پشتون وطن کی باعزت اور باحیا مائیں، جنہوں نے کبھی اپنے گھر کی دہلیز سے باہر قدم نہیں رکھا تھا، آج اپنے بیٹوں کی تلاش میں دربدر سڑکوں پر روتی پھر رہی ہیں۔
شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی کے رہائشی ابو عاصم کی گرفتاری کے بعد ان کی بیوہ والدہ نے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے.
#StopEnforcedDisappearances
#ReleaseAllMissingPersons
Appeal to Pakistan Interior Minister?
Fatima is a young Afghan girl suffering from cancer. She needs urgent medical treatment in Pakistan, and her family is seeking to bring her through the Chaman border for treatment.
Unfortunately, due to difficulties in obtaining
1/
خیبر میڈیکل کالج پشاور میں افغان میڈیکل طالب علموں کے حق میں احتجاج ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ریاستی افغان دشمن پالیسی اور PMDC کی جانب سے کی گئی افغان سٹوڈنٹس کے فیصلے کے حلاف جونیئر ڈاکٹرز نے احتجاج ریکارڈ کیا ۔
سٹوڈنٹس کا کہنا تھا کے اگر افغان قابض حکومت سے پاکستانی ریاست کے تعلقات خراب ہے تو اسکا سزا سٹوڈنٹس کو کو دنیا ظلم اور سخت ناانصافی ہے، ریاست پشتون مخالف پالیسیوں پر سختی سے عور کریں ۔
#PakDeniesAfgStudentsRights
یہ تصاویر اسلام آباد کے حاجی کیمپ حراستی مرکز کی ہیں…
جہاں ایک آفغان دوست نے یہ تصویریں لی ہیں، انکا کہنا ہے کہ ان معصوم بچوں کو اُن کے اسکول سے اٹھا کر لایا گیا تھا۔
ان کے کندھوں پر اس وقت جب وہ حاجی کیمپ پہنچا دئے گئے اسکول بیگ تھے، جن میں کتابیں تھیں،
انہیں گھر والوں کو اطلاع دیے بغیر گرفتار کر لیا گیا۔ انکا کہنا ہے ، کہ بعد میں جب ان کے والد کو اپنے بچوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا سکول سے کال آنے پر علم ہوا اور وہ وہاں پہنچے تو انہیں بھی گرفتار کر لیا گیا۔ اور پیچھے… ان کا گھر، ان کی ماں اور باقی خاندان بے سہارا رہ گئے ، ان باپ بیٹوں کو مجھ سمیت ڈیپورٹ کیا گیا ، باجود یہ کہ ہم قانونی دستاویزات بھی رکھتے تھے۔
ایسے واقعات ایک دو نہیں، ہزاروں خاندانوں کی کہانیاں ہیں۔
جن کے مردوں اور بچوں کو گرفتار کیا گیا۔ ڈپورٹ کردیا گیا۔ پیچھے ان فیملی اکیلی رہ گئی۔ کئی کے کاروبار چھین لئے گئے۔ گھروں سے بے دخل کر دیئے گئے۔ لیکن افغانوں نے پھر بھی صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔
اس افغان بچے کی یہ تصویر ایک سبق دے رہا ہے کہ یہ افغان بچے ہیں جن کی تربیت ان حراستی مرکز میں دیکھ سکتے ہیں۔ جو ان حالات میں بھی اپنے رب کے سامنے سربسجود ہیں۔۔
#PakDeniesAfgStudentsRights
سنٹرل کرم کے تنہ گاؤں میں کاپٹر ڈرون حملے کے نتیجے میں تین کمسن بچے شدید زخمی ہو گئے۔ معصوم بچوں کی چیخیں، خوفزدہ خاندانوں کی بے بسی، اور تباہ حال زندگیوں کا درد الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
مقامی افراد نے زخمی بچوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کے مطابق راستے میں انہیں روک دیا گیا اور واقعے کو میڈیا تک پہنچانے سے منع کیا گیا۔
ہر معصوم جان کی حفاظت ہونی چاہیے، اور ایسے واقعات کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے۔
#StopPashtunGenocide #StopStateTerrorism
جبری گمشدگیوں متاثرین کی عالمی دن!
