جیسے ہی بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں غریب کسانوں کی فصلیں تیار ہوگئیں۔ فوری طور پر بھتہ خور پنجابی فوجی مافیاؤں نے پورے ضلع میں چھاپے شروع کردئیے اور لوگوں کے اناج کو لوٹ رہے ہیں۔
ڈیرہ بگٹی کے مخلتف علاقوں میں پاکستانی فوج کی طرف سے چھاپوں اور لوٹ گھسیٹ کی اطلاعات ہیں۔
The Pakistani army has launched an operation in Dera Bugti, targeting areas like Kordan, Habib Rahi, Landi, Traki, and Siya Aaf. Forces have conducted raids on locals' homes and looted their grains. #Pakistan#DeraBugti#MilitaryOperation#Balochistan
نوشکی میں خفیہ اداروں کے نو اہلکاروں کو گرفتار کرکے ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں ۔ بی ایل اے
سرمچاروں نے ایک کوچ سے نو مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔ تفتیش اور تلاشی کے بعد ان مشتبہ افراد سے متعدد شناختی کارڈ اور بڑی تعداد میں سِم کارڈ برآمد ہوئے۔ جنہیں خفیہ اداروں کے اہلکار شناخت کرکے سرمچاروں نے موقع پر ہلاک کردیا۔ ترجمان
مزید پڑھیں:
https://t.co/GBo7XiDQ3C
#Noshki | #TBPNews
پنجگور سے تعلق رکھنے والے ظہیر بلوچ کی جبری گمشدگی کو نو سال مکمل ہوچکے ہیں 13 اپریل 2016 کو جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے ظہیر بلوچ کے اہلخانہ کو آجتک اس بات سے بے خبر رکھا گیا ہے کہ ظہیر بلوچ کا جرم کیا ہے وہ کہاں اور کس حال میں ہے ۔
اس ملک میں جبری گمشدگیوں پر بات کرنے والوں کو تک برداشت نہیں کیا جاتا ہے انسانی حقوق کے بنیادی مسلے پر بات کرنے والے صحافی وکیل ایکٹیوسٹ پر مقدمات قائم کیے جاتے ہیں جبکہ بنیادی مسلے کو حل کرنے کے لیے اس ملک کے سیاسی لیڈران اپوزیشن میں ہی ہمدرد بن جاتے ہیں جیسے ہی کرسی مل گئی وہ بھول جاتے ہیں کہ کھبی انہوں نے جبری گمشدگیوں کو انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزی کہا ہے ۔
#ReleaseZaheerBaloch
اس سے بڑا جبر کیا ہوسکتا ہے کہ دو بلوچ طالب علم لیڈر جھنیں 18 مارچ 2014 کو کوئٹہ میں گواہوں کی موجودگی میں گن پوائنٹ پر وردیوں میں ملبوس اہلکار دن دھاڑے جبری لا��تہ کرتے ہیں اور دس سال گزرنے کے باوجود انکے اہلخانہ دوست ساتھی اس بات سے بے خبر رہیں کے وہ کہاں ہیں ان پر الزامات کیا ہیں ؟ اور کس قانون کے تحت انھیں جبری لاپتہ کیا گیا ہے ۔
پھر خود ہی جواب تلاشنے کے لیے اتنا حوالہ کافی ہے کہ جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے بلوچ ہیں بلوچستان کے رہنے والے تھے بلوچستان جہاں ریاست پاکستان کا اپنا ایک غیر تحریر شدہ الگ قانون یہاں کے باسیوں کے لیے لاگو کیا گیا ہے جس پر نہ اس ملکی کی عدلیہ بات کرتی ہے نہ انسانی حقوق کی تنظیمیں تسلی بخش کرد��ر ادا کررہے ہیں ۔۔
#SaveZahidAndAsadBaloch
During this holy month of Ramadan, Remember the thousands of Baloch Missing Persons and their families awaiting their release. We must continue to raise our voices for their reunification.
#EndEnforcedDisappearances#ReleaseAllBalochMissingPersons
عبدالرزاق کی جبری گمشدگی خلاف اہلخانہ کی جدوجہد قابلِ تحسین ہے۔
بلوچستان میں ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جہاں لوگوں کی زندگیاں احتجاجوں میں نہ گزر رہی ہوں
خونی شاہراہ کے خلاف احتجاج ہو یا قدرتی آفات کے بعد ریلیف نہ ملنے کے خلاف دھرنا و احتجاج
کسی بچی کی زبردستی شا��ی کے خلاف ہو یا خواتین سے جڑے دیگر مسائل
تعلیمی معاملات ہوں یا روزگار کے
قتل ��ام ہو یا جبری گمشدگیاں
اس نظام سے لوگوں کی مایوسی اور بے اعتمادی دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے اور بلوچستان میں عدلیہ پولیس، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے یا ان جرائم کی پشت پناہی اور برائے راست ملوث ہیں یا صرف تماشہ دیکھ رہے ہیں۔
@ChibBlood تیرےجیسے لوگ ہیرے منڈی میں رنجیت سنگھ اور مغلوں کے نطفے کی آمیزش سے پیدا ھونے ھوئے۔
اسلام ہمیں سکھاتے ھو خود آپ کے پاس کیا اسلام ھے 9 سال کے بچیوں کے ساتھ حرام کام کرتے ھو۔ مدرسوں میں بچوں کا زیادتی کرتے ھو۔لوگوں کو بلوچوں کے بارے میں گمراہ کررہے ھو۔ میں خود بلوچ ھوں۔
بلوچستان میں جس نے بھی جنوب میں تھوڑا سا بھی وقت گزارا ہے اس کو علم ہے ان عورتوں کا کام کیا ہوتا ہے۔
ساحل مکران میں اسلام کا وجود ہی نہیں۔ حیران ہوئے؟ تو سنئے۔ وہاں ایک عجیب مذہب رائج ہے جس کا نام ہے ذکری۔ یہ لوگ غالباً وہ پارسی ہیں جو قدیم دور میں اسلام و پارسی کا آمیزش سے بنا