
بلوچستان میں امن وامان کی موجودہ دگرگوں صورتحال تشویشناک ہے ۔ترجمان جے یو آئی
عوام کے جان ومال کا تحفظ بنیادی حق ہے ۔اسلم غوری
بدامنی کی اس لہر کو سنجیدہ نہ لینا اور ریاستی سطح پر موثر اقدمات کا نہ ہونا مزید تشویش کا باعث ہے ۔اسلم غوری
حکمرانوں کی لاپرواہی ،غفلت اور نااہلی سے کسی بڑے سانحے کے رونما ہونے کی بو آرہی ہے ۔اسلم غوری
ہائبرڈ نظام آہستہ آہستہ اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ترجمان جے یو آئی
عوامی امنگوں کے برعکس دھاندلی زدہ مسلط حکومتیں عوام کو امن دینے کی اہلیت سے عاری ہیں ۔اسلم غوری
اسمبلی فلور پر مسلسل ہماری قیادت اس جانب توجہ مبذول کراتی رہی ،لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔اسلم غوری
بدامنی کی بدترین صورتحال بلوچستان اسی سالہ محرومیوں کا نتیجہ ہے ۔اسلم غوری
عوامی محرومیاں ،وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم بدامنی کے بنیادی اسباب ہیں ۔ترجمان جے یو آئی
بلوچستان ،صوبہ خیبر پختونخواہ اور کشمیر کے حالات پر قومی قیادت کو سر جوڑ کر متفقہ لائحہ عمل دینا وقت کی ضرورت ہے ۔اسلم غوری
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
مانسہرہ:قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کے معتمد خاص مفتی ابرار احمد خان کے بیٹے مولانا حمزہ احمد کی تقریب ولیمہ
ولیمہ میں قائد جمیعت کی خصوصی شرکت
مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور مختلف مکتبہ فکر کے سینکٹروں افراد کی شرکت
پریس ریلیز
جمعیت علماء اسلام پاکستان
02 جون 2026
اسلام میں اجتماعیت اور نظمِ جماعت بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، ذاتی رائے کو اجتماعی فیصلوں پر ترجیح نہیں دی جا سکتی۔مولانا فضل الرحمان
کراچی :
جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اسلام اجتماعیت، نظمِ جماعت اور اجتماعی قیادت کی اطاعت کا دین ہے۔ جماعت سے وابستگی کے ساتھ اس کے اجتماعی فیصلوں کی پاسداری ہر کارکن اور ذمہ دار کی دینی و تنظیمی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی فرد کی ذاتی رائے یا اختلافِ نظر، اجتماعیت سے علیحدگی یا اجتماعی نظم سے انحراف کا جواز نہیں بن سکتا۔
انہوں نے کہا کہ کامیاب تحریکیں اصول، حکمتِ عملی اور واضح پالیسی کی بنیاد پر آگے بڑھتی ہیں۔اس لیے جذبات ہمیشہ پالیسی کے تابع ہونے چاہئے ۔جبکہ پالیسی کو وقتی جذبات کے تابع نہیں بنایا جا سکتا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ برصغیر کی دینی و سیاسی تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ تقسیمِ ہند سے قبل امارتِ شرعیہ کے قیام کی تجویز پر حضرت شیخ الحدیثؒ نے اس بنیاد پر اختلاف کیا تھا کہ امارت کے قیام کے لیے قوت و اقتدار کا ہونا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ دینی مدارس کے نصاب میں تاریخ کے ساتھ السیاسۃ الاسلامیہ کے موضوع پر بھی ایک مستقل کتاب شامل کی جانی چاہیے تاکہ علماء کرام عصری سیاسی تقاضوں اور اسلامی سیاسی فکر سے بہتر طور پر واقف ہو سکیں۔
بعد ازاں اجلاس میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلسِ عاملہ کے تحت صدرِ وفاق اور ناظمِ اعلیٰ کے انتخاب کا مرحلہ بھی مکمل ہوا۔ مولانا فضل الرحمان نی شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کو آئندہ پانچ سال کے لئے صدرِ وفاق اور قاری حنیف جالندھری صاحب کو ناظمِ اعلیٰ برقرار رکھنے کی تجویز پیش کی، جسے شرکائے اجلاس نے مکمل اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا۔
جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ترجمان محمد اسلم غوری کے مطابق قائدِ جمعیت نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ دینی مدارس کی آزادی، اتحادِ امت، نظریاتی تشخص اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد پہلے سے زیادہ قوت اور یکجہتی کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔
محمد اسلم غوری نے مفتی تقی عثمانی کو صدر وفاق اور قاری حنیف جالندھری کو ناظم اعلیٰ وفاق منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی ۔
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
سوات: رہنما جےیوآئی مفتی فضل غفور کی اہم پریس کانفرنس
ون پوائنٹ ایجنڈے پر آج کا یہ اجلاس منعقد ہوا تھا۔
1۔ مالی سال 2026-27 کا جو بجٹ پاس ہوا ہے، اس کے فنانس بل میں ملاکنڈ ڈویژن پر مختلف اقسام کے ٹیکسوں کے نفاذ اور کسٹمز ایکٹ کی ایکسٹنشن کے حوالے سے جو عوامی بازگشت سنائی دے رہی ہے، اس نے عوام میں شدید بے چینی، اضطراب اور اشتعال کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔
چنانچہ جس وقت سابق فاٹا اور ہمارے ملاکنڈ ڈویژن، جو Provincially Administered Tribal Areas (PATA) کے نام سے ہمارے آئین میں ایک جداگانہ حیثیت رکھتا تھا، 27 مئی 2018ء کو فاٹا کے انضمام کے ساتھ جب ملاکنڈ ڈویژن کی آئینی حیثیت کو ختم کیا جا رہا تھا، اس وقت بھی جمعیت علمائے اسلام نے ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کی آواز بن کر اس حیثیت کے خاتمے کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔
گو کہ اسمبلی میں ہماری تعداد کم تھی، لیکن جمعیت علمائے اسلام کے علاوہ باقی جماعتوں نے ملاکنڈ ڈویژن کی آئینی حیثیت کے خاتمے کی حمایت کی، جس کے نتائج آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ ان نتائج میں کسٹمز ایکٹ کی ایکسٹنشن اور مختلف اقسام کے ٹیکسوں کا نفاذ بھی شامل ہے۔
چنانچہ ایک کروڑ سے زائد آبادی والے اس ڈویژن میں اگر شرحِ غربت کو دیکھا جائے تو پچاس سے ساٹھ فیصد تک لوگ غربت کا شکار ہیں۔ ساٹھ فیصد ہمارے نوجوان بیرونِ ملک مزدوری کر کے اپنے گھروں کے چولہے جلا رہے ہیں، جبکہ گیارہ لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔
پھر 1969ء میں ہمارا پاکستان کے ساتھ الحاق ہوا۔ 1947ء سے 1969ء تک جو ترقیاتی فنڈز پاکستان کے دیگر علاقوں میں خرچ ہوتے رہے، ملاکنڈ ڈویژن ان فنڈز سے محروم رہا۔ اس وقت سے یہ ایک پسماندہ علاقہ ہے، اور پھر دہشت گردی، فوجی آپریشنز، زلزلوں اور سیلابوں نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔
امن و امان کی صورتحال یہ ہے کہ یہاں کی تاجر برادری خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتی۔ ہماری شاہراہیں غیر محفوظ ہیں، دن ہو یا رات، ڈاکوؤں کا راج رہتا ہے۔ بونیر کی بین الصوبائی شاہراہ گزشتہ رات بارہ بجے سے صبح چار بجے تک ڈاکوؤں کے نرغے میں رہی۔ ایسی صورتحال میں ملاکنڈ ڈویژن کے عوام پر ٹیکسوں کا بم گرانا، میرے خیال میں، ایک نئے کشمیر جیسے حالات پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ یہ اسی نوعیت کے حالات پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
اس حوالے سے جمعیت علمائے اسلام سب سے پہلے اپنی قیادت کا شکریہ ادا کرتی ہے کہ ہمارے صوبائی امیر، سینیٹر مولانا عطاء الرحمٰن صاحب نے ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کی آواز بن کر اس ٹیکس کے نفاذ کے خلاف سینیٹ میں کال اٹینشن نوٹس جمع کرایا، جبکہ محترمہ نعیمہ کشور صاحبہ نے قومی اسمبلی میں اس ظالمانہ ٹیکس کے خلاف ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرایا۔
ہم قومی اسمبلی اور سینیٹ آف پاکستان میں ملاکنڈ ڈویژن کی آواز بننے پر اپنی قیادت کو ملاکنڈ ڈویژن کے ایک کروڑ عوام کی جانب سے سلام بھی پیش کرتے ہیں اور خراجِ تحسین بھی پیش کرتے ہیں۔
