مسائل مذاکرات سے حل ہوں گے یا طاقت سے؟
راولاکوٹ کا دھرنا تین ماہ سے حکومت کے منتظر
’’مواقع اپنے ہاتھ سے کیوں دیے جا رہے ہیں؟‘‘
سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن کی مسئلہ کشمیر پر گفتگو
دورانی آباد نیو باور لورالائی میں واقع مدرسہ دارالعلوم قاسمیہ کے سالانہ ختم القرآن جلسے سے جمعیت علماء اسلام ضلع لورالائی کے ضلعی امیر حضرت مولانا محمد امین زاہد صاحب خطاب کررہے ہیں۔
پارلیمنٹ ہاوس میں اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس ،قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر دیگر شریک، اجلاس میں اہم قومی امور پر تبادلہ خیال
قومی اسمبلی اجلاس : جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری صاحب ، مفتی مصباح الدین صاحب ، حاج�� عثمان خان بادینی صاحب ، محترمہ نعیمہ کشور صاحبہ اور محترمہ عالیہ کامران صاحبہ پارلیمنٹ ہاؤس اجلاس میں شریک ہیں۔
صحافی
مولانا صاحب خان صاحب کو ابھی تک ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا
اگر میرے ہاتھ میں ہوتا تو اب تک عمران خان کا علاج ہو بھی چکا ہوتا
ڈاکٹر مولانا فضل الرحمان صاحب
صحافی
مولانا صاحب خان صاحب کو ابھی تک ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا
اگر میرے ہاتھ میں ہوتا تو اب تک عمران خان کا علاج ہو بھی چکا ہوتا
ڈاکٹر مولانا فضل الرحمان صاحب
��پریم کورٹ کا عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم، صحافی کے سوال پر مولانا فضل الرحمان کا جواب:
میرا خیال ہے کہ بہت دیر کر دی انہوں نے۔ یہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ جس وقت مریض کو صحت کے حوالے سے کوئی شکایت ہو جائے تو اس پر فوری کارروائی ہونی چاہیے تھی۔ اتنا لمبا عرصہ بلاوجہ ملک کے اندر ایک ایشو پیدا کرنا، اس پر ایک بے قراری سامنے آ جاتی ہے۔ ان سے وابستہ جو حلقے ہیں، ورکرز اور لوگ، وہ بلاوجہ ایک کرب سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ تو یہ فیصلہ اگر آنا تھا تو بہت پہلے آ جانا چاہیے تھا۔ اب بھی اگر آیا ہے، دیر آید، درست آید۔
@MudasirFurqan @marwat_anis
امت مسلمہ کی وحدت کا وقت آ گیا ہے
پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران آگے بڑھیں
افغا/نستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات مزید مضبوط ہوں
مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں تقریب سے خطاب
محترم سفیر سردار احمد جان شکیب نے جس پُرخلوص انداز کے ساتھ افغانستان، اس کے ہمسایہ ممالک اور خطے کے ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے جن جذبات کا اظہا�� کیا ہے، میں اس کی صدبصد تائید کرتا ہوں اور اپنی طرف سے، پاکستان کی طرف سے اور پاکستان کے عوام کی طرف سے اس خیرسگالی کا جواب دوہری خیرسگالی کے ساتھ پیش کرنا چاہتا ہوں۔
ہمارے تاریخی رشتے، مذہبی رشتے، ثقافتی رشتے اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم دو مضبوط اور پُرامن پڑوسیوں کی طرح اپنا مستقبل طے کریں، ایک نیا مستقبل، اور نئے مستقبل کی مستحکم بنیادیں تلاش کریں۔
مجھے یقین ہے کہ پاکستان افغانستان کا سہارا ہوگا اور افغانستان پاکستان کا سہارا ہوگا۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں سفارتخانۂ افغانستان کے زیر اہتمام یوم فتح کی پانچویں سالگرہ کی تقریب
علامہ اقبال نے افغانستان کی جغرافیائی حیثیت کا جو نقشہ کھینچا تھا، میں سمجھتا ہوں کہ قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان بھی آج جغرافیائی اعتبار سے ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔
