یہ ن لیگ اور پی پی کتنی بے شرم جماعتیں ہیں!
پہلے پی ٹی آئی کی جیتی ہوئی نشستوں پر ڈاکہ مارا۔
پھر ان کی مخصوص نشستیں چھین لیں۔
اب ان کی بنی بنائی حکومت گرا کر اپنے لوگ نافذ کر دئے۔ یار ان کو کس دن شرم آۓ گی؟
امریکی صحافی کا سوال:
کیا آپ سی آئی سے کو پاکستان سے افغانستان کے خلاف کاروائیاں کرنے کی اجازت دیں گے؟ کیا آپ ہمارے ساتھ مل کر افغانستان کے خلاف جنگ لڑیں گے؟
وزیراعظم پاکستان عمران خان:
Absolutely Not 💯
پاکستان میں آئین اور قانون کا اختتام تب ہو گیا تھا جب 2 دن کا ریٹائرڈ جرنیل چیف آف آرمی سٹاف لگا دیا گیا تھا، اس کے بعد نظام میں ایسی چیزیں ہوئیں جو آپ نے خود دیکھیں، اسلام آباد ہائی کورٹ کے 5 سینیئر ججز ڈیڑھ سال اپنے چیف جسٹس کو چٹھیاں لکھتے رہے اور بتاتے رہے کہ کیسے آئی ایس آئی کے غنڈے ان کے گھروں میں ان کے بیڈ روم میں گھسے ہوۓ ہیں اور ان کو بلیک میل کر رہے ہیں صرف اس لیے کہ عمران خان کے خلاف فیصلے دے سکیں، لیکن وہ چیف جسٹس اس معاملے کو دیکھنے کی بجائے ستائسویں اور اٹھائیسویں ترامیم کے لیے سہولتکاری کرتا رہا۔ بیرسٹر شہزاد اکبر
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
جانتے ہیں محمد بن سلمان کی سب سے بڑی غلطی کیا تھی؟
اس نے وزیراعظم عمران خان جیسے مخلص، مسلمانوں کے دوست لیڈر کو دھوکہ دیا۔
اگر سعودی عرب اپریل 2022 کے امریکی اسرائیلی حمایت یافتہ رجیم چینج آپریشن کے بعد غاصب رجیم کے ساتھ مالی تعاون نہ کرتا تو وہ لڑکھڑا جاتا۔ محمد بن سلمان نے اسے لڑکھڑانے نہ دیا۔ اور یہ کم عقلی کی انتہا تھی۔
یہ ہے وہ فاش غلطی کہ آج محمد بن سلمان کا اپنا اقتدار خطرے میں ہے اور اسے کوئی بچانے والا نہيں ہے۔ اگر عمران خان آج پاکستان کا وزیراعظم ہوتا تو یہاں تک نوبت ہی نہ آتی۔ خان کبھی سعودی عرب کو یمن پر حملہ ہی نہ کرنے دیتا۔ اس نے تو ٹرمپ کو صاف صاف بتایا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ ہمیں کسی طور قبول نہيں ہے۔ اور یہ پورے ریجن کے لئے تباہی لائے گی۔ اور ٹرمپ رک گیا تھا۔ میں سمجھتا ہوں اس میں کچھ کردار خان کا بھی تھا۔
"حجاج بن یوسف تہجد میں دس سپارے پڑھتا تھا
لیکن ایسا خبیث تھا کہ اس نے سوا لاکھ مسلمان اپنے سامنے کھڑے ہو کر قتل کروا دیے
عمر بن عبدالعزیز نے اسےجہنم کی آگ میں دیکھا اور جس نے اسے گورنر عراق بنایا، اسےبھی عذاب میں مبتلا دیکھا
اللّه ظلم کو معاف نہیں کرتا"
اکتوبر کا مہینہ ہماری عجیب و غریب میں بھی کچھ ذیادہ خوفناک ثابت ہوا! ۱۶ اکتوبر ۱۹۵۱ کو راولپنڈی میں وزیر اعظم لیاقت علی خان کا قتل ہوا! - ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ کو جنرل مشرف نے نواز شریف کی دو تہائی اکثریت کے حکومت کو ہٹا کے فوجی حکومت قائم کر دی- اور اب ۱۱ اکتوبر ۲۰۲۶ کو جنرل عاصم منیر اور شریف ذرداری خاندانوں نے خیبر پختونخواہ کی دو تہائی اکثریت کی حکومت ختم کر دی - ۲۳ اکتوبر ۲۰۲۲ کو شہید ارشد شریف کو پرسرار حالات میں قتل کر دیا گیا - اور بدقسمتی سے ہر واقعی کا تعلق ہی فوجی جرنیلوں یا ادارے سے منسلک نظر آتا ہے؟
آج سے چوبیس سال پہلے میں نے اس عظیم عورت کوپہلی دفعہ بلوچستان میں دیکھا تھا ۔ وہاں تاریخ کا بد ترین قحط پڑا تھا اور یہ خاتون لاھور سے خوراک سے بھرے ستر ٹرک لے کر چاغی اور خضدار آئی تھیں اور خود بھی ایک ٹرک پر سوار تھیں
