During the ANP tenure in government, we were establishing new universities in every corner of Pakhtunkhwa. Not a single university ever faced a financial crunch. In fact, we prioritised education above all and generously supported both new and existing institutions with full commitment.
Once a thriving sector has now been thrown to the ground. Seeing our historical and prestigious Peshawar University crippled by financial crisis, delayed salaries and teachers leaving in droves simply pains me. This is not just a governance failure, it is a direct betrayal of our future generations. Education must be rescued before it is too late.
Pakhtunkhwa is trapped in a cycle of chronic governance failures, widespread corruption, collapsing law and order, and complete neglect of public services. Sadly, the very representatives elected in the name of releasing their leader have instead turned to looting the province and chasing personal privileges, leaving the common people to suffer in silence.
جس ریاست میں خود ریاست اپنے عوام سے کیے گئے وعدوں سے منحرف ہو جائے، وہاں وہ عوام سے اپنی وفاداری، اعتماد اور احترام کی توقع کیسے رکھ سکتی ہے؟
دنیا بھر میں ریاستیں اپنے شہریوں کے ساتھ آئینی، قانونی اور سیاسی معاہدے کرتی ہیں۔ جب ریاستیں ان معاہدوں کی پاسداری کرتی ہیں تو عوام کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے، لیکن جب ریاست خود اپنے وعدوں سے پھر جائے تو عوام کے دلوں میں ریاستی اداروں کے بارے میں بداعتمادی اور بے یقینی پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے ملاکنڈ ڈویژن کے عوام پر ٹیکسوں کے نفاذ کا فیصلہ ریاست کی طرف سے اپنے تاریخی اور آئینی وعدوں سے انحراف ہے، جسے عوامی نیشنل پارٹی مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔ یہ فیصلہ صرف ایک ٹیکس نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان موجود اعتماد کو مجروح کرنے کی کوشش ہے۔
میں عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی تنظیم کو ہدایت کرتا ہوں کہ ملاکنڈ ڈویژن کی تمام سیاسی جماعتوں، وکلاء، تاجروں، سول سوسائٹی، نوجوانوں اور ہر طبقۂ فکر سے فوری رابطہ کرکے اس عوام دشمن فیصلے کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک کی تیاری شروع کرے۔ عوامی نیشنل پارٹی اس غیرمنصفانہ فیصلہ واپس لیے جانے تک ہر سطح پر سیاسی، عوامی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔
میں ملاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے حکومتی اراکین، وزراء، مشیروں اور دیگر سرکاری عہدوں پر فائز نمائندوں سے بھی پوچھتا ہوں: کیا آپ کو اپنے ہی عوام کی جیبوں پر ڈالا جانے والا یہ ڈاکہ نظر نہیں آ رہا؟ کیا آپ یہ نہیں دیکھ رہے کہ ریاست اپنے ہی کیے ہوئے وعدوں سے دستبردار ہو رہی ہے؟ اگر آج آپ خاموش رہے تو کل ملاکنڈ کے عوام کے سامنے کس اخلاقی جواز کے ساتھ ووٹ مانگنے جائیں گے؟
امید ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام اپنے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے، اور عوامی نیشنل پارٹی اس جدوجہد میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرتی رہے گی۔
The letter from Deputy Commissioner Charsadda exposes the PTI govt's criminal neglect of public health in Pakhtunkhwa.
DHQ Hospital Charsadda serves around 1 million people but has NO CT Scan, NO MRI, NO Cardiac Cath Lab, no specialized diagnostics services, no Gynecology & Obstetrics services
and 88 vacant posts. Patients are being sent to Peshawar while this hospital starves for basics.
This is not governance - this is betrayal of the people of Charsadda and entire Pakhtunkhwa.