میرے کزن “غزیزاللہ” کی غم ناک داستان 💔
میسنگ پرسن کا نامم غزیزاللہ ولد سخی مرجان جو رشتے میں ہمارے والد محترم کے مامو کا بیٹا ہے جسکا تعلق سیفلی کابل خیل شیواہ شمالی وزیرستان سے ہے۔ #غزیزاللہ سال 2005 سے لیکر سال2011 تک میراعلی بازار میں #طاہر میامی کابل خیل کے ساتھ دوکان میں منشی رہے اور ساتھ ہی ساتھ پی ایس او او منڈی میں مال مویشی خرید فروخت کا کام بھی کرتے رہے، کیونکہ ہمارے ہاں اکثر Joint Family ہے جس میں ایک کو کمانا باقی نے کھانا ہوتا ہے گھر کا سربراہ ہونے کے ناطے گھر کا سارا خرچا (کانے پینے وغیرہ) آپنے کندوں پر لے رکھے تھے۔
بدقسمتی سے 14,9,011 میں #غزیزاللہ کچھ گھریلوی کام سے بنوں گئے تھے لیکن گھر والوں کو کچھ خبر نہ تھا گھر والے سمجھتے تھے کہ وہ دوکان پر ہونگے جہاں وہ منشی کا کام کر رہے تھے. دو دن بعد #طاہر میامی (جس کے ساتھ وہ منشی تھا) کا فون آیا گھر پر کہ #غزیزاللہ تو 2 دن سے بنوں گئے ہے کیا وہ گھر پہ کوئی خبر چھوڑا ہے؟ وہ پیچھلے 2 دنوں سے دوکان پہ نہیں آئے ہے اور نہ ہی اسکا کا کوئی خبر ہے۔ یہ سن کر گھر میں ہل چل مچ گئی ہم نےفوراً اِدھر اُودھر رابطے کئے لیکن #غزیزاللہ کا کچھ پتہ نہ چلا۔
تیسرے دن صبح اسکا بڑا بھائی تاج محمد جو پولیس میں کانسٹیبل ہے غزیزاللہ کی تلاش میں نکل پڑا لیکن خدا کی برکت سے جس فلائینگ کوچ سے #غزیزاللہ کو اُٹھایا تھا وہ بندہ پہچان کا نکلا اس نے سارا قیصہ سنا دیا، کہ بنوں بازار میں سادہ کپڑوں میں ملوس بندوں نے ہمارا راستہ روک کر مجھے کہا کہ پیچھلے سیٹ پر بیٹھے دو سواری کو نیچے اُتار دو۔ انکو فلائینگ کوچ سے نکال کر فوراٙٙ آنکھوں پر پٹی باند کر Black Vigo میں ساتھ لے گئے! تب ہمیں پتہ چلا کہ انکو پاکستانی خفیہ اداروں ISI یا MI نے آغوا کیا ہیں۔
غزیز اللہ کے ساتھ گرفتار دوسرے ساتھی کا تعلق خدی سے تھا جنکو تین ماہ بعد رہا کیا گیا ۔
سال 2011 سے لیکر آج تک اسکا یہ پتہ نہیں چلا کہ وہ کس حال میں ہوگا،کہاں ہوگا، مرا ہوگا یا زندہ ہوگا!
شاہد آپ یقین نہ کرے کہ میسنگ پرسن کے خاندان پر اس حد تک غم بھی گزرتا ہے؟ چلو بتالیتا ہو...
