نفسیات کے مطابق،جو لوگ بہت زیادہ محبت دیتے ہیں، وہ اکثر اس بات کے عادی ہوتے ہیں کہ انہیں بدلے میں کچھ نہیں ملتا
اسی لیے وہ دوسروں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرتے ہیں جیسا وہ خود چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا جائے، اس امید میں کہ شاید ایک دن دوسرے لوگ بھی ان کی محبت کا اسی طرح جواب دیں گے
انسان کو باہر سے قابو کرنا اطاعت پیدا کرتا ہے، مگر دل سے جیت لینا وابستگی پیدا کرتا ہے؛ اور یہی وابستگی انسان سے وہ کام کرواتی ہے جو حکم کبھی نہیں کروا سکتا۔
زاہدیات
شاید معاملات ویسے نہ چلیں جیسے تم چاہتے ہو
لیکن پورے یقین کے ساتھ یہ بات یاد رکھو کہ اللہ کا بدلہ ہمیشہ حیرت انگیز ہوتا ہے۔ جب اُس کی طرف سے کسی مومن کے دل پر تسلی اور جبر اترتا ہے تو وہ اسے اُن تمام تکلیفوں کو بھلا دیتا ہے جنہوں نے کبھی اسے دکھ پہنچایا تھا۔
فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ
یہ آیت بھٹکی ہوئی روحوں پر تازیانہ ہے؛ اگر مقصد کا قطب نما ہی غلط سمت بتا رہا ہو تو رفتار کی تیز گامی انسان کو صرف ہلاکت کے قریب کرتی ہے۔
سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کے پیٹ چاک کرنے کی تمثیل یہ سکھاتی ہے کہ حد سے بڑھی ہوئی طمع اور بے صبری انسان کو میسر نعمتوں سے بھی یکسر محروم کر دیتی ہے۔
زاہدیات
يَحْسَبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ
جس کا باطن خیانت سے آلودہ ہو، وہ ہر خاموشی اور اشارے کو اپنے خلاف بچھایا ہوا جال سمجھتا ہے؛ کیونکہ اندر کا چور ہی انسان کا سب سے بڑا قید خانہ ہوتا ہے۔
التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ (حدیث)
غلطی کا اعتراف اور اصلاح کی کوشش انسان کو ماضی کی ناامیدی سے آزاد کر دیتی ہے؛ یہ اصول انسان کو نفسیاتی طور پر ایک نیا آغاز کرنے کی ہمت دیتا ہے۔
کس قدر وہ شخص ٹوٹا ہو گا جس نے یہ الفاظ کہے:
"لقد غفرت لك ولكل معاناتك العقلية حتى لا نضطر إلى مقابلة الله مرة أخرى"
میں نے تمھیں اور تمہاری تمام دی گئی ذہنی اذیتوں کو معاف کردیا تاکہ ہمیں دوبارہ خدا کے سامنے نہ ملنا پڑے۔
وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا
راہِ حق پر چلنے کے لیے پہلی شرط انسان کی اپنی سچی کوشش اور جدوجہد ہے؛ جب تک انسان پہلا قدم نہیں اٹھاتا، ہدایت اور بصیرت کے راستے نہیں کھلتے,
طُوبَى لِمَنْ شغلَهُ عَيْبُهُ عَنْ عُيُوبِ النَّاسِ (حدیث)
انسان کی طاقت اور وقت محدود ہیں؛ جو شخص اپنی اصلاح پر توجہ مرکوز کرتا ہے، وہ دوسروں پر بلاوجہ تنقید کر کے اپنی صلاحیتیں ضائع کرنے کے عذاب سے بچ جاتا ہے
میں ہر کھو جانے والی شے ، چھوڑ جانے والے انسان اور لوگوں سے ملی تکلیف پر صبر کر چکا ہوں مجھے نا اب ہو جانے والی چیز کی طلب ہے ، نہ ہی چھوڑ جانے والے انسان کی ضرورت اور نہ ہی لوگوں سے کوئی شکایت ہے !!
اللہ کا ذكر جس مشکل پر کیا جائے وہ آسان ہو جاتی ہے ـ جس مشقت پر کیا جائے وہ ہلکی ہو جاتی ہے ـ جس سختی پر کیا جائے وہ ختم ہو جاتی ہے اور جس غم و پریشانی پر کیا جائے وہ چَھٹ جاتی ہے •