اگر کسی کو یہ دیکھنا ہو کہ تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا کی جامعات اور تعلیمی اداروں کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے، تو گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کا حالیہ ڈگری سکینڈل ہی کافی ہے۔
تحریک انصاف کے ایک سابق وزیراعلیٰ نے ایک پرو وائس چانسلر ڈاکٹر شکیب اللہ کو 85 نمبر سے اوپر لاکر تعینات کیا(یہ موصوف سوات ویٹرنیٹی یونیورسٹی میں تعینات تھا اور ان کو سوات یونیورسٹی سے گومل یونیورسٹی اور ایگریکلچر یونیورسٹی ڈی آئی خان کا اضافی چارج بھی دیا گیا تھا)، اور انہی کے دور میں مبینہ طور پر گومل یونیورسٹی سے 500 سے زائد جعلی ڈگریاں جاری ہوئیں۔ بعد ازاں جب ایک مستقل وائس چانسلر تعینات ہوا تو اس نے اس معاملے کی انکوائری شروع کی اور تمام تر سیاسی دباؤ اور بااثر شخصیات، بشمول مینا خان، کو خاطر میں لائے بغیر سلیکشن بورڈ بھی منعقد کرایا۔ جب احتساب کا عمل آگے بڑھا تو اسی وائس چانسلر کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ جواز یہ پیش کیا گیا کہ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے انہیں جبری رخصت پر بھیجنے کی سفارش کی ہے، حالانکہ قائمہ کمیٹی کی سفارشات میں کہیں بھی ایسی کوئی ہدایت موجود نہیں۔اسی دوران یونیورسٹی میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ وائس چانسلر نے اس پر اپنی سطح پر باقاعدہ انکوائری کمیٹی تشکیل دی اور زمہ داران کو معطل کروایا، لیکن اس کے باوجود ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ایک الگ انکوائری کمیٹی قائم کر دی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کمیٹی کی سربراہی اسی شخص ڈاکٹر شکیب اللہ کے سپرد کی گئی جسے سابق وزیراعلیٰ نے پرو وائس چانسلر مقرر کیا تھا اور جس کے دورِ تعیناتی میں جعلی ڈگریوں کا سکینڈل سامنے آیا۔ اب فائرنگ کیلئے قائم کی گئی انکوائری کمیٹی جعلی ڈگریوں تک کیسی پہنچی یہ الگ داستان ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ کسی مخالف سیاسی جماعت یا کالے چینلز کی کہانی نہیں، بلکہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی اپنی سرکاری دستاویزات سے سامنے آنے والے حقائق ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر تحقیقات کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو اور الزامات کا سامنا کرنے والوں کو ہی تحقیقات کی نگرانی سونپ دی جائے، تو صوبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں شفافیت اور احتساب کی کیا امید باقی رہ جاتی ہے؟
خیبر پختونخوا کی جامعات کو سیاسی مداخلت، اقربا پروری اور انتظامی انتشار کے حوالے کرنا صوبے کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
خان رہا ہوتے ہیں یا نہیں، یہ اپنی جگہ؛ لیکن ان کے نام پر جس انداز سے اداروں کو چلایا جا رہا ہے، اس کی قیمت پورا صوبہ ادا کر رہا ہے۔ جلد یا بدیر اس حقیقت کا ادراک صرف عوام کو ہی نہیں بلکہ ان لوگوں کو بھی ہو جائے گا جنہوں نے یہ نظام قائم کیا۔
د ژوند له جنګه چې په بېرته بې منزله نه ځي
هغه سړے به څنګ له تا سره اېمله نه ځي ✊🏻
بې قربانۍ سړے منزل ته له ځنګله نه ځي 🚩
بیا يې وايم، تاسره ايمله ځو
ځو تر خپل منزله ځو
تاسره ايمله ځو ✌️
@AimalWali Zarrrrrr Sham
Dear Uncle,
Why is every major development project in Pakistan obsessively focused on Punjab? The new M-13 Kharian-Rawalpindi Motorway and billions poured into Punjab’s infrastructure, while Khyber Pakhtunkhwa and Balochistan continue to struggle with basic connectivity, crumbling roads, and economic neglect.
