حافظ صاحب کی قیادت میں پاکستان کا پیغام واضح ہے: ہم خطے میں امن، تجارت اور ترقی چاہتے ہیں۔
عسکری قیادت کی فعال ڈپلومیسی ہمارے پڑوسیوں کے لیے دوستی کا ہاتھ ہے۔ #حافظ_صاحب_چھا_گے
پاکستان کی عسکری قیادت نے ثابت کیا: ہم جنگ نہیں، تعلقات اور ترقی چاہتے ہیں۔
حافظ صاحب کی فعال ڈپلومیسی خطے میں توازن اور استحکام کی ضمانت ہے۔
#حافظ_صاحب_چھا_گے
عسکری قیادت کا عزم اور فعال سفارتکاری ثابت کرتی ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور اقتصادی تعاون چاہتا ہے۔
حافظ صاحب کے دانشمندانہ اقدامات سے استحکام کو فروغ ملے گا۔
#حافظ_صاحب_چھا_گے
#حافظ_صاحب_چھا_گے
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت عزم، نظم و ضبط اور احساسِ ذمہ داری کی عکاس ہے۔
پاکستان کے لیے ان کی کاوشیں حقیقی قدر اور احترام کی مستحق ہیں۔
کسی بھی واقعے میں جلد بازی نقصان دیتی ہے۔
سرحد یونیورسٹی کیس میں بھی مکمل انکوائری ضروری ہے۔
اگر طریقہ کار موجود تھا تو سڑکوں پر جانے کے بجائے قانون کا ساتھ دینا چاہیے تھا۔
سرحد یونیورسٹی واقع کے اصل حقائق منظرِ عام پر آگئے
اصل قصوروار کون؟؟ سب سامنے آگیا
کسی بھی واقع پر رائے قائم کرنے سے پہلے ہمیں سیاق و سباق پر نظر ڈالنی چاہئیے اور جاننا چاہئیے کہ اصل حقائق ہیں کیا۔
آج جو افسوسناک واقع سرحد یونیورسٹی میں پیش آیا یہ اچانک سے رونما نہیں ہوا بلکہ اسکا تعلق گزشتہ کئی روز سے چلنے والے یونیورسٹی کے اندرونی معاملات سے ہے۔
لہٰذا !! سرحد یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقع کو سمجھنے کیلئے مندرجہ ذیل صورتحال سے واقف ہونا لازمی
چند روز قبل بنوں کے رہائیشی اور *الائیڈ ہیلتھ سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر جدون خان جسے کرپٹ سروسز/ رشوت خوری اور طالبات کو ہراساں کرنے کے الزام میں* عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور اسکی جگہ Miss Aina کو تعینات کیا گیا جو کہ جدون اور اسکے حواریوں کو ہضم نا ہوا۔
کچھ روز قبل جدون مس عینا کے دفتر گیا ان سے بدتمیزی کی اور دھمکیاں دی۔ *جسکے بعد Miss Aina نے 15 پر کال کرکے پولیس کو اطلاع دیکر جدون کیخلاف درخواست دی جسکی کاپی اٹیچ ہے* لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے معاملہ رفع دفع کیا اور بات خالی پولیس اپلیکشن تک محدود رہی۔
ذیل میں بیان کردہ نکات فراہم کردہ ابتدائی رپورٹ/ذرائع کے مطابق مرتب کیے گئے ہیں۔ حتمی حقائق کا تعین متعلقہ انکوائری اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا
معاملے کا آغاز:ابتدائی اطلاعات کے مطابق سرحد یونیورسٹی کے الائیڈ ہیلتھ سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر جدون خان کے خلاف شعبہ اسٹوڈنٹ افیئرز کی سربراہ ڈاکٹر آئینہ نے ہراسانی سے متعلق شکایت درج کرائی۔
یونیورسٹی کی کارروائی:* شکایت کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے متعلقہ HOD کو معطل کیا اور معاملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی۔
احتجاج کا آغاز: معطل شدہ HOD کی بحالی کے مطالبے پر طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے معطل HOD سمیت احتجاج شروع کردیا۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر آئینہ صورتحال کو سنبھالنے اور مظاہرین سے بات چیت کے لیے وہاں پہنچیں۔
