مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے فرمایا ہم ایران کے شانہ بشانہ کھڑے
یہ واضح تاریخی اور جُرّاتمندانہ موقف ایسے حالات میں دینا جس میں دنیا ایران کا نام لینے سے بھی ڈرتی ہے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا موجودہ صورتحال پر ایوان میں خطاب
پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے، ایوان کو بتایا جائے پاکستان کی اس صورتحال میں پالیسی کیا ہے؟ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، حکومت ایوان کو سیکورٹی صورتحال پر بریف کریں، قائد جمعیت کی تجویز
03-March-2026
ملتان:
سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن کا جامعہ خیر المدارس ملتان میں تحفظ مدارس دینیہ کنونشن سےخطاب
آج ہم دنیا کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ یہ ملک اسلام کے نام پر بنا ہے برصغیر کے مسلمانوں نے لاکھوں قربانیاں اسلام کے لئے دی تھیں۔ مولانا فضل الرحمن
علی گڑھ اور دیوبند میں تاریخ کے دو دھارے اپنے اپنے کردار کے ساتھ زندہ ہیں۔ مولانا فضل الرحمن
علی گڑھ نے قرآن کو اسلام کو حدیث اور فقہ کو اپنے نصاب سے خارج کیا تو دارالعلوم دیوبند نے ان علوم کے تحفظ کے لئے ان کی بقاء کے لئے انہیں نصاب کا حصہ بنایا۔ مولانا فضل الرحمن
مدرسہ اور جمعیۃ کے دو عناصر کے اجتماع سے دیوبندیت تشکیل پاتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن
ہمارے اکابر کی نظر میں اسلام کی آفاقیت و عالمگیریت کا جو تصور تھا وہ اگر آپ کے پیش نظر ہے تو آپ دیوبندی ہیں ورنہ ایک تنگ نظر ملا کے سوا کچھ نہیں ہیں۔
بین الاقوامی ایجنڈا ہے کہ مذہبی نوجوان کو مشتعل کیاجائے اور اشتعال دلاکر ان کا خاتمہ کیا جائے۔
مسلح تنظیمیں بظاہر ریاست کے دشمن ہیں لیکن اندر سے ریاستی ادارے وفاق اور جمعیۃ پر ناراض ہیں کہ انہوں نے کیسے نوجوان کو اشتعال سے بچا لیا۔
مدرسہ پر الزام ہے کہ آپ تشدد پڑھا رہے ہیں اور تشدد سے دہشت گرد پیدا ہوتے ہیں اور یہ اصطلاحات نائن الیون کے بعد پیدا ہوئی ہیں۔
مذہب سے بے نیاز ہونے اور لاتعلقی کو روشن خیالی کہا جارہا ہے۔
جبکہ اصل روشن خیالی مدرسہ اور اس کی تعلیم فراہم کرتی ہے
مدرسہ کو اصحاب کہف کی غار کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔
اسلام میں تو علوم کے جدید و قدیم اور عصری اور دینی علوم کی کوئی تقسیم نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمن
آئین اسلام کو پاکستان کا مملکتی مذہب قرار دیتا ہے۔ اور اسلامی آئین کی تشکیل کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل تشکیل دی گئی لیکن آج تک اسلامی نظریاتی کونسل کی کوئی ایک سفارش پر بھی قانون سازی نہیں ہو سکی۔
ادارے اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ فساد بھی مچاتی ہے تو معصوم جملوں کے ساتھ مچاتی ہے۔ اب کہتے ہیں کہ ہم تو مدارس کو قومی دھارے میں لانا چاہتے ہیں۔
قومی دھارے میں ہم آنے کے لئے تیار ہیں لیکن تم اسلامی دھارے میں آ جاؤ ہم قومی دھارے میں آجائیں گے۔
زنا کو آسان بنایا جاتا ہے اور نکاح کو مشکل بنایا جاتا ہے یہ ہے پاکستان کا اسلامی تصور تمہاری نظر میں۔ مولانا فضل الرحمن
مغرب کی پیروی میں قدم قدم آگے بڑھتے جارہے ہواور ہر بیہودہ عمل میں ان کی پیروی کروگے۔
