🚨 انمول پنکی کا انکشاف
مجھ سے زبردستی بیانات دلوائے جا رہے ہیں کہ آپ کہیں کہ آپ بنی گالا میں سامان دے کر آتی رہی ہو
یہ بے شرم فیصلہ ساز اس قدر گر چکے ہیں کہ اب دوبارہ سے عمران خان کے خلاف اس قسم کی گھناؤنی سازشیں کررہے ہیں
جس وقت سے عمران خان کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹایا گیا،
اس وقت سے لے کر آج تک دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ یا کے ٹو نہیں ہے، بلکہ عمران خان کا سیاسی قد ہے۔
ریحان طارق کی پوڈکاسٹ میں اقرار الحسن نے آڈینس سے سوال کیا: بغضِ عمران کیا ہے؟ اس پر ایک لڑکے نے مائیک لے کر جواب دیا:
بغضِ عمران یہ ہے کہ جنرل عاصم منیر یہاں سے منرلز لے جا کر امریکہ میں ٹرمپ کو پیش کرتے ہیں، حالانکہ یہ ان کا کام نہیں تھا۔ اس پر ہم نے نہیں دیکھا کہ آپ شاؤٹ کر رہے ہیں یا چیخ رہے ہیں۔ لیکن جب ایئر پورٹ پر ایک ایف آئی اے کا اہلکار ایک سیاسی کمنٹ پاس کرتا ہے تو آپ اس پر شور بھی مچاتے ہیں، ویڈیوز بھی بناتے ہیں اور ہلہ گلہ بھی کرتے ہیں۔ یہی بغضِ عمران ہے۔
اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ یہ ہے وہ شعور جو عمران خان نے اس قوم کے نوجوانوں کو دیا ہے۔
@iqrarulhassan@fahad_rai69229 آپ الیکشن کے ذریعے اقتدار میں آؤ گے یا سلیکشن کے ذریعے
میں تو سمج رہا تھا آپ صحافی تحریک چلاؤ گے 8 فروری الیکشن چوری کی اور نظام انصاف کی
عمران خان کا لیول 🚨
عمران خان کی عزت دیکھنی ہے تو اس بات سے اندازہ لگائے سہیل آفریدی کو کوئی جانتا نہیں تھا لیکن جب سے عمران خان کا نام اٹیچ ہوا ہے لوگ آنکھوں پر رکھتے اسکو !!
ڈی جی ISPR کی آج کی پریس کانفرنس پر سوشل میڈیا پر پھیلا ہوا ایک مدلل جواب:
منقول👇
سب سے پہلے تو میں آج احمد شریف کی تعریف کرنا چاہوں گا کہ آج بلآخر تم کھل کر سامنے آگئے ہو اور تم نے آج ثابت کردیا ہے کہ تم فوج کے ترجمان نہیں، بلکہ عاصم منیر کے ذاتی نوکر ہو- آج تم نے کہا کہ "ایک شخص کا بیانیہ سیکیورٹی رسک ہے"
آو تمہیں بتاؤں کہ سیکیورٹی رسک کس چیز کو کہتے ہیں؟
نواز شریف نے ممبئی حملوں میں پاکستان کو ملوث قرار دیا تھا اور نواز شریف کے اس بیان کو ہندوستان نے عالمی عدالتِ انصاف میں بطور ثبوت لے جاکر پاکستان کی بدترین تذلیل کروائی، تمہارے چیف عاصم منیر نے اُسی نواز شریف سے لندن میں ڈیل کرلی اور حکومت نواز شریف کی جماعت کو سونپ دی، کیا یہ سیکیورٹی رسک نہیں ہے؟
خواجہ آصف نے اسمبلی میں کھڑا ہوکر کہا تھا کہ پاکستان فوج نے آج تک کوئی جنگ نہیں جیتی، آج جس نون لیگ کو عاصم منیر نے تخت نشین کیا ہوا ہے، خواجہ آصف اُسی حکومت کا وزیرِ دفاع ہے، کیا یہ سیکیورٹی رسک نہیں ہے؟
کارگل محاذ سے متعلق نواز شریف نے کہا تھا کہ پاکستان فوج نے میری پیٹھ میں خنجر گھونپا ہے، آج اُسی نواز شریف کی نون لیگ تمہاری گود میں بیٹھ کر حکومت کررہی ہے، کیا یہ سیکیورٹی رسک نہیں ہے؟
آصف زرداری نے کہا تھا کہ میں پاکستان فوج کی اینٹ سے اینٹ بجا دونگا، آج اُسی فوج نے زرداری کو صدرِ پاکستان کے منصب پر بٹھایا ہوا ہے، کیا یہ سیکیورٹی رسک نہیں ہے؟
مریم نواز نے اپنے جلسے میں "یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے" کے نعرے سرعام لگوائے تھے، آج وہی مریم نواز پاکستان فوج کی حمایت سے پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ لگی ہوئی ہے، کیا یہ سیکیورٹی رسک نہیں ہے؟
یہ تو ہوگئی سیکیورٹی رسک پر چند مثالیں
آج تم نے یہ بھی کہا کہ "گھبراہٹ اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ (عمران خان) سمجھتا ہے میں نہیں تو کچھ نہیں"-
گھبراہٹ کس کی کتنی بڑھ چکی ہے یہ ساری دنیا نے دیکھ لیا جب ایک نوٹیفکیشن کی خاطر تمہارا چیف عاصم منیر در بدر مارا مارا پھر رہا تھا، اور گھبراہٹ کا اندازہ یہاں سے لگاؤ کہ تم عمران خان سے ملاقاتیں اس لئے نہیں کرواتے رہے تاکہ وہ کسی تحریک کا اعلان نہ کردے-
تم نے آج یہ بھی کہا کہ "ہم کسی سیاسی جماعت کا ایجنڈا لیکر نہیں چلتے اور فوج کو سیاست سے دور رکھا جائے"-
یہ بات تو بذاتِ خود سب سے بڑا مذاق ہے، تم نے آج جو باتیں بولی ہیں سب کی سب سیاسی ہیں اور تم جب پریس کانفرنس کرتے ہو تو یوں لگتا ہے جیسے عطاء تارڑ یا مریم اورنگزیب پریس کانفرنس کررہے ہوں-
تم نے آج کہا کہ "آپ کچھ لوگوں کو بیوقوف بنا سکتے ہیں سب کو نہیں"
اگر صرف چند لوگ بیوقوف ہیں تو تمہیں عام انتخابات میں فارم 47 کی ضرورت کیوں پڑی تھی؟ کیا 24 کروڑ بیوقوف ہیں اور صرف سات لاکھ تنخواہ دار ذہنی مریض
عقلِ کُل ہیں؟
تم نے کہا کہ "اپنی ذات کا ایک قیدی ملکی سلامتی کیلئے خطرہ ہے"-
عمران خان اپنی ذات کا قیدی نہیں ہے، عمران خان کو ایک ذہنی مریض عاصم منیر نے اپنی انا کی خاطر ناحق قید میں ڈال رکھا ہے-
تم نے آج کہا کہ "اب کسی کو کوئی بیانیہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی"-
تم کون ہوتے ہو کسی سیاسی جماعت یا سیاسی رہنما کے بیانیے کو روکنے والے؟ آئینِ پاکستان نے تمہیں عوام کا نوکر بنایا ہے، مالک بن کر سیاستدانوں کے بیانیے روکنے والے تم ہو کون؟
آج جس بدمعاشی سے تم نے پریس کانفرنس کی ہے یہ واضح کرتا ہے کہ عاصم منیر خود کو ایکسٹینشن اور استثنیٰ ملنے کے بعد خُدا کی زمین پر خُدا سمجھ بیٹھا ہے-
تم اور تمہارے عاصم منیر جیسے کئی فرعون آئے، کئی وقت کے یزید آئے، آج کوئی اُنکا نام لینے والا نہیں ہے، تمہارا نام و نشان مٹ جائے گا، تاریخ تمہیں کوڑے دان میں پھینک چکی ہے، تمہارا ذہنی مریض عاصم منیر جلد ماضی بن جائے گا جس کی قبر پر بھی لوگ تھوکیں گے- "تم جب بھی بولو گے جھوٹ ہی بولو گے، جب بھی منہ کھولو گے تو غلاظت ہی بَکو گے".