مبینہ بدسلوکی:ابتدائی رپورٹ کے مطابق بات چیت کے دوران تلخ کلامی ہوئی اور ایک طالب علم نے مبینہ طور پر ڈاکٹر آئینہ کے گریبان پر ہاتھ ڈالا اور انہیں دھمکی دی۔ ان الزامات کی بھی تحقیقات ضروری ہیں۔
فوجی افسر کی آمد: ڈاکٹر آئینہ نے مبینہ واقعے کے بعد اپنے شوہر، جو پاک فوج کے افسر ہیں، کو اطلاع دی۔ رپورٹ کے مطابق افسر تنہا یونیورسٹی پہنچے اور ان کے ساتھ کوئی فوجی دستہ یا جوان موجود نہیں تھا
ابتدائی تصادم: رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر آئینہ نے افسر کو اس نوجوان کی نشاندہی کی جس پر بدسلوکی کا الزام تھا۔ افسر اس نوجوان کی طرف بڑھے اور اسے سرزنش کی، جس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔
ہجوم اور ہاتھا پائی:* ابتدائی اطلاعات کے مطابق طلبہ کے ایک گروہ نے افسر کو گھیر لیا۔ دھکم پیل کے دوران ڈاکٹر آئینہ کے گرنے اور افسر پر حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
فائرنگ کا واقعہ:رپورٹ کے مطابق کشیدہ صورتحال میں افسر نے اپنا اسلحہ نکالا اور ہوائی فائرنگ کی۔ تاہم یہ معاملہ بھی باقاعدہ انکوائری اور قانونی جانچ کے تحت ہے کہ اس موقع پر طاقت کے استعمال کی نوعیت اور قانونی حیثیت کیا تھی۔
حملے کے الزامات:* ذرائع کے مطابق ویڈیوز اور دیگر شواہد کی بنیاد پر متعدد افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ میں 37 افراد پر افسر پر مبینہ حملے، جن میں کہنی، مکے اور لوہے کی راڈ کے استعمال کے الزامات شامل ہیں، کی نشاندہی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
قانونی کارروائی: رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت تمام متعلقہ افراد کے کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور شواہد کی بنیاد پر قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
اب ساری صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک باشعور انسان واضح طور پر سمجھ سکتا ہے کہ اصل قصور وار کون ہے۔؟؟ لہٰذا کسی واقع کے متعلق فوری رائے قائم کرنے سے قبل حقائق اور دونوں جانب کے رُخ کو پرکھنا اور دیکھنا انتہائی لازم ہے۔
@Hanzalamalik97 کسی بھی واقعے میں جلد بازی نقصان دیتی ہے۔
سرحد یونیورسٹی کیس میں بھی مکمل انکوائری ضروری ہے۔
اگر طریقہ کار موجود تھا تو سڑکوں پر جانے کے بجائے قانون کا ساتھ دینا چاہیے تھا۔
سرحد یونیورسٹی واقع کے اصل حقائق منظرِ عام پر آگئے
اصل قصوروار کون؟؟ سب سامنے آگیا
کسی بھی واقع پر رائے قائم کرنے سے پہلے ہمیں سیاق و سباق پر نظر ڈالنی چاہئیے اور جاننا چاہئیے کہ اصل حقائق ہیں کیا۔
آج جو افسوسناک واقع سرحد یونیورسٹی میں پیش آیا یہ اچانک سے رونما نہیں ہوا بلکہ اسکا تعلق گزشتہ کئی روز سے چلنے والے یونیورسٹی کے اندرونی معاملات سے ہے۔
لہٰذا !! سرحد یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقع کو سمجھنے کیلئے مندرجہ ذیل صورتحال سے واقف ہونا لازمی
چند روز قبل بنوں کے رہائیشی اور *الائیڈ ہیلتھ سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر جدون خان جسے کرپٹ سروسز/ رشوت خوری اور طالبات کو ہراساں کرنے کے الزام میں* عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور اسکی جگہ Miss Aina کو تعینات کیا گیا جو کہ جدون اور اسکے حواریوں کو ہضم نا ہوا۔
کچھ روز قبل جدون مس عینا کے دفتر گیا ان سے بدتمیزی کی اور دھمکیاں دی۔ *جسکے بعد Miss Aina نے 15 پر کال کرکے پولیس کو اطلاع دیکر جدون کیخلاف درخواست دی جسکی کاپی اٹیچ ہے* لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے معاملہ رفع دفع کیا اور بات خالی پولیس اپلیکشن تک محدود رہی۔
ذیل میں بیان کردہ نکات فراہم کردہ ابتدائی رپورٹ/ذرائع کے مطابق مرتب کیے گئے ہیں۔ حتمی حقائق کا تعین متعلقہ انکوائری اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا
معاملے کا آغاز:ابتدائی اطلاعات کے مطابق سرحد یونیورسٹی کے الائیڈ ہیلتھ سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر جدون خان کے خلاف شعبہ اسٹوڈنٹ افیئرز کی سربراہ ڈاکٹر آئینہ نے ہراسانی سے متعلق شکایت درج کرائی۔
یونیورسٹی کی کارروائی:* شکایت کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے متعلقہ HOD کو معطل کیا اور معاملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی۔
احتجاج کا آغاز: معطل شدہ HOD کی بحالی کے مطالبے پر طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے معطل HOD سمیت احتجاج شروع کردیا۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر آئینہ صورتحال کو سنبھالنے اور مظاہرین سے بات چیت کے لیے وہاں پہنچیں۔
مبینہ بدسلوکی:ابتدائی رپورٹ کے مطابق بات چیت کے دوران تلخ کلامی ہوئی اور ایک طالب علم نے مبینہ طور پر ڈاکٹر آئینہ کے گریبان پر ہاتھ ڈالا اور انہیں دھمکی دی۔ ان الزامات کی بھی تحقیقات ضروری ہیں۔
فوجی افسر کی آمد: ڈاکٹر آئینہ نے مبینہ واقعے کے بعد اپنے شوہر، جو پاک فوج کے افسر ہیں، کو اطلاع دی۔ رپورٹ کے مطابق افسر تنہا یونیورسٹی پہنچے اور ان کے ساتھ کوئی فوجی دستہ یا جوان موجود نہیں تھا
ابتدائی تصادم: رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر آئینہ نے افسر کو اس نوجوان کی نشاندہی کی جس پر بدسلوکی کا الزام تھا۔ افسر اس نوجوان کی طرف بڑھے اور اسے سرزنش کی، جس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔
ہجوم اور ہاتھا پائی:* ابتدائی اطلاعات کے مطابق طلبہ کے ایک گروہ نے افسر کو گھیر لیا۔ دھکم پیل کے دوران ڈاکٹر آئینہ کے گرنے اور افسر پر حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
فائرنگ کا واقعہ:رپورٹ کے مطابق کشیدہ صورتحال میں افسر نے اپنا اسلحہ نکالا اور ہوائی فائرنگ کی۔ تاہم یہ معاملہ بھی باقاعدہ انکوائری اور قانونی جانچ کے تحت ہے کہ اس موقع پر طاقت کے استعمال کی نوعیت اور قانونی حیثیت کیا تھی۔
حملے کے الزامات:* ذرائع کے مطابق ویڈیوز اور دیگر شواہد کی بنیاد پر متعدد افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ میں 37 افراد پر افسر پر مبینہ حملے، جن میں کہنی، مکے اور لوہے کی راڈ کے استعمال کے الزامات شامل ہیں، کی نشاندہی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
قانونی کارروائی: رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت تمام متعلقہ افراد کے کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور شواہد کی بنیاد پر قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
اب ساری صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک باشعور انسان واضح طور پر سمجھ سکتا ہے کہ اصل قصور وار کون ہے۔؟؟ لہٰذا کسی واقع کے متعلق فوری رائے قائم کرنے سے قبل حقائق اور دونوں جانب کے رُخ کو پرکھنا اور دیکھنا انتہائی لازم ہے۔
Pakistan once again steps up for peace.
High-level visit to Iran by FM, COAS, CDF & Mohsin Naqvi focused on dialogue, stability & reopening Strait of Hormuz.
