عمران خان بانی پی ٹی آئی کو جیل میں قید ہوئے تین سال ہو گئے ہیں عمران خان کی ہدایت پرمحمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر،راجہ ناصر عباس کو سینٹ میں اپوزیشن لیڈر بنایا، سہیل آفریدی کوکے پی کے کا وزیراعلی بنایا گیا۔پانچ اگست کو مختصر احتجاج کی کال۔کیا اس کال سے کپتان کی پارٹی اور بہنوں سےملاقات ہو جائےگی؟
اللہ پاک ہمارے کپتان عمران خان صاب کی مشکلات جلد ختم کرے اور انہیں رہا کرے آمین
آصف کے والد ضیاء الحق کے جوتے پالش کرتے تھے، مگر خواجہ آصف نے تو خدمت میں باپ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ہر طاقتور کےجوتے چمکانے ہیں کسی طرح وزیراعظم بن جاؤں!جاوید ہاشمی۔
مخدوم جاوید ہاشمی کی بیٹی بار بار پوچھ رہی ہے: گناہ بتائیں، وجہ بتائیں، قصور بتائیں!یہ خاتون مریم نواز کے انکل کی بیٹی ہے اور انکی ماتحت پولیس کیسے دندناتی پھر رہی ہے، چادر چار دیواری کی تقدس پامال ہورہا ہے، مریم نواز کی ریڈ لائن خواتین کو ہراساں کیا جا رہا ہے!کہاں ہے خواجہ سعد رفیق اور عابد شیر علی،، جو جاوید ہاشمی کو استاد کا درجہ دیتے تھے۔۔ شاکر محمود اعوان
@ShakirAwan88
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
”آزاد جموں کشمیر میں عوام کی طرف سے جائز حقوق کیلئے مزاحمت جاری ہے، پیپلزپارٹی اب اپوزیشن بننے کا ڈھونگ رچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بلاول زرداری کو لگتا ہے کہ کشمیری عوام کی آنکھوں میں وہ دھول جھونک کر کشمیریوں سے ووٹ لے لے گا؟ وفاق میں یہ خود حکومت کا حصہ ہیں، ہر ترمیم اور ہر بل میں حکومت کے ساتھ ہوتے ہیں اور انتخابات میں اپوزیشن بننے کی کوشش کرتے ہیں۔“ عمران ریاض خان
ایک فوج کے ساتھ عوام نہیں ہو تو کیسی لگتی ہے؟
زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، مثال شاید آپ کے آس پاس ہی موجود ہو!
جہاں دیکھو انہی پر تنقید ہورہی ہوتی ہے! اپنے پالے ہوئے ٹاؤٹ (مولانا جیسے) بھی اب تو اپنے آپ کو ریلیوینٹ کرنے کے لیے فوج پر تنقید کر رہے ہیں۔
عوام اب اصلی اور نقلی کا فرق جانتی ہے مگر یہ بات پھر بھی پاکستان کے لیے پریشان کن ہے کہ فوج کی تنقید سے عوام میں پزیرائی ملتی ہے آج کل!
اس کا زمہ دار ادارے کا سربراہ اور تمام گولی چلانے والے اور ظلم کرنے والے ہیں! اس کے علاوہ وہ ساتھ لاکھ سپاہی بھی ہیں جو سوال نہیں اٹھاتے اور بس چپ چاپ پاکستان کو برباد ہوتا اور ادارے کی ساکھ کو تباہ ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ کسی کے خاندان کو اجار کر اپنا گھر چلانے والے کبھی چین میں زندگی نہیں گزارا کرتے۔
ان سب کو اللہ سے اور عوام سے معافی مانگنی چاہیے اور پاکستان کو عوام کی مرضی سے چلنے دینا چاہیے۔ یہ ملک ہم سب کا ہے، مشکل سوال پوچھیں کہ کب تک انا اور ضد میں ملک کو تباہ ہوتا دیکھنے کا ارادہ ہے۔ یہ وقت تو گزر جائے گا مگر لوگ ادارے کے ہر فرد سے سوال کریں گے کہ جب ظلم ہورہا تھا تو آپ کیا کر رہے تھے۔
بلوچستان کے حالات دیکھ کر ہر آنکھ اشک بار ہے۔ یہ تو ایک SHO کی مار نہیں تھے؟
عاصم منیر صاحب، آپ کو بھی اپنی تقریریں بھول گئیں؟
بلوچستان، آزاد کشمیر اور پختونخوا کے حالات کی ذمہ داری عاصم منیر پر ہے۔
جلد آپ پاکستان کی عوام کے آگے، ان کے ووٹ کے آگے سرنڈر کریں گے! باقی ڈکٹیٹروں کی طرح آپ بھی صدر بننا تو چاہتے ہیں، آپ کے نہ بننے کا افسوس رہے گا۔
attention, about turn quick march, go back' to your barracks and never come again'
مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست اور JUI سے اگرچہ میرا کوئی تعلق نہیں، مگر جو بات انہوں نے کی ہے،
بات تو سچ ہے، مگر بات ہے رسوائی کی۔
فوج کے جوانوں کو میں شہید سمجھتا ہوں، لیکن طالبان کیا اسی فوج نے نہیں بنائے؟ تحریکِ لبیک، جن کو یہ آج دہشت گرد کہتے ہیں، کس نے بنائی؟ کیا ایک فوجی فیض آباد میں سرِعام پیسے نہیں بانٹ رہا تھا؟ کیا یہی فوج امریکا کے لیے جنگیں نہیں لڑتی رہی؟
