11 ارب والے جہاز کی وجہ سے مریم نواز بھارتی پنجاب تک رسوا ہو رہی ہے، بھارتی پنجاب کا وزیر اعلٰی دراصل اپنا عوام کو بتا رہا ہے کہ " شکر کرو تمھاری وزیر اعلٰی مریم نواز نہیں ہے ورنہ تمھارا 1100 کروڑ بھی جہاز پر خرچ ہونا تھا "
سہیل آفریدی کو مروت ، گنڈاپور سے زیادہ ٹائم ملا۔ سہیل آفریدی پر بوجھ بھی گنڈاپور اور مروت وغیرہ سے زیادہ آئے گا اور انجام بھی زیادہ بھیانک۔ جس ڈھٹائی اور بے شرمی کا مظاہرہ سہیل آفریدی اور اسکے گینگ نے کیا ہے کسی دوسرے نے نہیں کیا۔ تنقید ہوئی تو کنٹینر کا پھیرا لگا آیا۔ بجٹ سرپلس دینے کا موقع آیا تو اڈیالہ جانا شروع کردیا۔ بجٹ پاس ہوگیا تو اڈیالہ جانا بند کردیا۔ جلسے جلوسوں میں بڑھکیں شروع کردیں۔ لوگ زیادہ نکلنا شروع ہوگئے تو ریلیوں کا سلسلہ ختم کردیا۔ عمران خان کی آنکھ کے مسئلے پر احتجاج ہوا تو پختونخواہ ہاوس میں خود ساختہ محصوری اختیار کرلی۔
کبھی سوشل میڈیا' مقبوضہ کشمیر پر تباہ کن ٹرینڈ کرتا تھا ۔ مگر پاکستانی ریاست کی نام نہاد عقلمندی سے اس وقت بھارتی سوشل میڈیا آزاد کشمیر پر مسلسل ٹرینڈز میں آزاد کشمیر میں فائرنگ ' ہلاکتوں ' ناکہ بندیوں کو انٹرنیشنل میڈیا کیلئے دستاویز بنا کر پیش کیا جا رہا ہے
آزاد کشمیر میں بھڑکتی آگ کا یا تو آپ کو ادراک نہیں۔ یا آپ چاہتے ہی یہی تھے
بھائی جان ۔۔ پاکئ داماں کی حکایتیں نہ سنائیں۔
یہ بتائیں کہ آپ اور آپ کے پارلیمنٹیرن دوستوں نے تین سالوں سے عمران خان کی رہائی کے لئے کیا عملی اقدامات کئے ہیں؟
آپ کے پارلیمنٹ میں رہ کر اس کو جواز دینے کا آج تک تحریک انصاف کے مقید رہنماؤں، مظلوم کارکنوں اور عوام کو کون سے ایک فائدہ ہوا ہے ؟ صرف ایک فائدہ گنوا دیں ۔۔ ایک !