ساتھ ہی ہمارے گیارہ ایم این ایز اور اٹھائیس ایم پی ایز، خواہ وہ فارم 47 کے ہوں، فارم 46 کے ہوں یا فارم 45 کے، اور خواہ وہ صوبے میں برسرِ اقتدار ہوں یا وفاق میں، ہم اس موقع پر ان سب سے استدعا کرتے ہیں کہ متحد ہو کر قوم کی آواز بنیں۔
آپ قوم کی آواز بنیں۔
آپ قوم کی زبان بنیں۔
اسی کے ساتھ ہم ملاکنڈ ڈویژن کے عوام سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس موقع پر غفلت کا مظاہرہ نہ کریں بلکہ آگے بڑھ کر اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کریں۔
پانچ تاریخ کو ٹریڈ یونین کی جانب سے جس احتجاج اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے، جمعیت علمائے اسلام ملاکنڈ ڈویژن اس کی مکمل تائید اور حمایت کا اعلان کرتی ہے۔ ان شاء اللہ العزیز، ہمارے کارکنان اور جمعیت بزنس فورم سے وابستہ تاجر برادری اس احتجاج میں بھرپور شرکت کرے گی۔ آئندہ بھی جمعیت علمائے اسلام صفِ اول میں رہتے ہوئے قائدانہ کردار کے ساتھ اس مہم کو آگے بڑھائے گی۔
اسی طرح جمعیت علمائے اسلام کی تمام ضلعی، تحصیل اور مقامی تنظیموں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس عوامی مسئلے کو عوام تک پہنچائیں، عوام کو اس حوالے سے بریف کریں، انہیں اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونے پر آمادہ کریں، اور تحصیل و ضلعی سطح پر آل پارٹیز کانفرنسز منعقد کریں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے ملی و قومی وحدت کے ساتھ ملاکنڈ ڈویژن کے حق میں آواز بلند کی جا سکے۔
جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کاپارٹی رہنماء پرفیسر زبیر عباسی کے والد کے انتقال پر اظہارِ افسوس
اللہ کریم مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے ۔مولانا فضل الرحمان
والدین اللہ کی نعمت ہیں ۔مولانا فضل الرحمان
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے۔ مولانا فضل الرحمان
عزیزم زبیر عباسی اور اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتا ہوں ۔مولانا فضل الرحمان
لواحقین کے غم میں شریک ہوں ۔مولانا فضل الرحمان
اللہ کریم لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے ۔مولانا فضل الرحمان
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
ترجمان جے یو آئی محمد اسلم غوری کا جے یوآئی رہنماء زبیر عباسی کے والد کی وفات پر اظہار افسوس
اللہ کریم مرحوم کی کامل مغفرت فرماکر اعلی علیین میں مقام عطاء فرمائے ۔
والد کی رحلت یقینا بڑا صدمہ ہے
اللہ کریم برادرم زبیر عباسی ،ان کی فیملی اور دیگر لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
مسئلہ کشمیر نہایت حساس اور قومی اہمیت کا معاملہ ہے، جسے جذبات کے بجائے عقل، دانش اور سیاسی بصیرت سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ کشمیری قیادت کی درخواست پر میں نے ثالثی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی آمادگی ظاہر کی تاکہ کسی بھی ممکنہ تصادم اور خون خرابے سے بچتے ہوئے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جا سکے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی واضح پوزیشن سامنے لائے تاکہ افہام و تفہیم کے ذریعے مسئلے کا قابلِ قبول حل تلاش کیا جا سکے۔ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کشمیر کی موجودہ صورتحال قومی تشویش کا باعث ہے، اس لیے طاقت کے بجائے مشاورت، تحمل اور نیک نیتی سے آگے بڑھنا ہی پاکستان اور مسئلہ کشمیر کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی میڈیا سے گفتگو
JUI Chief Maulana Fazlur Rehman and Jamaat-e-Islami Ameer Hafiz Naeem ur Rehman addressed a joint press conference after their meeting.