In any functional country, resources are collected from the more developed regions and deliberately invested in the peripheries so that backward areas can catch up and the entire nation grows together. In Pakistan, it is the exact opposite: Punjab, which is already relatively better off, is being further pampered and modernized at the direct expense of the smaller, struggling provinces.
You can never achieve lasting security and peace through force or rhetoric alone. Without economic justice and balanced development, the sense of deprivation will only deepen.
Despite falling global oil prices, the government refuses to reduce petroleum prices in Pakistan. This is nothing but sheer insensitivity and cruelty towards the people.
We demand an immediate cut in fuel prices and that the full benefit of lower international rates be passed on to the masses.
Prioritising elite interests and own luxuries over public relief is unacceptable.
I have received numerous complaints from young doctors across Pakhtunkhwa regarding serious irregularities in the recent recruitment drive.
I strongly urge the Chief Secretary to immediately suspend the entire recruitment process and thoroughly address the concerns raised by the medical community.
Medicine is a noble profession that demands the highest standards of integrity. All doctors must be appointed purely on merit. Any corruption or malpractice in the health sector is criminal, as it puts human lives at direct risk.
Honourable Minister Awais Leghari,
Pakhtunkhwa produces some of the cheapest electricity in Pakistan thanks to Tarbela, yet our people pay among the highest bills.
If AJ&K gets subsidies for Mangla Dam, why is Pakhtunkhwa denied the same for its much larger Tarbela?
Why do we still face prolonged load shedding despite our surplus contribution? Fix the line losses and upgrade the grid - don’t punish the whole province for inefficiencies.
Finally, why is Pakhtunkhwa still deprived of its rightful Net Hydel Profit share as per the AGN Kazi formula?
Imran, a resident of Timergara, Lower Dir, has reportedly been imprisoned in Muscat, Oman, for the past 17 years. According to his family, his legal case has already been concluded, yet he remains behind bars in Ismail Jail. A video shared by our journalist friend Shabir from Buner highlights the pain and anguish of his elderly parents.
Our colleagues from ANP Buner, who are currently in Oman, are actively following this case. We urge @ForeignOfficePk and @PakinOman to intervene and make every possible effort to secure his release and reunite him with his family after nearly two decades.
کیا فارم 45 اور کیا فارم 47؟ اقتدار اور پختونخوا کی بربادی کیلئے سب ایک ہیں۔
وہ صوبائی وسائل، وہ مالی خودمختاری، وہ حقوق جنہیں اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے مضبوط کیا گیا تھا، آج ایک ایک کرکے وفاق کے حوالے کئے جارہے ہیں۔
109 ارب روپے ایک ایسے صوبے کے بجٹ سے کاٹ کر وفاق کو دے دیے گئے جو پہلے ہی دہشتگردی، بدامنی اور معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ رقم دفاعی اخراجات پر خرچ ہوگی۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ اس فیصلے کا اصل اختیار کس کے پاس ہے؟ عوام اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ فیصلے کہاں ہوتے ہیں اور نامزد کردہ کردار کس کے نمائندے ہیں۔
جو لوگ خود کو وفاقی حکومت مخالف کا سب سے بڑا علمبردار کہتے تھے، آج انہی کے نامزد کردہ وزیراعلیٰ نے صوبے کے وسائل وفاق کی جھولی میں ڈال دیے۔ پختونخوا کے عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا ان کے حقوق، ان کے وسائل اور ان کی قربانیاں اسی دن کیلئے تھیں؟
ہمارے خلاف برسوں پروپیگنڈہ اسی لئے کیا جاتا رہا تاکہ قوم پرست اور حقیقی نمائندہ آوازیں اسمبلیوں سے باہر رہیں اور فیصلے وہ لوگ کرتے رہیں جو صوبے کا مقدمہ لڑنے کے بجائے خاموشی سے ہار مان لیتے ہیں۔
سوچئے، اگر یہ عوامی نیشنل پارٹی کا وزیراعلیٰ ہوتا، تو کیا پختونخوا کے وسائل اس انداز میں قربان کردیئے جاتے؟
اللہ پختونخوا کے عوام کا حامی و ناصر ہو۔