پاکستان تحریک انصاف میں موروثی سیاست نہیں ہو سکتی کسی بھی سیاسی جماعت میں موروثی سیاست نہیں ہونی چاہیے
مگر جب سب خاموش تماشائی بن جائیں اور سیاست دان اصولوں مفاہمت اور قومی ذمہ داری کو فراموش کر بیٹھیں تو پھر بہادروں کا خون ضرور جوش مارتا ہے
تب وہ موروثی سیاست نہیں بلکہ انقلابی جدوجہد کی پہلی جھلک ہوتی ہے
ان بہنوں پر کڑاکے کی سردی میں ٹھنڈے پانی کی بوچھاڑ کی گئی تپتی گرمی میں انہیں سڑکوں پر کھڑا رکھا گیا موسلا دھار بارش میں بھی وہ اپنے بھائی کے لیے ثابت قدم رہیں ان کی انگلیاں توڑ دی گئیں انہیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا شیلنگ کی گئی لاٹھیوں سے وار کیے گئے مگر ان کے عزم میں ذرہ بھر لغزش نہ آئی وہ ہر ظلم کے سامنے سینہ سپر رہیں مگر اس کڑے امتحان میں آپ کہاں تھے آپ کی غیرت کہاں تھی آپ کی ذمہ داری کہاں تھی یا آپ محض اپنے بال سیدھے کروانے میں لگے تھے
بھارت نے سوا سال پہلے 23 اپریل 2025 کو سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کیا ۔
بھارتی وزیر آبی وسائل سی آر پاٹل نے کہا کہ نئی دہلی اس پر کام کر رہا ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان کو ایک قطرہ پانی نہ ملے
جواب میں ہم نے ڈائیلاگ بازی کے سوا کچھ نہیں کیا ۔ اس کے مضمرات بہت خوفناک ہیں
ہر دس میں سے نو پاکستانی سندھ طاس میں آباد ہیں۔ ہماری نوے فیصد سے زائد فصلیں انہی دریاؤں سے سیراب ہوتی ہیں۔ ملک کے تمام اکیس پن بجلی گھر اسی طاس میں ہیں۔ زراعت معیشت کا چوتھائی حصہ اور دو تہائی افرادی قوت کا روزگار ہے
یہ درست ہے کہ فوری طور پر بھارت پانی بند نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے پاس ابھی پانی ذخیرہ کرنے کا بندوبست نہیں ۔مگر معاہدہ معطل کرتے ہی بھارت نے بگلیہار ڈیم سے چناب کا پانی روکا اور پھر سلال اور بگلیہار کے ذخائر کی flushing کی یعنی ڈیموں میں جمع مٹی اور گار نکال کر ان کی گنجائش بڑھائی گئی۔ یہ کام معاہدے کے تحت مخصوص طریقے اور موسم میں پاکستان کو پیشگی اطلاع دے کر ہونا چاہیے تھا مگر بھارت نے موسمی شیڈول سے ہٹ کر اور بغیر بتائے کیا۔
یوں بھارت اپنے موجودہ ڈیموں کو زیادہ پانی روکنے کے قابل بنا رہا ہے۔ اسی عرصے میں ڈیٹا کی فراہمی بھی بند کر دی گئی۔ انڈس واٹر کمشنر کے مطابق ماہانہ ڈیٹا عرصے سے نہیں مل رہا چناب کے معاملے پر بھارتی کمشنر نے چار میں سے کسی ایک خط کا بھی جواب تک نہیں دیا
پھر چناب اور جہلم کے بہاؤ میں اپریل دو ہزار پچیس سے اچانک اور غیر معمولی اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ ایک موقع پر بھارت نے اچانک 58000 کیوسک سے زائد پانی چناب میں چھوڑ دیا اور پھر ڈیم بھرنے کے لیے بہاؤ تقریباً صفر تک گرا دیا۔ یہ دراصل بہت بڑا اسٹریٹجک خطرہ قرار ہے