جرنیلوں نے ان سپاہیوں کا استعمال پریشر الیکشنز میں دھاندلی، چلتی حکومتوں کا تختہ الٹنے کے لیے کیا۔
اس فوج کو فوج رہنے دیں، کرائے کی فوج نہ بنائیں۔
جرنیلوں تم آؤ گے
اپنی گودڑی اٹھاؤ گے اور چلے جاؤ گے۔ تمہاری نظر اسلام آباد کے ایک ایک سیکٹر پر ہے، تم مونال پر قبضہ چاہتے ہو، تم پورے پاکستان پر قابض ہو۔ مگر یاد رکھو، اقتدار ہمیشہ کے لیے کسی کے پاس نہیں رہتا۔ اس ملک کا اصل مالک عوام ہے، نہ کہ بندوق کے زور پر فیصلے کرنے والے جرنیل۔
تمہاری حکومت اتنی کمزور ہے کہ تم مولانا فضل الرحمٰن کو گرفتار نہیں کر سکتے، اور نہ اکیلے جاوید ہاشمی کو خاموش کرا سکتے ہو۔ مولانا کے لاکھوں پیروکار ہیں، مگر اصل طاقت عوام کی ہے۔
آج میں آپ کو دو کہانیاں سناتا ہوں، جو ہمارے جرنیلوں اور آج کے ملکی حالات کی عکاسی کرتی ہیں۔
پہلی کہانی
آپ کو محمد شاہ رنگیلا اور سائرہ تو یاد ہوگی
ایک وقت تھا جب محمد شاہ رنگیلا دہلی پر حکومت کرتا تھا۔ اسے شراب و شباب سے فرصت نہ تھی۔ نادر شاہ نے دہلی پر حملہ کیا، قتلِ عام کیا، شہر اجاڑ دیا۔ جب محمد شاہ کو بتایا جاتا کہ نادر شاہ دہلی میں داخل ہو چکا ہے تو وہ بے پروائی سے کہتا: “کوئی ایک آدھا شہر لے جائے گا تو کیا ہو جائے گا؟” اور پھر اپنی طوائف سائرہ کی طرف اشارہ کر کے کہتا: “سائراں دے، جھوٹا!” مطلب سائرہ جھولاجھلاتی رہو!
آخرکار نادر شاہ اس تک پہنچ گیا، مگر کہا: “میں تمہیں اپنا بھائی بناتا ہوں، حکومت نہیں لوں گا۔” محمد شاہ کوہِ نور اپنی پگڑی میں چھپا چکا تھا۔ نادر شاہ نے کہا: “ہمارا دستور ہے کہ بھائی بنتے وقت پگڑی بدلی جاتی ہے۔” پگڑی بدلی گئی، اور کوہِ نور بھی چلا گیا۔
دوسری کہانی
ایک ملک میں نیا بادشاہ بنانا تھا۔ لوگوں نے فیصلہ کیا کہ صبح جو پہلا آدمی سامنے آئے گا، اسے بادشاہ بنا دیں گے۔ ایک شخص گودڑی اٹھائے آ رہا تھا، اسے بادشاہ بنا دیا گیا۔
وہ ہر مسئلے کا ایک ہی جواب دیتا: “پکاؤ حلوہ!”
ملک پر حملہ ہوا، تب بھی اس نے کہا: “پکاؤ حلوہ!” وہ کہتا تھا: “تم نہیں جانتے میری گودڑی میں کیا ہے۔” جب دشمن اس تک پہنچ گیا تو اس نے کہا: “میں تو حلوہ کھانے آیا تھا، لوگوں نے مجھے بادشاہ بنا دیا۔” اس نے حلوہ کھایا، اپنی گودڑی اٹھائی اور چلتا بنا۔
جب مشرقی پاکستان میں جنگ چھڑی تو یحییٰ خان کا طرزِ عمل بھی کچھ ایسا ہی تھا۔
آج بھی ہمارے جرنیل اسی ذہنیت کے اسیر دکھائی دیتے ہیں۔ اقتدار آتا ہے، وسائل پر قبضہ ہوتا ہے، حلوہ تقسیم ہوتا ہے، اور پھر گودڑی اٹھا کر رخصت ہو جاتے ہیں۔ نقصان مگر پاکستان کا ہوتا ہے، قیمت عوام ادا کرتے ہیں، اور تاریخ نئے ناموں کے ساتھ پرانی غلطیاں دہراتی رہتی ہے۔ اپنا حلوہ کھاؤ گے اور بھاگ جاؤگے!
آج مخدوم جاوید ہاشمی کی 79 سالگرہ ہے۔ فوجوئیوں نے ان کے گھر پر قبضہ کر کے اور انکی بیٹیوں نواسی اور اہلیہ کو محاصرے میں لے کر سالگرہ کا تحفہ دے دیا ہے۔
دوپہر کو رینجرز کے زیر سایہ مخدوم جاوید ہاشمی کے گھر کے میٹر اور ٹرانسفارمرز لے جا کر اندھیرا کر کر رات 12:30 سے ان کے گھر کو قبضے میں لے لیا ہے۔ صدیوں سے با پردہ گھر کی خواتین کے بیڈ روموں میں گھس چکے ہیں۔
مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے
میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے!
مولانا کو بھی آج ضرور سمجھ آئی ہوگی کہ عدت میں نکاح کیس کس قدر گھٹیا تھا، اور اس پر خاموشی اس سے بھی زیادہ گھٹیا تھی۔ باری باری، سب کی باری۔ فریال گل عباسی
#pakistan@FaryalGulAbbas2
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
مولانا صاحب کو فوراً اسٹیبلشمنٹ سے بھیک میں ملی قومی صوبائی و اسمبلیوں، سینیٹ اور مخصوص جعلی نشستوں سے استعفیٰ دے کر اسلام کی خاطر انقلاب کا نعرہ بلند کرنا چاہیے۔