غزیز اللہ کی گرفتاری کے دوران اسکی والدہ آپنے بھائیوں کے ہا سسرال گئی تھی جو آفغانستان برمل میں مقیم ہے وہ بلکل اس حادثے سے بےخبر تھی تین ماہ بعد جب وہ وہاں سے لوٹ کر آپنے گھر (شوہر کے گھر) آئی، سسرال کے ہاں اتنی وقت گزارنے کے بعد واضخ بات ہے آپنے پوتیں اور بیٹوں کی دیدار کے لئے بےتاب تھی، فلانے پوتے کو لاوُ بہت یاد آئی تھی فلانی پوتی کے پیچھے بہت روئی ہو وغیرہ کہہ رہی تھی۔ شام ہوئی غزیز اللہ دیکھائی نہیں دے رہے تھے (غزیز اللہ کو شام کے وقت میراعلی سے آنا ہوتا تھا) گھر کا دروازہ تاکتے پوچھنے لگی کہ #غزیزاللہ آج گھر نہیں آیا؟ اسکو آنا چاہئے تھا اتنے عرصے بعد گھر آئی ہو اسکا ماں کے لئے کوئی احساس نہیں؟ ہم میں سے کوئی بھی اتنے بڑے دل والا نہ تھا کہ اس وقت ایک ماں کو اسکے سوال کا صحیح جواب دیتے اور ہم نے مناسب یہ سمجھا کہ اس سے سچ چھپا کر کہ اسکا بیٹا پاکستانی آداروں کے تاریک جیلوں میں سڑ رہا ہے ہم نے بتایا کہ اس نے تو تبلیغ میں ایک سال لگائی ہے۔ اس جھوٹ کے سہارے گھنٹے،دن،مہینے گنتے گنتے ماں پر سال پورا ہو گیا لیکن غزیز گھر واپس نہ آیا پھر وہی سوال کہ بےاحساسی کا بھی کوئی حد ہوتا ہے یہاں ایک ماں کو اس آذیت میں چھوڑ کر جو دو وقت روٹی آنسو کے ساتھ نصیب ہوتی ہے ساری راتیں بس انکی الجنوں میں پڑی چھوڑکر خدا کو منانے چلا، میرا تو شک سا ہوگیا ہے کہ کیا اسکا عبادت قبول ہوگا مجھے اتنا تکلیف دیکر؟ کیسے کرسکتا ہے وہ؟ ہم نے پھر سے جھوٹ بول کر کہ وہ اللہ کے راستہ میں دیوانہ ہی ہوگیا ہے اس نے ساری عمر تبلیغ میں لگا دی، مذہبی ٹچ دیکر کہ وہ نیک تھا اللہ ہمیشہ آپنے نیک بندوں کو آپنی محبت کے زنجیروں سے باند لیتا ہے اور یہی ہمارا کام ہے یہاں کہ جو بھی کرے بس اللہ کی رضا شامل ہو۔ غزیز اللہ کی ماں انتہائی سادہ قسم کی تھی وہ مان گئی رو دو کر۔
گھر میں نیا مہمان آتے ہی پہلے ہم چائے کا نہیں پوچھتے بلکہ انکو یہ لیکچر دیتے کہ وہ کہے غزیزاللہ کی ماں سے اس حوالے سے بات نہ کرے،
ایسی طرح دن،سال گزرتے گئے #غزیزاللہ کا کچھ پتا نہ چلا ماسوائے یہ کہ وہ پاکستانی آداروں کی حراست میں ہے۔
یہ جھوٹ کا سلسلہ 2019 تک چلتا رہا کہ ایک دن ہمارے دور کی پھڑوس سے ایک عورت آئی تھی جو اس بات سے بےخبر تھی کہ گھر والوں نے غزیزاللہ کی کہانی ردل بدل کر بتائی ہے اور ہم بھی بےفکر ہوچکے تھے اسکو اس حوالے سے کچھ بتایا نہیں پہلے کی طرح جب کوئی نیا مہمان آتا ۔ اس مہمان نے فوراً اسکی ماں سے پوچھا کہ آپکے بیٹے کا کچھ پتا نہ چلا وہ کس جیل میں ہے ،زندہ ہے یا مردہ؟
#غزیزاللہ کی
1/2
#ForcefullyDisappearedPashtuns
Children Left Vulnerable by Conflict in South Waziristan
A young girl and a small boy are seen outside Noor Mohammad Laboratory in Wana Bazar. South Waziristan According to local residents they had come for fever test Their father reportedly killed by armed men some time ago