🇵🇰🤝🇮🇷
FM Syed Asim Munir,Coas & CDF, along with Minister for Interior Mr Mohsin Naqvi, concluded a day-long visit to the Islamic Republic of Iran, as part of Pakistan’s diplomatic efforts to end the stalemate in the ongoing US-Iran conflict and explore ways for achieving enduring peace and permanent end to instability in the region.
The Field Marshal called on H.E. Dr. Masoud Pezeshkian, _President of Iran_, H.E. Mohsen Rezaei, _Representative of the Supreme Leader on the Supreme National Security Council_, H.E. Mohammad Bagher Ghalibaf, _Speaker of the Parliament of Iran_, H.E. Seyed Abbas Araghchi, _Foreign Minister of Iran_, and H.E. Eskandar Momeni, _Minister of Interior of Iran_. Comprehensive discussions focused on measures to prevent further escalation, reopening of the Strait of Hormuz and expedited termination of the conflict. The two sides also exchanged views on regional peace and the ways to arrive at a negotiated settlement to the disputes.
The Iranian leadership appreciated Pakistan’s constructive role and sincere efforts towards facilitating dialogue, de-escalation and a peaceful resolution of the conflict.
Upon arrival, the FM was received by H.E. Eskandar Momeni, _Minister of Interior of Iran_ and other senior Iranian civil & military officials.
@Hanzalamalik97 Pakistan once again steps up for peace.
High-level visit to Iran by FM, COAS, CDF & Mohsin Naqvi focused on dialogue, stability & reopening Strait of Hormuz.
🇵🇰🤝🇮🇷
FM Syed Asim Munir,Coas & CDF, along with Minister for Interior Mr Mohsin Naqvi, concluded a day-long visit to the Islamic Republic of Iran, as part of Pakistan’s diplomatic efforts to end the stalemate in the ongoing US-Iran conflict and explore ways for achieving enduring peace and permanent end to instability in the region.
The Field Marshal called on H.E. Dr. Masoud Pezeshkian, _President of Iran_, H.E. Mohsen Rezaei, _Representative of the Supreme Leader on the Supreme National Security Council_, H.E. Mohammad Bagher Ghalibaf, _Speaker of the Parliament of Iran_, H.E. Seyed Abbas Araghchi, _Foreign Minister of Iran_, and H.E. Eskandar Momeni, _Minister of Interior of Iran_. Comprehensive discussions focused on measures to prevent further escalation, reopening of the Strait of Hormuz and expedited termination of the conflict. The two sides also exchanged views on regional peace and the ways to arrive at a negotiated settlement to the disputes.
The Iranian leadership appreciated Pakistan’s constructive role and sincere efforts towards facilitating dialogue, de-escalation and a peaceful resolution of the conflict.
Upon arrival, the FM was received by H.E. Eskandar Momeni, _Minister of Interior of Iran_ and other senior Iranian civil & military officials.
چیف منسٹر صاحبہ @MaryamNSharif
آپسے ایک مودبانہ گزارش ہے
لاہور میں پلیز سرکاری ہاسپٹل کو اپ خود چیک کرے بہت برے حالات ہے مریض بیچارے در بدر ہے اور انکے گھر والے اسے بھی زائدہ
سروس ہاسپٹل لاہور میں گندگی الگ ہے دوسرا ایک ہی بیڈ پے ۲ ۲ لوگ لیٹے ہوئے ہے اور نا ہی مریضوں کے گھر والو کے لئے کوئی بیٹھنے کی جگہ ہے
جس طرح کا موسم ہے اس میں کیسے لوگ باہر بیٹھ سکتے ہے اور سینئر ڈاکٹرز اندھر کمروں میں آسی کے مزے لوٹ رہے ہے
آپکی حکومت میں بہت اچھے کام ہورے ہے
لاہور میں ہاسپٹل والے مسئلے کو آپ خود دیکھ لے تو امید ہے یہ بھی ٹھیک ہو جاے گاہ. انشاءاللہ
دین کو سیاست کی سیڑھی بنانا اور اقتدار کے بغیر ملک کو غیر مستحکم کرنا
یہ دونوں رویے قوم کے ساتھ زیادتی ہیں۔
عوام اب سب سمجھتے ہیں۔
#بےروزگار_فالتو_فضلو#بے_روزگار_فضلو