اوقاف کا قانون لایا جارہا ہے جبکہ اوقاف کا پورا قانون شریعت کے ضابطوں کے خلاف ہے،
اوقاف کا یہ قانون من و عن ہندوستان میں پاس ہوچکا ہے اور اب بین الاقوامی ایجنڈے کے تحت پاکستان میں لایا جارہا ہے۔
پنجاب حکومت نے پہلے دس ہزار کا اعلان کیا جب تنقید ہوئی تو پچیس ہزار کردیا۔
سرکاری اداروں میں کام کرنے والے علماء پر کوئی اعتراض نہیں ان کی تنخواہ پر کوئی اعتراض نہیں۔
لیکن مدرسہ سرکار کا تو نہیں ہے پھر حکومت کس مد میں یہاں مدارس اور علماء کو خریدنے کی کوشش کررہی ہے۔
ڈھائی سو سال کی تاریخ ہماری پشت پر ہے اور تاریخی کردار کی روشنی میں حکمت عملی مرتب کرنا ہمارے لیے مشکل نہیں ہوتا۔
اوقاف کی زمینوں پر قبضہ کیا جارہا ہے جو مکمل شریعت کے خلاف ہے۔
بات آگے بڑھ گئی ہے اب آپ کو سڑکوں پر نکلنا ہوگا۔
ہم مدارس کے تحفظ کے لیے، علماء کے تحفظ کے لئے، دینی علوم کے تحفظ کے باہر نکلنے کے لئے تیار ہیں۔
ہمیں مجبور نہ کرو کہ ہم پورے ملک سے مارچ کرتے ہوئے اسلام آباد کی طرف روانہ ہو جائیں۔
ہمیں باہر نکلنے کے لئے کوئی وقت نہیں لگے گا صرف چوبیس گھنٹے کے اندر ہم نکل آئیں گے۔
اگر سیلاب میں قوم کے ساتھ علماء کھڑے ہیں تو پھر اقتدار بھی انہیں کا حق ہے۔
وفاق المدارس سے وابستہ مدارس ہی اصل مدارس ہیں۔ باقی ڈمی مدارس ہیں۔ حکومت انہیں تحفظ دیتی ہے دے لیکن ہم سے یہ توقع نہ رکھے۔
حکمرانوں کی اٹھکھیلیاں قوم کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
حکمران اتحاد کی نورا کشتی عوام کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے ۔
حکمران اتحاد کی آپس میں گولہ باری نمائشی ہے ۔
حکمرانوں نے سندھ اور پنجاب کا انفراسٹرکچر تباہ کر دیا ہے۔
حکمران اتحاد میں شامل پی پی اور ن لیگ آپسمیں تنقید کی بجائے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں ۔
فوٹو سیشن سے عوامی مسائل حل نہیں کئے جا سکتے ۔
لاہور:جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی اہم پریس کانفرنس
آج جو ٹرمپ اور نیتن یاہو کا اعلامیہ ہے یہ اسرائیل کی توسیع کا فارمولا تو ہوسکتا ہے لیکن فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے یا بیت المقدس کی آزادی کا فارمولا نہیں ہوسکتا۔مولانا فضل الرحمان
جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف اپنے سابقہ اور حالیہ بیانات پر خود ہی غور کرلیں کہ ان میں کتنا تضاد ہے۔ مولانا فضل الرحمان
حماس عوام کی ایک منتخب جماعت ہے لہٰذا حماس کو نظرانداز کرنے کا معنی یہ ہے کہ آپ اُن پر جبراً کوئی فیصلہ مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان
اس وقت امریکہ نے اپنی تمام گفتگو اور بیانیہ میں حماس کو لاتعلق کردیا ہے، جبکہ اصل فریق ہی حماس ہے۔مولانا فضل الرحمان
حماس کو اصل فریق تسلیم کئے بغیر کبھی بھی فلسطین کا مسئلہ حل نہیں کرسکتے۔مولانا فضل الرحمان
تعجب ہے امریکہ پر کہ کس ڈھٹائی کے ساتھ اس مجرم (نیتن یاہو) کی پشت پناہی کر رہا ہے۔مولانا فضل الرحمان
مجرم کی پشت پناہی پر آدمی خود اُس جرم میں برابر کا شریک ہوتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان
جب تک مسئلہ فلسطین کے حوالے سے فلسطینی عوام خود کوئی فیصلہ نہ کرلے تب تک زبردستی اُن پر کوئی فیصلہ مسلط نہیں کیا جاسکتا۔مولانا فضل الرحمان
