کتنے عیش اُڑاتے ہوں گے، کتنے اِتراتے ہونگے
جانے کیسے لوگ وہ ہونگے جو اُس کو بھاتے ہونگے
یارو! کچھ تو حال سناؤ اُس کی قیامت بانہوں کا
وہ جو سمٹتے ہوں گے اُس میں وہ تو مر جاتے ہونگے
رات بیٹھا تھا مرے پاس خیالوں میں کوئی
انگلیاں پھیر رہا تھا مرے بالوں میں کوئی
دیدۂِ تر نے بڑی دیر میں پہچانا اُسے
روپ کھو بیٹھا ہے دو چار ہی سالوں میںکوئی
جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے
جب اپنی اپنی محبتوں کے عذاب جھیلے تو لوگ سمجھے
اس ایک کچی سی عمر والی کے فلسفے کو کوئی نہ سمجھا
جب اس کے کمرے سے لاش نکلی خطوط نکلے تو لوگ سمجھے