جو کچھ آپ کے پاس ہے اسے معمولی سمجھنا ایک طرح سے غلط ہے۔ اگر آپ ان چیزوں کے لیے شکر گزار نہیں ہیں جو آپ کے پاس ہیں تو اپنی زندگی میں مزید کچھ لانا ناممکن ہے۔
@TahirIqbal87 اے روز کشمیر کے جوان پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں وہ آپ کو یاد نہیں آیا۔ ایسی بے تکی اور غیر منتقی تحریر پوسٹ کرنے سے پھلے آپکو سوچنا چایئے۔
@TahirIqbal87 جس ملک میں محترمہ فاطمہ جناح بہن بانی پاکستان نے غدار، را ایجنٹ اور بیرونی آلہ کار جیسے سنگین الزامات کا سامنا کیا، وہاں کشمیریوں کے بارے میں ایسی بغض یا الزام تراشی معمولی سی بات ہے۔
@TahirIqbal87 اپنے جائز اور آئینی حقوق کا تقاضا کرنا نہ تو غداری ہے، نہ کسی بیرونی ایجنڈے کی پیروی، اور نہ ہی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش۔ یہ تو دراصل ایک زندہ، بیدار اور غیور قوم کا شیوہ ہے جو اپنے وجود کا احساس دلانا جانتی ہے۔
@TahirIqbal87 آپکے بغض کی سمجھ آتی ہے جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں، اگر ہم تاریخ کے اورق میں دیکھیں تو پاکستان کے اندر بھی ایسی کہی آوازیں اٹھی جو مملکت پاکستان کے خلاف تھی نواز شریف کو ہی دیکھ لیں۔ یہ کہنا کہ کشمیر پاکستان کے خلاف ہے زیادتی ہے ظلم ہے جبکہ گراؤنڈ پے ایسا کچھ بھی نہیں۔
@Markhorr313 اسکے محرکات اور نقصانات بھی بتائیں جو آج تک پاکستان بھگت رہا ہے۔ ایسی آوازیں اٹھنے کے اسباب کا حل کیا جاۓ ناکہ لوگوں کو ڈائریکٹ فائر کیا جاۓ۔ حقیقیت یہی ہے کہ ہم بہت کچھ کھو چکے ہیں اور ابھی تک کھو رہے ہیں۔
پاکستان اینڈ پاکستانیت ہمارے خون میں شامل ہے۔ وہاں موجود ہونا اور درد محسوس کرنا بنتا ہے لیکن خدا کی قسم وڈیو دیکھ کر بھی تکلیف ہو رہی ہے۔ اللّه پاک آسانیاں فرماۓ اور لوحقین کو صبر عطاء فرماۓ۔ امین
ان پیڈ ٹاوٹ حرامخوروں کے لیے جو کشمیریوں کو پاکستان اور پاکستانیوں کا دشمن ثابت کرنے پر تلے ہیں۔مظفرآباد ہیلی کاپٹر کی تباہی کا منظر دیکھتے ہوئے کشمیری ماوں اور لوگوں کا افسوس اور دکھ ملاحظہ کریں۔
جب سانحہ ڈی چوک ہوا تو 6 گھنٹوں میں ڈی چوک خالی کروا لیا گیا،
جب سانحہ مریدکے ہوا تو مریدکے کو 7 گھنٹوں میں خالی کروا لیا گیا،
لیکن قربان جاؤں کشمیریوں پر کہ وہ راولا کوٹ میں 4 دنوں سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ اور ابھی تک مزاحمت کر رہے ہیں۔
@kabeerraja786 وہاں حقوق غاصب نہیں کیے جاتے، وہاں عام شہریوں کو را کا ایجنٹ نہیں ڈکلئیر کیا جاتا، وہاں لوگوں کا انتخاب تروڑا مروڑا نہیں جاتا، وہاں بنیادی حقوق میسر ہیں، وہاں عدالتوں پے عدالتیں نہیں بنائی جاتیں، وہاں وزیر اعظم کو چلتا نہیں کیا جاتا، وہاں لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کی جاتیں ہیں۔
آزاد کشمیر پاکستان میں امن و امان اک ہی صورت ممکن ہے وہ ہے دائرہ ، آئین و قانون نے جو جسکا دائرہ فکسڈ کیا اسے وہاں تک ہی محدود ہونا ہوگا۔ کیونکہ لوگوں کی برداشت اب ختم ہوگئی ہے محرومیوں کا سامنا کر کر کے۔ امن چاہتے ہو تو خود قانون کے مطابق وقف کرو ۔