اسرائیل فلسطین کا وجود تسلیم نہیں کرتا اور فلسطین اسرائیل کا وجود تسلیم نہیں کر رہا۔مولانا فضل الرحمان
ایسے میں دو ریاستی حل کسی کا مشورہ یا خواہش تو ہوسکتی ہے لیکن کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ فسلطین پر اپنی خواہش زبردستی تھونپے۔مولانا فضل الرحمان
ٹرمپ کا نیتن یاہو کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس کرنا عالمی عدالت انصاف کی توہین ہے جس عدالت نے نیتن یاہو کو مجرم قرار دیا ہے۔مولانا فضل الرحمان
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
پاکستان اور سعودیہ کے درمیان دفاعی معاہدہ
سربراہ جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی جانب سے سعودی سفیر کے اعزاز میں عشائیہ
عشائیہ میں سعودی سفیر نواف بن سعیدالمالکی، چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی کی شرکت
عشائیہ میں ڈپٹی چیئرمین سینٹ سیدآل خان ناصر ، گورنر کے پی کے فیصل کریم کنڈی کی شرکت
اسلامی بلاک روز اول سے ہمارے منشور کا حصہ ہے،مولانا فضل الرحمان
پاک سعودی معاہدہ اسلامی دنیا کی وحدت کے لئے نقطہ آغاز ثابت ہوگا،مولانا فضل الرحمان
جےیوآئی کی جانب سے مملکت سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان تاریخی معاہدے پر محترم سفیر کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں،مولانا فضل الرحمان
یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کی گہرائی میں اضافہ کرے گا،مولانا فضل الرحمان
یہ معاہدہ اجتماعی سلامتی کے ایک مضبوط ستون اور امت مسلمہ کے درمیان مطلوبہ اتحاد کی نمائندگی کرے گی،مولانا فضل الرحمان
پاکستان اور سعودی عرب میں مسلم امہ کی قیادت کی صلاحیت موجود ہے،مولانا فضل الرحمان
پاک سعودی دفاعی معاہدہ ثبوت ہے کہ امت مسلمہ کے مفادات ایک ہیں،مولانا فضل الرحمان
مملکت سعودی عرب، حرمین شریفین کی نگہبانی کے اعزاز کے ساتھ، تمام مسلمانوں کے دلوں میں ایک بلند مقام رکھتی ہے،مولانا فضل الرحمان
پاکستان کے عوام حرمین شریفین کے دفاع کو ایک عظیم اعزاز اور مقدس مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں،مولانا فضل الرحمان
یہ معاہدہ اسلامی مقدسات کے وقار اور تحفظ کی نمائندگی کرتا ہے،مولانا فضل الرحمان
یہ مبارک دور اسلامی ممالک کے درمیان قریبی تعاون کی ترغیب اور ملت اسلامیہ کی مضبوطی، یکجہتی اور اتحاد کو بحال کرنے کا محرک ثابت ہوگا،مولانا فضل الرحمان
اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ اس مبارک قدم کو برکت دے،مولانا فضل الرحمان
مملکت اور پوری اسلامی قوم کے عروج اور نشاۃ ثانیہ کا سبب بنے ،مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان کو ہمیشہ اتحاد امت کے حوالے سے فکرمند پایا ہے،سعودی سفیر
پاکستانی قوم کو اس معاہدے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،سعودی سفیر
امت مسلمہ جسد واحد ہے،سعودی سفیر
تقریب میں مولانا راشد سومرو ، مولانا سعید یوسف ، انجینئیر ضیاء الرحمان ،مولانا اسجد محمود شریک
تقریب میں سنیٹر احمد خان ، سنیٹر دلاور خان ، نور عالم خان شریک
تقریب میں مفتی اویس عزیز ، مفتی ابرار ، جلال الدین ایڈوکیٹ شریک
جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پاک سعودی دفاعی معاہدہ اسلامی بلاک بنانے کی پہلی سیڑھی ہے ، جمعیت نے ہمیشہ کہا کہ سعودیہ اور پاکستان دنیا کے امت مسلمہ کی قیادت سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ،ہم امن کیلئے میدان میں ہے اور ہر محاذ پر جے یو آئی عوام کی نمائندگی کرے گی، چاروں صوبوں میں اس طرح کے امن مارچ ہوں گے ،عوام کی سوچ اور الیکشن کا نتیجہ کچھ اور اب مزید نہیں چلے گا، ریاست کے اندر ریاست کے ہم قائل نہیں، میں صمود فوٹیلا قافلے کی بھرپور حمایت کرتا ہوں ، وہ جمعرات کو سندھ اسمبلی چورنگی پر سندھ امن مارچ کے اختتام پر ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کررہے تھے ، وہ جمعرات کو سندھ اسمبلی چورنگی پر مارچ کے اختتامی بڑے عوامی جلسے سے خطاب کررہے تھے ۔ سندھ امن مارچ 14 ستمبر کو کشمور کندھ کوٹ سے شروع ہوا تھا جو مختلف اضلاع سے ہوتا ہوا جمعرات کو کراچی پہنچا۔ شہر قائد میں ایئرپورٹ سے مولانا فضل الرحمٰن نے مارچ کی قیادت سنبھالی اور ان کی قیادت میں مارچ کے ہزاروں شرکاء سندھ اسمبلی چورنگی پر جلسہ گاہ میں پہنچے ۔
#JUISindhPeaceMarch
ہندوستان کو فتح کرنے کا سوچو، قوم آپ کے ساتھ ہے۔ اپنی ہی قوم کو فتح کرنے کا خواب چھوڑ دو، قوم آزاد ہے، خودمختار ہے۔ الیکشن میں دھاندلی نہ کرو اور نتائج تبدیل نہ کرو۔
سربراہ جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا راولپنڈی لیاقت باغ میں ختم نبوت و دفاع پاکستان کانفرنس سے خطاب
@MoulanaOfficial
جمعیۃ علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ علیمہ خان کی توہین قابل مذمت اور ناقابل برداشت عمل ہے ہمارے ہاں خواتین کی حرمت اور سماجی رواداری پر پورا معاشرتی نظام قائم ہے ،اس جارحیت سے علیمہ خان ہی متاثر نہیں ہوئی بلکہ پورے سماج کی حرمت پامال ہوئی ہے ، انہوں نے کہا جس طرح ہم نے نواز شریف پہ جوتا اچھالنے ،خواجہ آصف پہ سیاہی پھیکنے اور احسن اقبال کو گولی مارنے کی مذمت کی تھی اسی طرح علیمہ خان کی بیحرمتی بھی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان صاحب دامت برکاتہم العالیہ پوری دنیا میں اسلام پسندوں کے ہر فورم پر متفقہ نمائندہ ہیں لاکھوں علمائے کرام و صالحین طبقے کی محبوب ترین شخصیت ہیں
علی امین گنڈا پور کے تازہ ترین ہفوات و بکواسیات پر مبنی الزامات و تنقید کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں
مولانا فضل الرحمان صاحب آپ سے جب بھی کبھی کوئی بغض کا اظہار کرتا ہے ہمارے ❤️ دل آپ کی محبتوں میں مزید اِضافہ ہوتا ہے
مولانا فضل الرحمان صاحب تادیر سلامت رہیں ❤️
✍️ مفتی ابو محمد عفی عنہ
علی امین گنڈا پور مولانا فضل الرحمان کے خلاف ہرزہ سرائی کرکے اپنی نوکری پکی کرتے ہیں ۔
علی امین شہد چاٹ کر بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں۔
کے پی عوام پر عذاب سیلاب کی صورت میں نہیں بلکہ گنڈا پور کے مسلط ہونے کی صورت میں ہے ۔
متاثرین سیلاب کی آہ و بکا سے توجہ ہٹانے کیلئے ایسی باتیں کرتے ہیں ۔
عوام کو ایسے بد زبان اور بد کردار سے جان چھڑانا ہو گی ۔
علی امین پی ٹی آئی کے نہیں کسی اور کے وزیر اعلی ہیں ۔
علی امین امن وامان اور سیلاب متاثرین کے مسائل حل کریں ۔
علی امین جیسے لوگ باتوں سے نہیں لاتوں سے انسان بنتے ہیں