الحمدللہ ایران امریکا جنگ رکوانے میں پاکستانی قیادت کواللہ تعالی نے انتہائی نازک اور متوازن کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی اسکی وجہ سے دنیا بھر میں ملک کا وقار غیر معمولی طورپر بلند ھوا اور کل جو مذاکرات ھونے والے ھیں انکی کامیابی پر عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کا مفاد وابستہ ہے وزیر اعظم نے اس موقع پر عوام سے دعا کی جو اپیل کی ہے وہ بروقت ہے سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے ھاتھ میں ہے اس لئے ھم سب کو دعا میں مصروف رھنا چاھئے خاص طورپر جو حضرات كرسکیں وہ اس دعائے مسنون کااھتمام فرمائیں:
اللهم انصرنا ولا تنصر علینا وامکر لنا ولا تمکر علینا واھدنا ویسر الھدی لنا واحسن عاقبتنا فی الامور کلھا واجرنا من خزی الدنیا وعذاب الآخرة آمین
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سردارا
ایک وقت تھا جب اسی پاکستان کے بارے میں طنز کیا جاتا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ اس کے ٹینکوں میں تیل نہیں، اس کے خزانے میں ڈالر نہیں، اور یہ اپنے دشمن کے سامنے زیادہ دیر کھڑا نہیں رہ سکتا۔ تجزیہ نگار، دانشور، اور بیرونی دنیا سب ایک ہی کہانی دہراتے تھے: پاکستان ایک کمزور ریاست ہے، جو صرف نام کی طاقت رکھتی ہے۔
لیکن آج منظر بدل چکا ہے۔
آج وہی پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک ایسی حقیقت بن کر ابھرا ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ وہی ملک، جسے کبھی معاشی اور عسکری کمزوری کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج عالمی طاقتوں کو اپنی طرف دیکھنے پر مجبور کر رہا ہے۔ اب بات صرف وسائل کی نہیں رہی، بات صرف اسلحے کی نہیں رہی—بات ایک قوم کے وقار کی ہے، اس کے عزم کی ہے، اور اس کی شناخت کی ہے۔
تو سوال یہ ہے کہ یہ تبدیلی آئی کیسے؟
فرق صرف ایک ہے… نظریاتی کلیرٹی۔
یہ پاکستان، وہ پاکستان نہیں جو محض جغرافیہ تھا، جو دوسروں کی نقل میں اپنی پہچان کھو رہا تھا، جو سیکولر نعروں کے شور میں اپنی اصل سے دور ہو رہا تھا۔ یہ پاکستان ایک واضح سمت رکھتا ہے، ایک مقصد رکھتا ہے، ایک نظریہ رکھتا ہے۔ یہ پاکستان، نظریۂ پاکستان کے ساتھ ہم آہنگ پاکستان ہے۔
جب قومیں اپنے نظریے سے جڑ جاتی ہیں تو ان کے وسائل محدود نہیں رہتے، ان کی طاقت صرف ہتھیاروں میں نہیں رہتی بلکہ ان کے ارادوں میں منتقل ہو جاتی ہے۔ اور جب ارادے مضبوط ہوں، تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی احترام کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
ذرا تصور کیجیے…
اگر یہی پاکستان مکمل طور پر اپنے نظریے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے، اگر اس کی سیاست، معیشت، تعلیم، اور معاشرت سب اسی بنیاد پر استوار ہو جائیں تو پھر یہ ملک صرف ایک ریاست نہیں رہے گا، بلکہ دنیا کے افق پر ایک روشن ستارے کی طرح ابھرے گا۔
وہ ستارہ جس کی روشنی صرف اپنے لوگوں کو نہیں، بلکہ پوری دنیا کو راستہ دکھائے گا۔
طاقت صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ نظریے سے آتی ہے!
حوثیوں کی طرف سے اسرائیل پر دوسرا حملہ۔
امریکی افواج بڑی تعداد میں ایران کے گرد و نواح میں اکٹھی ہوگئیں۔
اسلام آباد میں عالمِ اسلام کی اہم اور مؤثر شخصیات کی آمد کا سلسلہ جاری۔
دنیا کی آنکھیں اس وقت اسلام آباد پر لگی ہوئی ہیں۔ اللہ نے عزت دی، وہی لاج بھی رکھے گا۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے ایران کو 15 نکاتی جنگ بندی معاہدہ پیش کر دیا۔
ایران کے عسکری ترجمان نے جواباً کہا کہ شکست کو معاہدہ مت کہو!