They stressed the importance of dialogue, wisdom, and peaceful solutions regarding the current situation in Azad Kashmir, calling on all stakeholders to avoid violence and work together for stability and justice.
اسلام آباد: قائدِ جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ، جمعیۃ علماء اسلام راولپنڈی ڈویژن کے اضلاع کی مجالسِ عاملہ کے مشترکہ اجلاس میں شریک، ذمہ داران سے اہم خطاب
اسلام آباد: وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفرار بگٹی کی جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد
مولانا فضل الرحمان سے ملاقات،سیاسی صورتحال پر بات چیت
بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال پر گفتگو
عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتیں زمین پر جبکہ پاکستان میں آسمان پر حکومتی بے حسی کی انتہاء ہے ۔ترجمان جے یوآئی
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ایک ہفتہ برقرار رکھنے کا فیصلہ ظالمانہ ہے ۔ اسلم غوری
انٹرنیشنل مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں جنگ سے قبل کی سطح سے بھی نیچے چلی گئی ہیں۔ترجمان جےیوآئی
حکومت عوام کا خون چوسنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ۔ترجمان جےیوآئی
قیمتوں میں اضافے کے وقت بھی پیٹرولیم کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کیا گیا اور اب کمی کے وقت بھی ۔اسلم غوری
جنگ کے باعث ایرانی عوام نے اتنا نقصان نہیں اٹھایا جتنا کہ پاکستانی عوام نے برداشت کیا ۔ترجمان جےیوآئی
حکمران خدا خوفی سے بے نیاز ہو چکے ہیں ۔اسلم غوری
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
اسلام آباد: سرابرہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کی وفد کے ہمراہ سینئر سیاسی خاندان سیف اللہ برادران کی رہائش گاہ پر آمد
سابق وفاقی وزیر سلیم سیف اللہ خان نے سرابرہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کااستقبال کیا
ملاقات میں ملکی اور سیاسی صورتحال پر گفتگو
ملاقات میں علاقائی امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت اور تشویش کا اظہار
باہمی اتحاد سے علاقے کی بدامنی کا مقابلہ کرنے کا عزم
اپنی عوام کو دہشتگردوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا سکتا ۔رہنماؤں میں اتفاق
ملاقات میں سینیٹر مولانا عطاء الرحمان، مولانا اسجد محمود، مولانا محمد انور، مولانا عبد الحق،انجنئیر امیر نواز خان
شریک
ملاقات میں ہمایون سیف اللہ خان، سلیم سیف اللہ خان،انور سیف اللہ خان،عثمان سیف اللہ شریک
یہاں پر کچھ باتیں جذباتی حدود سے آگے جا کر ہوئی ہیں جب کہ یہ وقت بڑے تحمل کا ہے، بڑی سنجیدگی کا ہے، برداشت کا ہے۔
جناب سپیکر! میں انتہائی احترام کے ساتھ عرض کرنا چاہوں گا کہ کل آپ بھی کچھ ضرورت سے زیادہ جذباتی نظر آئے۔حضرت! کاین گناہیست کہ در شہر شما نیز کنند
اگر آج یہاں سے کوئی ایسی بات کی جا رہی ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ وہ انسٹی ٹیوشنز کے بارے میں ہیں، تو کیا ہمارے کنٹینرز پر، ہمارے جلسوں میں جب میاں نواز شریف صاحب خطاب فرماتے تھے تو وہ آرمی چیف، آئی ایس آئی کی چیف کا نام لے کر ان کی خلاف تقریر نہیں کیا کرتے تھے؟ اور کیا دفاع کے محکمے کو وہ محکمہ زراعت نہیں کہا کرتے تھے؟
ہماری سیاست میں کبھی ہم ذرا حدود سے آگے چلے جاتے ہیں اور اچھی بات ہے خواجہ آصف صاحب نے جو باتیں کی ہیں کہ ہم بھی اپنے غلطیوں سے کچھ سبق سیکھتے ہیں، غلطیوں سے سبق سیکھنا اچھی بات ہے۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ ہاوس میں خطاب
ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں، ہم فوج کا احترام کرتے ہیں، ہم اسٹیبلشمنٹ کا احترام کرتے ہیں، لیکن ہمارے سامنے ایک آئین بھی ہے، ہمارے سامنے ایک قانون بھی ہے، جو ہمارے دائرہ کار کا تعین کرتا ہے، ہمارے اختیارات کے دائرے کو متعین کرتا ہے، اگر وہ اپنے دائرے میں رہے ہمارے سروں کے تاج ہیں۔
لیکن اگر وہ سیاست میں فریق بن کر سامنے آتے ہیں، انتخابات کے نتائج کو تبدیل کرتے ہیں اور بلوچستان میں اور گلگت میں حال ہی میں جو کارنامے دکھائے گئے ہیں اور جس طرح نتائج تبدیل کیے گئے ہیں میرے خیال میں اگر وہ سیاست میں آئیں گے تو پھر سیاست میں ہم ہیں اور سیاست میں ان کو جواب بھی دیا جائے گا۔
اگر وہ اپنے فرائض تک محدود رہتے ہیں ہم نے جب انڈیا کے ساتھ لڑائی ہوئی سب سے پہلے میں نے سپورٹ کیا ہے اور ہم نے کہا ہم ایک قوم ہیں، اگر آپ نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے سب سے پہلے میں نے سپورٹ کیا ہے اور میں اچھے کاموں کا اچھی بات کہوں گا۔
لیکن اگر آپ غلط راہ پہ چلیں گے تو ہم گونگے نہیں ہیں کہ ہم گونگے شیطان کی طرح خاموش رہیں، پھر ہم پارلیمنٹ میں بھی بات کریں گے اور پارلیمنٹ آباو ہے، پارلیمنٹ سپیرئیر ہے، پارلیمنٹ میں ہر ایک بات کی جا سکتی ہے، دفاع کی قوت ہو وہ اس پارلیمنٹ کے ماتحت ہے، یہاں پر کوئی بھی ادارہ ہو اسٹیبلیشمنٹ ہو، بیوروکریسی ہو، وہ اس پارلیمنٹ کے ماتحت ہے، اگر پارلیمنٹ آج بجٹ پاس کر رہی ہے اور بجٹ میں ہم اپنے اداروں کو جو یہاں سے پیسہ جائے گا، یہاں سے بجٹ جائے گا اور اس بجٹ سے اس کو غلط طور پر استعمال کریں گے تو اس پر تنقید پارلیمنٹ نہیں کرے گی تو کون کرے گا؟ لہذا پارلیمنٹ کو آزاد رہنے دیجیے، پارلیمنٹ کو سپیرئیر رہنے دیجیے، اس کو سپریم رہنے دیجیے اور کسی کو بالاتر ہونے کا تصور نہیں ہے، ہم کوئی ایسی تنقید نہیں کر رہے ہیں خدا نخواستہ کہ ہم ان کا کوئی مزاق اڑا رہے ہیں، کوئی برے الفاظ سے ان کو یاد کر رہے ہیں، ہم ان کے کردار، ان کے ایٹیچیوڈ، ان کے موقف، ان کے رویوں پر اپنی شکایت ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں، تو وہ ہم ریکارڈ پر لا رہے ہیں۔
میاں شہباز شریف صاحب وزیراعظم ہے، تشریف فرما ہے، کیا جب ہم اکٹھے ایک سٹیج پر ہوتے تھے تو انہوں نے اس زمانے میں فوج کے سربراہ کا نام نہیں لیا تھا؟ کیا انہوں نے اس وقت جنرل فیض کا نام نہیں لیا تھا؟ کیا اس وقت انہوں نے فوج کی ادارہ کو محکمہ زراعت نہیں کہا تھا؟
تو یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ ذرا اپنی ماضی کو بھی پہلے دیکھ لیا کریں اس کے بعد آپ ہماری تنقید کو اتنا سخت ردعمل دیں۔
قائد جمیعت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پارلیمنٹ میں خطاب
پاکستان نے اس وقت جو ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس کے جو دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان کے اندر ان کو ہمیں سمیٹنا چاہیے، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرز عمل کو اس کے مفادات کو سمیٹے، لیکن جہاں وہ باہر سے کما رہے ہیں پاکستان کے اندر اس کو گنوا رہے ہیں، یہاں حکومت کی ان کامیابیوں کے عوام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں۔
یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال بنتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔
اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ردعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔
بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں گے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ ہاوس میں خطاب