ساری دنیا کے رواجوں سے بغاوت کی تھی
تم کو یاد ہے جب میں نے محبت کی تھی
اُسے راز داں سمجھ کر بتایا تھا حالِ دل اپنا
پھر اس شخص نے مجھ سے عداوت کی تھی
جب تیری یادوں نے آنکھوں کو بھگویا تھا
میں نے اک نام کی تسبیح پہ تلاوت کی تھی
اس کو چھوڑ کر ہنستے ہوئے گھر آ کر
ساری دنیا کے رواجوں سے بغاوت کی تھی
تم کو یاد ہے جب میں نے محبت کی تھی
اُسے راز داں سمجھ کر بتایا تھا حالِ دل اپنا
پھر اس شخص نے مجھ سے عداوت کی تھی
جب تیری یادوں نے آنکھوں کو بھگویا تھا
میں نے اک نام کی تسبیح پہ تلاوت کی تھی
اس کو چھوڑ کر ہنستے ہوئے گھر آ کر
میں اسے کیوں بتاؤں
میں نے اسے کتنا چاہا
بتایا جھوٹ جاتا ہے
کہ سچی بات کی خوشبو
تو خود محسوس ہوتی ہے
میری باتیں میری سوچیں
اسے خود جان جانے دو
ابھی کچھ دن مجھے
میری محبت آزمانے دو
🖤🖤🖤🖤