دلچسپ بات یہ ہے کہ اب امریکہ خود پاکستان سے سفارشیں کروا رہا ہے۔ 🙂
عید کے موقع پر چنددن کے لئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی اچھی خبر ہے لیکن دعا یہ ہے کہ اس وقفے کو سنجیدگی اخلاص اور عدل وانصاف کے ساتھ تنازعے کا مستقل اور پائیدار حل نکالنے کے لئے استعمال کیا جائے دونوں طرف اخلاص اور اسلامی اصولوں کا پاس ھو تو یہ مسئلہ ناقابل حل نہیں ہے خداکرے کہ ان بنیادوں پر یہ جنگ بندی مستقل ھوجائے اور سالوں سے بےگناہ مسلمانوں کا جو خون بہا جاتا رہاہے اسکا باھمی اتفاق سے سد باب ھو سکے
انا للہ واناالیہ راجعون حضرت مولانا مفتی مختار الدین صاحب رحمة الله عليه كى وفات ملك وملت كے لئے انتہائی افسوسناک خبر ہے ھم ملت کے ایک عظیم خیر خواہ اور روحانی پیشوا سے محروم ھوگئے لیکن انہوں نے جن دلوں میں تقویٰ طہارت اور تزکیہ کی آبیاری کی وہ انکا صدقہ جاریہ ہے جو ان شاء اللہ تعالی باقی رھیگا اللہ تعالی انکو درجات عالیہ عطا فرمائیں اور پسماندگان کو صبر جمیل اور اجر جزیل سے نوازیں آمین
Congratulations!
@muftishamail saheb
Allah has truly chosen you for His work. I’m grateful to have you as brother, a friend, a teacher, and even a gym partner. Having known you closely, I can say with conviction that you are truly among the chosen ones. Feeling so so so proud.
خراجِ عقیدت
پیر ذوالفقار احمد نقشبندی | ایک انجینئر، ایک مفکر۔
کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں ایک ہی عنوان میں قید کرنا ناانصافی ہوتی ہے۔ پیر ذوالفقار احمد نقشبندیؒ بھی انہی میں سے تھے۔
عوام انہیں ایک صوفی بزرگ، ایک روحانی رہنما اور ایک مصلح کے طور پر جانتے ہیں۔ لیکن اس شناخت کے پیچھے ایک اور پہلو بھی تھا۔ وہ ایک تربیت یافتہ انجینئر، ایک منطقی ذہن، اور ایک جدید تعلیم یافتہ مسلمان۔
انہوں نے جامعہ برائے انجینئرنگ و ٹیکنالوجی (UET) لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔
یہ وہ دور تھا جب انجینئرنگ محض ڈگری نہیں بلکہ ایک سخت فکری تربیت سمجھی جاتی تھی جہاں تجزیہ، نظم، حساب، اور علت و معلول کی دنیا انسان کو سوچنا سکھاتی ہے۔
انہوں نے عملی زندگی میں بطور انجینئر کام بھی کیا،
لیکن پھر ایک ایسا فیصلہ کیا جو ہر شخص نہیں کر پاتا۔ انہوں نے دنیاوی کامیابی اور پیشہ ورانہ آسائشوں کو ترک کر کے اپنی زندگی کو علمِ دین، تزکیۂ نفس اور انسانی اصلاح کے لیے وقف کر دیا۔
یہ فیصلہ کسی جذباتی کیفیت کا نتیجہ نہیں تھا،
بلکہ ایک سوچا سمجھا، نپا تلا اور باخبر انتخاب تھا
بالکل ایک انجینئر کے فیصلے کی طرح۔
پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کی یہی خصوصیت انہیں منفرد بناتی ہے۔ وہ جدید علم اور روحانیت کے درمیان کوئی تصادم نہیں دیکھتے تھے۔ ان کے نزدیک عقل اور وحی، سائنس اور دین، ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک ہی سچ کے دو راستے تھے۔ میں خود اسلامک احیاء کا قائل ہوں اور سمجھتا ہوں کہ یہ سائنس کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لئیے ایسے بزرگوں کا میرے دل میں خاص مقام ہے۔
آج ان کے دنیا سے رخصت ہونے پر
ہم صرف ایک صوفی بزرگ کو نہیں کھو رہے،
ہم ایک ایسے شخص کو کھو رہے ہیں جو اس بات کی زندہ مثال تھا کہ اعلیٰ تعلیم، سائنسی ذہن اور روحانی گہرائی ایک ہی وجود میں جمع ہو سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، اور ہمیں یہ سمجھ عطا فرمائے کہ دین کا راستہ جہالت سے نہیں۔
اسلام میں کوئی بھی شخص چاھے وہ کتنے بڑے عہدے پر ھو کسی بھی وقت عدالتی کارروائی سے بالاتر نہیں ھو سکتا خلفاء راشدین کی مثالیں سب کو معلوم ہیں ہمارے دستور میں پہلے بھی صدر کو صدارت کے دوران تحفظ دیاگیاتھا جو اسلام کے خلاف تھا اب تاحیات کسی کو یہ تحفظ دینا شریعت اور آئین کی روح کے بالکل خلاف ہے جو ملک کے لئے نہایت شرمناک ھوگا اللہ تعالیٰ ملک کو اس بے عزتی سے بچائیں آمین پارلیمنٹ کے ارکان سے دردمندانہ درخواست ہے کہ وہ یہ گناہ اپنے سر نہ لیں
اسپین اور اٹلی نے صمود فلوٹیلا کی ہمراہی کے لئے جہاز اس لئے بھیجے ہیں تاکہ قافلے والوں پر حملہ ھوا تو ھنگامی صورت حال میں متاثرین کو امداد پہنچاسکیں کیا مسلمان ملک انسان دوستی کا یہ ادنی مظاہرہ کرنے سے بھی قاصر ہیں؟