1/
پختونخواہ وطن میں ہر روز درد اور غم کی داستانیں رقم کی جا رہی ہیں۔ کہیں ٹارگٹ کلنگ، کہیں بم دھماکے، کہیں مربوط بم حملے، کہیں ڈرون حملے اور کہیں جہازوں کی بمباری کے ذریعے پشتونوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ کہیں لینڈ مائنز بے گناہ اور معصوم بچوں کو موت کے گھاٹ اتار رہی ہیں یا انہیں اپاہج بنا رہی ہیں حسنین ایک نہایت پیارا بچہ تھا۔ تین ماہ قبل شمالی وزیرستان کے شیواہ ملک شاہی علاقے میں مومین چیک پوسٹ کے قریب ریاستی لینڈ مائن کے دھماکے میں وہ دونوں ہاتھ اور ایک آنکھ سے محروم ہو گیا۔ یہ ہے پشتون معصوم بچوں کی اپنے ہی وطن میں زندگی . اب تک ہزاروں بچے ان لینڈ مائنز کا شکار ہو چکے ہیں۔
اختشام ولد جمشید، جو ڈومیل گاؤں سیدراوڑن کے قریب مین سڑک پر پشاور سے اپنے گھر جا رہے تھے، راستے میں ڈرون کواڈ کاپٹر بم کے حملے سے شدید زخمی ہوگئے۔ ان کے سر میں ڈرون کواڈ کاپٹر کے ٹکڑے پیوست ہو چکے ہیں۔ کل انہیں KGN سے پشاور منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے دماغ میں خون داخل ہو گیا ہے، جس کے باعث انہیں جھٹکے اور دورے پڑنے کا خدشہ ہے۔ صبح ان کا آپریشن مقرر کیا گیا ہے۔
دعا ہے کہ اس معصوم بچے کا آپریشن کامیاب ہو، اللہ تعالیٰ اسے صحتِ کاملہ عطا فرمائے اور اس کی زندگی محفوظ رکھے۔ آمین۔
دوسری جانب پورے ضلع میں مسلح افراد اور ریاستی اداروں کے درمیان واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جانی خیل میں کئی دنوں سے درجنوں عوامی حجرے اور مساجد فوجی کارروائیوں میں مسمار کیے گئے ہیں۔
مسلح افراد بندوق کی نوک پر ہمارے حجروں اور مساجد میں داخل ہو جاتے ہیں، جبکہ بعد میں فوج آ کر انہی مساجد اور حجروں کو بموں سے مسمار کر دیتی ہے۔ اس صورتحال میں عام شہری مسلسل مشکلات، خوف اور تباہی کا سامنا کر رہے ہیں
معلومات ،تحریر ارشاد قرار کی وال سے !!
#LiftCurfewInJanikhel
#StopPashtunGenocide
#StopStateTerorism
وزیرستان کا کرومائیٹ کرفیو کے دوران کیسے لوٹ کر لے جایا جا رہا ہے ۔ پشتون وطن کو دھشتگردی کے نام پر ، سیکیورٹی کے نام پر جرنیل کیسے مل بانٹ کر کھا رہے ہیں۔ ایک جرنیل نے تیراہ کی بھنگ اور لکڑیاں پکڑی ہیں، دوسرے نے وزیرستان کا چلغوزہ اور تیسرے نے وزیرستان کے معدنیات پکڑے ہوئے ہیں۔ خود بیچ رہے ہیں، دنیا بھر کے ارب پتیوں سے انکی کمپنیوں سے ڈیل کر رکھے ہیں۔ اور ھمارے مفتی و امیر سانپ شریعیت کے لولی پاپ پر کھیل رہے ہیں۔!
کوئٹہ کراچی شاہراہ پر لوگوں کو بسوں سے اتار کر مارا جارہا ہے، بسیں جلائی جا رہی ہے، عورتوں کو مارا جارہا ہے۔ کوئی زمہ داری قبول نہیں کرتا۔
آپ آزادی کے متوالے ہیں تو آپ کی زمہ واری بنتی ہے کہ آپ کے علاقے میں کوئی بدمعاشی نا کریں۔
Let's come together to assist families impacted by the floods in Afghanistan. Please share reliable organizations actively involved in relief efforts. #Baghlan_Flood