مغرب و مشرق کو قریب کرنا، مشرقِ وسطیٰ ہو، وسطِ ایشیا ہو، مشرقی ایشیا ہو، جنوبِ ایشیا ہو، اس کے لیے آج جغرافیائی طور پر افغانستان اور پاکستان مل کر مشترکہ پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
لہٰذا دونوں مملکتوں کو، امارتِ اسلامیہ کو بھی اور اسلامی جمہوریۂ پاکستان کو بھی، اس حوالے سے خطے کی جو جغرافیائی اہمیت ہے، اس کا ادراک کرنا ہوگا اور اس ادراک کی اہمیت کو سمجھ کر ہمیں ایک مشترکہ مستقبل طے کرنا ہوگا، ایک مستقبل، ایک وحدت، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک رہنما قدم ہوگا جو ساری اسلامی دنیا کو ایک وحدت پر مجتمع کر سکے گا۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں سفارتخانۂ افغانستان کے زیر اہتمام یوم فتح کی پانچویں سالگرہ کی تقریب۔
ہم تو ہمیشہ سے اس بات کے خواہش مند رہے ہیں اور یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ مسلمان امتِ واحدہ ہے۔ ہم ایک اسلامی بلاک کے قیام کے حامی ہیں اور اس جانب اگر پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران پیش رفت کرتے ہیں تو وقت کے ساتھ ساتھ دوسری اسلامی دنیا بھی اس میں شریک ہو سکتی ہے، اس کا ہم سفر بن سکتی ہے، اور وقت اس بات کا تقاضا کر رہا ہے کہ اب ہم عالمی قوتوں پر اپنا انحصار کم کر دیں، بلکہ اپنا انحصار ختم کر دیں اور اپنی قوت کو یکجا کر کے خود اپنے وجود پر انحصار کریں اور اللہ کی ذات کی طرف متوجہ ہو کر ایک امتِ واحدہ بن جائیں۔
آج کے اس اجتماع سے میرے خیال میں ہمارے ملک کے انتہائی اہم لوگ یہاں جمع ہیں اور یہ ہم سب کی آواز ہے، اور میں اپنے وطن کی طرف سے، اپنے ملک کے عوام کی طرف سے، یہاں کے مسلمانوں کی طرف سے افغانستان کے اپنے بھائیوں کو اس اسٹیج سے یہ پیغام دینا چاہتا ہوں، اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل درآمد کے لیے صلاحیت عطا فرمائے اور اس کے درمیان جو رکاوٹیں ہیں، ان تمام رکاوٹوں کو، جس طرح کہ جناب سفیر صاحب نے فرمایا، ہم مکالمے، تفاہم، بات چیت اور گفتگو کے ذریعے سے ان مشکلات کو بڑے سلیقے کے ساتھ ختم کر سکتے ہیں۔
اور میرے خیال میں ان مشکلات کو دور کرنے میں کوئی اختلاف موجود نہیں ہے۔ دونوں طرف سے یہ خواہش ہے کہ یہ مشکلات دور ہوں اور ہم ایک پڑوسی ملک ہی نہیں، بلکہ باقاعدہ پڑوسی اور برادر اسلامی ملک کی طرح ایک جان بن کر دنیا کے سامنے اپنا آپ پیش کر سکیں، تو ہمیں اس کا مصداق بن جانا چاہیے کہ دونوں طرف سے آگ برابر لگی ہوئی ہے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن اسلام آباد میں سفارتخانۂ افغانستان کے ز��ر اہتمام یوم فتح کی پانچویں سالگرہ کی تقریب۔
سپریم کورٹ کا عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم، صحافی کے سوال پر مولانا فضل الرحمان کا جواب:
میرا خیال ہے کہ بہت دیر کر دی انہوں نے۔ یہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ جس وقت مریض کو صحت کے حوالے سے کوئی شکا��ت ہو جائے تو اس پر فوری کارروائی ہونی چاہیے تھی۔ اتنا لمبا عرصہ بلاوجہ ملک کے اندر ایک ایشو پیدا کرنا، اس پر ایک بے قراری سامنے آ جاتی ہے۔ ان سے وابستہ جو حلقے ہیں، ورکرز اور لوگ، وہ بلاوجہ ایک کرب سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ تو یہ فیصلہ اگر آنا تھا تو بہت پہلے آ جانا چاہیے تھا۔ اب بھی اگر آیا ہے، دیر آید، درست آید۔