ایک لڑکی کی شادی کے بعد اُس کا باپ ہر اتوار فون کرتا، ”بیٹا، گھر میں کوئی چیز خراب تو نہیں؟ نل، پنکھا، کوئی بلب؟ بتا دینا، آ کر ٹھیک کر دوں گا۔“ بیٹی ہنس کر کہتی، ”ابّا، آپ بھی کمال کرتے ہیں، یہاں سب ٹھیک ہے، آپ آرام کیا کریں۔“ باپ کہتا، ”اچھا، خوش رہو، بس ایسے ہی پوچھ رہا تھا۔“ ایک دن وہ بغیر بتائے آ گیا، ہاتھ میں اوزاروں کا پرانا سا تھیلا تھا۔ بیٹی نے دروازہ کھولا تو حیران ہو کر بولی، ”ابّا، کوئی کام تھا؟“ اُس نے تھیلا ذرا اوپر اٹھایا، ”سوچا، تمہاری الماری کا دروازہ دیکھ لوں، پچھلی بار آواز کر رہا تھا۔“ بیٹی نے کہا، ”وہ تو ٹھیک کروا لیا تھا، آپ پہلے فون کر لیتے، میں ابھی باہر جانے لگی ہوں۔“ باپ فوراً پیچھے ہٹ گیا، ”کوئی بات نہیں، تم جاؤ، میں پھر آ جاؤں گا۔“ اُس نے باپ کو جاتے دیکھا، قدم پہلے سے آہستہ تھے، اور وہی تھیلا ہاتھ میں تھا جسے بچپن میں وہ خوشی خوشی اٹھا کر اُن کے پیچھے چلتی تھی۔ اُس شام بیٹی نے ماں کو فون کیا اور ہنستے ہوئے کہا، ”ابّا کو ہر وقت کچھ نہ کچھ ٹھیک کرنے کی پڑی رہتی ہے!“ ماں چند لمحے خاموش رہی، پھر بولی، ”بیٹا، اُنہیں معلوم ہے تمہارے گھر میں سب ٹھیک ہے۔ بس تمہارے جانے کے بعد یہاں بہت خاموشی ہو گئی ہے۔ کہتے ہیں، ایسے ہی بار بار جاؤں گا تو بچی کو تنگ کروں گا، کوئی کام ہوگا تو تھوڑی دیر اُس کے پاس بیٹھ بھی لوں گا۔“ بیٹی کے ہاتھ سے چابی میز پر گر گئی۔ اُس نے فوراً باپ کو فون کیا، ”ابّا، کل آ سکتے ہیں؟“ باپ نے پوچھا، ”کیا خراب ہو گیا؟“ بیٹی کی آواز بھر آئی، ”کچھ بھی نہیں، آپ بس آئیں، مجھے آپ کے ساتھ چائے پینی ہے۔ اور اوزار مت لائیے گا، آپ کو آنے کے لیے کسی کام کی ضرورت نہیں۔“ اگلے دن باپ آیا تو ہاتھ خالی تھے۔ دروازے پر کھڑے ہو کر بولا، ”کچھ لانا تو نہیں تھا؟“ بیٹی نے اُن کا ہاتھ تھام لیا، ”نہیں ابّا، آپ آ گئے، یہی چاہیے تھا۔“ نصیحت یہ ہے، ماں باپ کو یہ احساس مت ہونے دو کہ تمہارے پاس آنے کے لیے اُنہیں پہلے اپنی کوئی ضرورت ثابت کرنی ہوگی۔ کبھی خود فون کر کے کہو، ”کوئی کام نہیں، بس آپ کی یاد آ رہی تھی۔“ جنہوں نے بچپن میں تمہیں بلاوجہ گلے لگایا تھا، اُنہیں بڑھاپے میں تمہارے پاس بیٹھنے کے لیے بہانہ نہ ڈھونڈنا پڑے۔