بانی چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو:
“گزشتہ سماعت پر جنگل کے بادشاہ کا نام لیا تھا تو آج عدالت میں اضافی شیشے لگا کر دیواریں بنا دی گئی ہیں،
ملک میں جنگل کا قانون ہے اور یہ سب جنگل کا بادشاہ کروا رہا ہے- جنگل کا بادشاہ چاہتا ہے تو نواز شریف کے تمام کیسز معاف ہو جاتے ہیں اور جب چاہتا ہے تو پانچ دن میں ہمیں تین - تین کیسز میں سزا دے دی جاتی ہے-
جنرل عاصم منیر میری بیوی کو سزا دلوانے میں براہ
راست ملوث ہے- جج کہتا ہے کہ میری کنپٹی پر گن رکھ کر فیصلہ کروایا گیا- اگر میری بیوی کو کچھ ہوا تو عاصم منیر کو نہیں چھوڑوں گا، جب تک زندہ ہوں عاصم منیر کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا، اس کے غیر آئینی اور غیرقانونی اقدامات کو بےنقاب کرتا رہوں گا-
آئی ایم ایف سے قرضہ لینے سے نہیں سرمایہ کاری سے معیشت مستحکم ہو گی- جنگل کے قانون کے باعث ملک میں کوئی سرمایہ کاری نہیں آئے گی- سعودی عرب کا آنا اچھی بات ہے لیکن سرمایہ کاری کے لیے ملک میں Rule of Law ہونا لازم ہے-
بہاول نگر میں قانون توڑ کر پولیس کو پھینٹا لگایا گیا، لیکن ہمارے لوگوں پر ظلم کرنے والے آئی جی اور وائسرائے نے پھینٹی لگانے والوں سے ہی معافی مانگ لی،
وائسرائے نے کہا کہ “یہ ہمارے بھائی ہیں”،
ایسا سلوک بھائیوں سے نہیں غلاموں سے کیا جاتا ہے،طاقتور نے پھینٹا بھی لگوایا اور معافی بھی منگوائی-
ہمارے لوگوں کو ضمنی الیکشن میں بھی روکا جا رہا
ہے-اس وقت ظلم کے سامنے کھڑا ہونا جہاد ہے- ہمارے کارکنان نے ایک ایک ووٹ کی حفاظت کرنی ہے، ووٹ پر پہرہ دینا ہے-“
ایک پریذائیڈنگ آفیسر کا میسج آیا کہ میرے لیے بہت تکلیف دہ تھا کہ جس کا رزلٹ ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اور وہ بھاری مارجن سے ہارا ہوا تھا، وہ اللہ کے ننانوے ناموں کے نیچے کھڑا جیت کا حلف لے رہا تھا
ایک اور آڈیو لیک
ہمیں بھی مینڈیٹ دلا دیا گیا جیسے اوروں کو دلایا۔ ہمارا 100 فیصد مینڈیٹ جعلی ہے جبکہ باقی جن کو دوسرے تیسرے دن مینڈیٹ دلایا گیا انکا 200 فیصد جعلی ہے۔ کامران ٹیسوری
عمران خان کہتے تھے میں تبدیلی لاؤں گا۔۔۔
اس وقت، جماعت اسلامی ، تحریک لبیک سمیت دیگر پارٹیاں بھی مل کر اپنے اپنے حلقوں سے PTI کے حمایت یافتہ رکن کے جیت کا اعلان کر رہی ہیں۔۔
یہی تو انقلاب ہے۔۔
وتعز من تشأ وتذل من تشآ
عمران خان کو گرانے کے لیے اکٹھے کیے گئے جہانگیر ترین، پرویز خٹک، علیم خان، محمود خان، کیانی جیسے تمام کردار اپنے بدترین سیاسی انجام کو پہنچے