اور سب سے خطرناک بات م چناب کا پانی سرنگ کے ذریعے دریائے بیاس میں منتقل کرنے کا زیر غور منصوبہ ہے۔ بیاس مشرقی دریا ہے جو معاہدے کے تحت مکمل طور پر بھارت کا ہے، یعنی چناب کا پانی ایک بار بیاس میں گیا تو ہمیشہ کے لئے پاکستان کی پہنچ سے نکل جائے گا۔ اس کے ساتھ بھارت مغربی دریاؤں پر نئے منصوبوں کی رفتار بڑھا رہا ہے اور ایسا انفراسٹرکچر بڑھا رہا ہے جس سے پاکستان کو الاٹ شدہ پانی کنٹرول کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ سندھ طاس معاہدہ کے مطابق بھارت کو مغربی دریاؤں پر صرف Run of the river منصوبوں کی اجازت تھی یعنی بہتے پانی سے بجلی بناؤ اور پانی آگے جانے دیا جائے۔۔
اسے زراعت کے نقطہ نظر م سے دیکھیں۔ چناب کا بے ترتیب بہاؤ سب سے پہلے پنجاب کی گندم پر وار کرتا ہے۔ بوائی کے دنوں میں پانی نہ ملے تو فصل بیٹھ جاتی ہے اور جب کھڑی فصل کو ریلے کی ضرورت نہ ہو تب اچانک پانی چھوڑ دیا جائے تو کھیت ڈوب جاتے ہیں۔ لاکھوں ایکڑ کی آبپاشی اس اتار چڑھاؤ سے متاثر ہو رہی ہے اور کسان کم پیداوار اور بڑھتے قرضوں کی چکی میں پس رہا ہے۔ گندم قومی غذائی تحفظ کی بنیاد ہے، اس پر ضرب دراصل ہر پاکستانی گھر کے دسترخوان پر ضرب ہے۔ پھر بجلی کا معاملہ ہے، دریاؤں کا بہاؤ غیر یقینی ہو تو ڈیمز سے بجلی کی پیداوار بھی غیر یقینی ہو جاتی ہے۔
ابھی بھارت کے پاس وہ ڈیم اور ذخائر موجود نہیں جو سندھ، جہلم اور چناب کا پانی روک سکیں۔ ان تینوں دریاؤں سے پاکستان کو سالانہ ایک سو پینتیس ملین ایکڑ فٹ پانی آتا ہے جبکہ بھارت ان پر پونے چار ملین ایکڑ فٹ کے قریب ہی ذخیرہ کر سکتا ہے۔ اتنے بڑے بہاؤ کو روکنے کے لیے درجنوں بڑے ڈیم چاہئیں جن کی تعمیر میں برسوں لگتے ہیں۔
مگر بھارتی منصوبے بتا رہے ہیں کہ فی الحال اصل خطرہ پانی کی مکمل بندش نہیں پانی کے وقت سے کھیلنا ہے۔ آسان لفظوں میں اسے یوں سمجھیں کہ بھارت کا ہتھیار نلکا بند کرنا نہیں نلکے کو جھٹکے دینا ہے۔ البتہ اگلے پانچ سے دس برسوں میں بھارت ذخیرے کی صلاحیت بڑھانے میں کامیاب ہو گیا تو یہ جھٹکے بندش میں بدل سکتے ہیں۔ اصل معرکہ آج نہیں، آنے والے برسوں کا ہے اور تیاری آج کرنی ہے۔
اس وقت بہت ضروری چیز ڈیٹا کی خود انحصاری ہے۔ بھارت نے دریاؤں کا ڈیٹا دینا بند کر دیا تو ہمیں اپنا سیٹلائٹ اور ٹیلی میٹری نظام بنانا ہو گا تاکہ چناب میں آنے والے ہر جھٹکے کی پیشگی خبر ہو۔ یہ معلومات اب ہماری آپریشنل ضرورت ہیں۔
عمران خان آپ کی حقیقی آزادی کے لیے گزشتہ تین سال سے مشکل ترین قید کاٹ رہے ہیں۔ اب آپ اپنی حقیقی آزادی کے لیے، اور عمران خان کے حقوق کی بحالی کے لیے، اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں! #مزاحمت_سے_ہوگی_خان_کی_رہائی
عمران خان نے 3 سال اتنی مشکل قید آپکی حقیقی آزادی کیلیئے کاٹی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ سب اپنا تمام تر فوکس حقیقی آزادی کی تحریک اور سٹریٹ موومنٹ پر مرکوز کریں۔
#مزاحمت_سے_ہوگی_خان_کی_رہائی
https://t.co/7Nu29vrw2l
امریکہ سے عمران خان اور پاکستان کے لئے آواز - ایکبار پھر! Orlando, Florida, میں پاکستانیوں کا بہت بڑا اجتماع! میرا خیال تھا کہ ۱۰۰-۱۵۰ سے زیادہ لوگ نہیں آینگے مگر فلوریڈا کی شدید گرمی کے باجود 300-400لوگوں نے اس میٹنگ اور بحث میں حصہ لیا! ڈاکڑ شھباز گل اور قاسم سوری بھی وہاں بولے! اس وڈیو کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں !