تم کھرچ کھرچ کر مٹاتے رہے۔ ہم سینت سینت کر رکھتے رہے۔ تم کوڑے دان میں پھینکنا چاہتے تھے۔ ہم نےسینوں سے لگا لیا۔ پھر تمہاری وحشت بھری آنکھیں ہار گئیں۔ ہمارے لرزتے کانپتے ہاتھ جیت گئے۔ تمہاری طاقت کے زعم نے شکست کھائی ہے۔ ہماری استقامت رنگ لائی ہے۔ تم جیت نہیں سکتے تھے۔ ہم ہار نہیں سکتے تھے۔
وہی پرانے گھسے پٹے طریقے،حضور طریقہ واردات بدل لیں،وہ نواز شریف ھے ،وہ پیار سے مان جائے گا ،یہ حرکتیں کرکے منوا کر دیکھ لیں پھر۔حد ھی ھو گئی،یہ لوگ کتنے قابل پیش گوئی ھیں،کم از کم اس دور جدید میں ھی ھتھکنڈے تبدیل کرلیں۔
قرآن میں لکھا ہے :
اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔
ظلم کرنے والوں کے لیے دردناک عذاب ہے
ظالموں کی طرف جھکنے اور ان کی حمایت کرنے والے بھی ظالم ہیں اور اس سے بچنے کا حکم ہے
اللہ ظالموں کے اعمال سے غافل نہیں ہے
ظالموں کو کبھی کبھی مہلت ملتی ہے، مگر یہ نجات کی ضمانت نہیں ہے
قیامت میں ظالموں کا کوئی حقیقی مددگار نہیں ہوگا۔
ظلم کرنے والوں کا انجام بالآخر رسوائی اور عذاب ہے
قرآن میں اللہ کے فرامین کی روشنی میں ظالموں کی حمایت میں بندوق اٹھانے والے ، ظالموں کی حمایت میں لکھنے اور بولنے والے ٹاؤٹ صحافی ، ظالموں کے مددگار سیاسی اداکار اور ظالموں کی حمایت کرنے والے پیر اور مولوی ، سب کے سب ظالم ہیں
اور ان سب کا عبرتناک انجام طے ہے
#قوم_کا_خیرخواہ_قید_میں_ہے
درست بات ہے، سپریم کورٹ نے پنجاب الیکشن کرانے کا فیصلہ دیا، سیدھا سیدھا 2-3 کا فیصلہ تھا۔ لیکن 2 ججز جو پہلے بینچ سے الگ ہو چکے تھے، انہوں نے کہا 7 رکنی بینچ ہے اور 3-4 کا فیصلہ ہے، سپریم کورٹ کی اتھارٹی ٹوٹ گئی، تباہی کی بنیاد رکھی گئی۔ اُن میں سے ایک جج حضرت خود تھے
اہل وطن کو یوم آزادی مبارک!
قائد اعظم کا پاکستان دفن ہو چکا ہے
انا للہ و انا علیہ راجعون
بیرسٹر حسان نیازی کی غیرقانونی حراست کو آج پورے تین سال ہو چکے ہیں
13اور 14 اگست 2023 کی درمیانی رات یعنی 1145PM, ریاست پاکستان نے ماورائے آئین وقانون یعنی آئین اور قانون کی دھجیاں اڑا کر میرے بیٹے کو گرفتار کیا ، دو ماہ غیرقانونی اغوا رکھا گیا اور پھر ریاست نے اپنے دائیں ہاتھ سے میرے بیٹے کو اپنے ہی بائیں ہاتھ کے حوالے کر دیا یعنی کہاپنی ہی (فوج کی) تحویل میں رکھ لیا فوجی تحویل میں کینگرو ملٹری کورٹس کے ذریعہ فراڈ جھوٹا مقدمہ قائم کر کے دس سال قید کی سزا سنا دی گئی، آج بھی حسان نیازی کو ہائی سیکورٹی جیل کی بیرکوں میں رکھا گیا ہے ۔ فراڈ گرفتاری اور فراڈ مقدمہ کے خلاف ہائی کورٹ میں ایک سال سے اپیل دائر کر رکھی ہے، چار بنچ بنے اور چاروں بینچوں نے سننے سے معذرت کر لی ، اب پانچواں بینچ پچھلے اٹھ مہینوں سے کیس لٹکائے بیٹھا ہے، اور چھٹیوں کے بعد کیس سننے یا نہ سننے کا پتہ چلے گا۔
حساس ادارے کے ایک افسر کی بارُعب آواز آج بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہے کہ پانچواں چھوڑ چھٹا ساتواں آٹھواں بینچ آ جائے تمہارے بیٹے کا کیس نہیں سنا جائے گا۔۔۔ نہ کوئی بینچ نہ سنے گا نہ فیصلہ دے گا صرف کیس لٹکائے گا۔مجھے اپنے کمزور سویلین ہونے اور اپنی کم مائیگی اور بے بسی پر شرمندگی ہے۔
انا للہ و انا علیہ راجعون
کیسے مان لوں کہ آئین اور قانون کی دھجیاں ازانے والے مکافات عمل سے بچ جائیں گے، ایک ہی آسودگی ہے ایسوں کی ایک شیلف لاہف اور ایک expiry date ہے، پچھتر سالہ تاریخ میں ایسے ساروں کو عبرت کا نشان ببتے دیکھا ہے، کیسے مان کوں کہ اج کے کردار بچ جائیں گے۔
مطیع اللہ جان ، اسد طور ، احمد نورانی جیسے کتنے ہی لوگ ہیں جن کا موقف ہمیشہ ایک سا رہا۔ یہ تب بھی فوج کے سیاسی کردار کے کھلم کھلا خلاف تھے جب ہم جیسے اور آپ جیسے فوجی پراپگنڈے کے مفت رضا کار تھے۔ لیکن ہر انسان کی طرح انکی بھی کسی سے سیاسی ہمدردیاں تھیں اور ہیں۔ ہماری خوشقسمتی اور انکی بدقستمی کہ جن لوگوں سے انہیں عقیدت رہی وہ دوڑ جاتے رہے ، ڈیلیں لے لیتے رہے۔ لیٹتے اور چاٹتے رہے۔ جس شخص سے اور جسکی سوشل میڈیا ٹیم سے انہیں بوجہ برس ہا برس عناد رہا اور آپس میں محاذ آرائی رہی وہ ڈٹ گیا وہ کھڑا ہوگیا اور ہر طرح کی آزمائش پر پورا اترا۔
یہ لوگ اس مزاحمت کی توقع بینظیر یا نواز شریف یا مریم نواز سے رکھتے تھی۔ لیکن یہاں سارے قرض عمران خان چکا گیا سارے فرض عمران خان نبھا گیا۔ اب چونکہ ہمارا بابا اوپر ہے اور انکے بابے اور بابیاں نیچے ہیں تو انکے دلوں میں بہرحال ایک خلش باقی ہے۔ جس کا وقتا فوقتا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ کبھی کوئی جھوٹا بیان عمران خان سے منسوب کردیا ، کبھی اسکے دور میں بھی یہی ہوا تھا کرلیا۔ کم از کم دس بارہ سال عمران خان کے سوشل میڈیا نے انہیں نیزے کی نوک پر رکھا۔ اب تین چار سال سے اگرچہ اتارا ہے پھر بھی ان میں اس درد کی کوئی نا کوئی جھلک دکھائی دے ہی جاتی ہے۔
آپ ان کی اس طرح کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے پریشان نہ ہوا کیجیے۔ انکے بت ٹوٹے ہیں۔ انکے بھگوان اوندھے منہ گرے ہیں۔ ہمیں ان سے ہمدردی ہے۔
4 جون ۔ لاہور۔ماڈل ٹاؤن ۔گھریلو ملازمہ کو مالک نے ریپ کے بعد اسقاط حمل میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔۔
29 جون۔ لاہور ۔ ڈی ایچ اے۔۔اسحاق ڈار کا نواسہ اور مریم نواز کے بہنوئی کا بھانجا دو فارن نیشنل کو اغوا کر کے بھتہ لیتا رہا، ان کا ریپ بھی کرایا
جولائی۔لاہور ۔غالب مارکیٹ ۔ خاتون کو پولیس افسر نے تھانے لے جا کر ریپ کا نشانہ بنا ڈالا ۔۔
اگست ۔لاہور ۔ٹاؤن شپ۔۔ بھلی چنگی صحت مند ،17 سالہ انمول اور 22 سالہ آمنہ پولیس حراست میں مر گئیں۔
یہ تمام واقعات لاہور کے ہیں جن میں نہ انصاف ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے نہ ہو گا۔ اور یہ واقعات کوئی چک 44 یا چیچو کی ملیاں کے نہیں ، حکمران خاندان کی رجدھانی لاہور کے ہیں۔۔ خاتون کی ناک کے نیچے سب جرائم ہو رہے ہیں وہ پھر بھی شور مچا رہی ہیں
خواتین ہماری ریڈ لائن ہیں ۔۔
کسی بھی آئیں بائیں شائیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے بات بالکل واضح ہے عمران خان کو قید فوج نے کیا ہوا ہے اور اگر عمران خان کو خدا نخواستہ کوئی نقصان پہنچا تو اس کی زمہ دار بھی فوج ہی ہوگی۔
میں نے عمران خان کو ہمیشہ خود سے بڑھ کر غریب سے محبت کرتے دیکھا۔ انشاللہ میرا اللہ غریبوں کو انکے ساتھی دوست سجن سے محروم نہیں کرے گا۔ میرا اللہ عمران خان کی حفاظت کرے گا۔ انشاللہ