زندہ باد لاھور کے عوام جنہوں نے پولنگ سٹیشنوں پر پاکستان کو لوٹ کر بیرون ملک جائدادیں بنانے والے نواز شریف کواس غظیم خاتون کے مقابلے میں تقریبا ایک لاکھ ووٹوں سے شکست دی اوراللہ کی لعنت اور پھٹکار ان لوگوں پر جنہوں نے اس رزلٹ کو فارم 47 میں بدلنے کے لئے ریٹرنگ آفیسر کو تھپڑ مارے اور وہ دل کے عارضے میں ہسپتال جا پہنچا اور اس کی جگہ ایک دوسرے شخص سے فارم 45 پر کاٹ پیٹ کر کے رزلٹ تبدیل کروائے گئے۔
جیل میں اس خاتون کی استقامت نے پاکستان کی عوام کاسر فخر سے بلند کیا ہے اور اس پر ظلم کرنے والوں کا نام رہتی دنیا تک ذلت و رسوائی کے ساتھ تحریر کردیا ہے ۔
ہر کوئی اپنی اولاد کے لئیے ایک نام چھوڑ کر جاتا ہے ۔ کسی کی اولاد کو تحسین ملتی ہے اور کسی کی نسلیں نفرت سے بچنے کے لئیے منہ چھپاتی پھرتی ہیں
خیبر پختونخواہ کی پولیس کو غیر سیاسی رکھنا ہمارا فخر تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں ہماری پولیس نے دیں۔ پختونخواہ کے عوام آج بھی اپنی پولیس کی سر کٹی لاشیں، خودکش دھماکوں کے بعد بجلی کے کھمبوں سے ان کے یونیفارم کے ٹکڑے اور اپنی سڑکوں سے ان کے گوشت کے لوتھڑے جمع کرنے کے مناظر بھولے نہیں۔ قابض مافیہ نے جب خیبر پختونخواہ کو دوبارہ آگ میں جھونکنے کا فیصلہ کیا تو ہماری قوم نے اپنی ملک سعد اور صفوت غیور کی وارث پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ان کے اس ناپاک منصوبے کو خاک میں ملایا تھا۔ آج عاصم منیر اور اس کی کٹ پتلیوں نے دہشت گردی کا بہانہ استعمال کرکے اپنے ناجائز استعمار کو تقویت دینے کے لیے پولیس کو اپنی عوام کے مقابل کھڑا کر تو دیا ہے۔ مگر اس کا خمیازہ اسی پولیس کو بھگتنا پڑیگا جو ذاتی فوائد، ترقیوں اور تنخواہ کے لیے ان غیر آئینی قوتوں کی آلہ کار بن رہی ہیں۔ کل کو جب ان کے لائے ہوئے دہشت گرد آپ کو اپنی کاروائیوں کا نشانہ بنائیں گے اور عاصم منیر کی فوج ہمیشہ کیطرح آپ کو canon fodder بنائے گی، ایسے میں جب آپ کی پشت پر یہ قوم نہیں ہوگی تو آپ کو احساس ہوگا کہ آپ کی تنخواہیں اور ترقیوں کی کوئ وقعت نہیں۔ باڑہ میں نہتے مظاہرین کس بات پر احتجاج کررہے ہیں جو وہ واجب القتل ہوگئے؟ ان کا منتخب نمائندہ، تمام عمر سے محروم علاقے کا پہلا وزیر اعلی گذشتہ تین دن سے غاصبوں کے ہاتھوں لاپتہ ہے۔ اُس کا جرم اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکار۔۔
آپ میں رتی برابر غیرت ہوتی تو سوال پوچھتے، کسی کی ہمت کیسے ہوئ آپ کی عملدآری میں آ کے آپ کے چار کروڑ عوام کے چیف ایگزیکٹو کو اغوا کرنے کی؟ آپ کی آنکھوں کے سامنے اور آپ سمیت جن کو ایک نئی آگ میں جھونکنے کی سبیل کردی گئی ہے وہ اپنی زندگی کا سوال بھی نا کریں؟ خاموشی سے بے گھری، بے بسی کی موت قبول کرلیں؟
افسوس صد افسوس۔ عاصم منیر اور اس کے حواری تو اپنی طاقت کے لیے ملک کو بیچ چکے۔ آپ کا ہمارا تو جینا مرنا اس ملک کے ساتھ ہے آپ کی اس بے ضمیری کا انجام ہم نے اکیلے نہیں بھگتنا۔ مریں گے آپ بھی ہمارے ساتھ۔ جنازے آپ کے گھروں سے بھی اٹھیں گے۔ یتیم آپ کی اولادیں بھی ہونگی۔ تب اپنے افسران کا گریبان مت پکڑنا۔ خود سے سوال کرنا کہ جن پر آج بندوقیں تھامے کھڑے ہو وہ کس کے حق کا سوال کررہے تھے۔