ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو 14 ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے کہ انہیں بے بنیاد الزامات کے تحت اور غیر قانونی طور پر جیل میں قید رکھا گیا ہے
ثبوتوں کی عدم موجودگی کے باوجود انہیں قید، ہراسانی اور جیل کے اندر ذہنی اذیت کا سامنا ہے
#EndUnfairTrialOfBYCLeaders
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے بلوچستان میں حقوق کی بحالی اور مظلوموں کی آواز بن کر پرامن جدوجہد کی ایک نئی اور تاریخی مثال قائم کی ہے۔ اس تحریک کی سب سے بڑی طاقت عوام کا بے مثال اتحاد، نوجوانوں کا جذبہ اور خواتین کی بے خوف قیادت ہے، جس نے ہر کٹھن موڑ پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔
آج BYC کی قیادت کو قید و بند کی صعوبتوں اور شدید مظالم کا سامنا ہے۔ اسیر رہنماؤں کو بنیادی انسانی حقوق اور طبی سہولیات سے محروم رکھ کر ذہنی و جسمانی اذیتیں دی جا رہی ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ موجودہ عدالتی نظام، ججز اور انتظامیہ بھی اس ناانصافی میں برابر کے شریک نظر آتے ہیں۔ عدالتوں کا منفی رویہ اور جانبدارانہ کردار ان کے کیسز کو مزید طول دے رہا ہے، جہاں قیدیوں کو ایک منصفانہ ٹرائل (Fair Trial) اور دفاع کا بنیادی قانونی حق تک نہیں دیا جا رہا۔ حکومت اور عدلیہ کا یہ گٹھ جوڑ قانون کی بالادستی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
جبر اور ان تمام مصلحت پسندیوں کے باوجود، BYC نے ہمیشہ قانون اور امن کا راستہ اپنا کر مظلوم خاندانوں کے زخموں پر مرہم رکھا ہے اور ان کے جائز مطالبات کو بین الاقوامی سطح پر روشناس کروایا ہے۔ یہ کمیٹی محض ایک تنظیم نہیں، بلکہ بلوچ عوام کے حقوق، وقار اور انصاف کی علامت بن چکی ہے۔
#EndUnfairTrialOfBYCLeaders
فیس لیس ٹرائل: عدالت، شفافیت اور انصاف کا سوال
اختلافِ رائے کو جرم قرار دینا اور سیاسی جدوجہد کو مقدمات کی نذر کرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاست تنقیدی آوازوں کا جواب مکالمے، سیاسی عمل اور جمہوری ذرائع سے دینے کے بجائے قانونی جبر اور عدالتی ہتھکنڈوں کے ذریعے دینا چاہتی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کے ساتھ روا رکھا جانے والا طرزِ عمل ایک تشویشناک حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے، جہاں قانونی اور عدالتی طریقۂ کار کو ��ار بار تبدیل کرکے شفافیت، جوابدہی اور بنیادی حقوق کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انتظامی حراست، متعدد مقدمات کا اندراج، مسلسل جسمانی ریمانڈ، جیل ٹرائل اور اب فیس لیس ٹرائل جیسے اقدامات اس تاثر کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ قانون کو انصاف کی فراہمی کے بجائے سیاسی اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
پرامن ��یاسی کارکن کسی ریاست کے دشمن نہیں ہوتے۔ انہیں اپنے خیالات، مطالبات اور سیاسی مؤقف کے اظہار کا حق حاصل ہے، جو ہر مہذب معاشرے اور جمہوری نظام کا بنیادی اصول ہے۔ ایسے کارکنوں کے خلاف قانونی کارروائیوں کو اس انداز میں چلانا کہ عوامی نگرانی، میڈیا کی رسائی اور عدالتی شفافیت محدود ہو جائے، انصاف کے بنیادی تقاضوں سے انحراف کے مترادف ہے۔
منصفانہ ٹرائل کا تقاضا ہے کہ مقدمات کھلی عدالتوں میں چلائے جائیں، ملزمان کو اپنے وکلاء تک مکمل رسائی حاصل ہو، عدالتی کارروائی عوامی نگرانی میں ہو اور ہر فریق کو اپنے مؤقف کے اظہار کا مساوی حق دیا جائے۔ جب مقدمات کو جیل کی دیواروں کے پیچھے یا فیس لیس عدالتوں کے ذریعے چلایا جاتا ہے تو یہ خدشات مزید گہرے ہو جاتے ہیں کہ قانونی نظام کو انصاف کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
پرامن سیاسی کارکنوں کے خلاف ریاستی طاقت اور قانونی ہتھکنڈوں کا استعمال کوئی نئی بات نہیں۔ تاہم تاریخ گواہ ہے کہ جبر، قید، مقدمات اور پابندیاں عوامی شعور اور سیاسی نظریات کو ختم نہیں کر سکتیں۔ آوازوں کو دبایا جا سکتا ہے�� مگر حق، انصاف اور سیاسی حقوق کے مطالبات کو ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی کارکنوں اور قیدیوں کو آئین اور قانون کے مطابق منصفانہ ٹرائل کا حق دیا جائے، مقدمات کو کھلی عدالتوں میں منتقل کیا جائے، عدالتی شفافیت کو یقینی بنایا جائے، اور قانون کو سیاسی انتقام یا اختلافی آوازوں کو دبانے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
#EndUnfairTrialOFBYCLeaders
For more than 14 months, the leaders of the Baloch Yakjehti Committee (BYC) have remained imprisoned while their cases have been repeatedly delayed and shifted from open courts to jail premises and now to faceless proceedings.
#EndUnfairTrialOfBYCLeaders
14 Months in State custody. No charges proven, yet no freedom granted.
They endured remand, isolation and shifting courtrooms, from open hearings to faceless proceedings.
This is not the course of law. This is the weight of power.
#EndUnfairTrialOfBYCLeaders
یہیں بچے کل اگر سڑکوں لر نکل کر نعرے لگائیں تو حیران مت ہونا ،کیونکہ جہاں ظلم برقرار ہو وہاں مزاحمت بھی فرض بن جاتی ہے۔ یہیں آہیں اور سسکار کل کو تمہیں رلائیں گی ،ظلم خود بغاوت کو جنم دیتی ہے،ظالم پاکستان ریاست اس بات کو یاد رکھے۔
#بلوچستان