رشتوں میں سب سے بہتر رشتہ میرے نزدیک مخلصی اور عزت کا رشتہ ہے، یعنی ذاتی مفاد سے ہٹ کر صرف اپنائیت کا احساس ہونا
زندگی آپ کو بہت کم ایسے لوگوں سے ملواتی ہے کہ جو آپکے ساتھ بغیر کسی مفاد اور لالچ کے ہوتے ہیں. ایسے لوگوں کے قدر کریں ....
قول و فعل میں تضاد کسے کہتے ہیں ...
اگر اس چیز کی سادہ تعریف کوئی پوچھے، تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ جس شخص کی باتوں اور عمل میں فرق پایا جائے، وہ شخص قول و فعل کے تضاد کا شکار ہوتا ہے
مطلب - جو شخص کہتا کچھ ہو اور عملی معاملے میں اس کے کام دھام یا حرکات اس کی باتوں سے میل ��ہ کھا رہے ہوں
اب اس چیز کو سوشل میڈیا پر رکھ کر بات کرتے ہیں ...
* صبح صبح جو پہلی یا دوسری پوسٹ سوشل میڈیا پر لوگوں کی اکثریت کرتی ہے، وہ زیادہ تر دینی ہوتی ہے - مطلب کوئی حدیث، قرآن کی کوئی آیت، یا کوئی دینی بات وغیرہ
مگر جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا، آپ کو انھیں لوگوں کی ایسی ایسی پوسٹس پڑھنے اور دیکھنے کو ملیں گی کہ بندہ بولے کہ صبح جو دینی بات کہی تھی، اس کا اثر ختم ہو گیا ہے کیا؟
* خواتین اپنے آپ کو دکھانا پسند نہیں کرتیں سوشل میڈیا پر - وجہ کوئی بھی ہو
لیکن دوسری انجانی خواتین، ماڈلز اور انفلونسرز کی تصاویر بیوجہ دھڑا دھڑ شیئر کرتی رہیں گی
* دیس یا پردیس میں جیسے ہی کوئی حادثہ یا واقعہ ہوتا ہے، تو سب کے سب لوگ سوشل میڈیا پر اس کی مذمت کرنا شروع کر دیتے ہیں
مگر وہ مذمت صرف کچھ گھنٹوں کے لیے ہوتی ہے یا پھر ایک دو پوسٹ کی حد تک ہوتی ہے - پھر آپ کو دوبارہ سے کچھ گھنٹوں کے بعد وہی عام باتیں سوشل میڈیا پر پڑھنے کو ملیں گی
* سوشل میڈیا پر لوگ ایک دوسرے کو عزت دینے کے لیے بھائی، ویر، بہن، شیخ صاحب، چودھری صاحب وغیرہ کہہ کر بات کرتے ہیں
مگر پھر تھوڑا سا اختلاف ہونے کی دیر ہوتی ہے، اور بات چیت کا وہ سارا سلسلہ اور وہ سب آپ جناب وغیرہ سب کہیں کھو جاتا ہے - اور لوگ ایک دوسرے کی عزتوں کی دھجیاں اڑانا شروع کر دیتے ہیں - پتہ چلتا ہے کہ وہ ساری عزت دینا وغیرہ ڈرامے بازی تھی بس
یہ ساری مثالیں قول و فعل کے تضاد کا شکار ہیں ...
مطلب کہ سوشل میڈیا پر آپ کو لوگوں کے بول چال میں کوئی مستقل مزاجی نظر نہیں آئے گی - اور یہی سب سے بڑا مسئ��ہ ہے
مطلب کہ کوئی ایک رویہ تو اختیار کر کے رکھے انسان
میں آپ کی کسی بھی بات کو توجہ سے کیسے سنوں، جب کہ مجھے پتہ ہے کہ دو منٹ بعد آپ نے اپنی ہی بات کے متضاد کوئی حرکت کرنی ہے یہاں
تو جب آپ کا اپنا کردار ایسا رہے گا، تو مطلب یہ ہوا کہ آپ کی کسی بھی بات کی کوئی وقعت ہے ہی نہیں
اور جب کسی بھی بات کی کوئی وقعت ہی نہیں ہے - تو آپ کی شخصیت بالکل بے معنی ہے
ساری ��ات مستقل مزاجی کی ہوتی ہے ...
اگر آپ کی باتوں میں میانہ روی نہیں ہے، اگر آپ کی باتوں اور اعمال میں فرق ہے، اگر ہر تھوڑی دیر کے بعد آپ اپنی ہی باتوں سے پلٹ جاتے ہیں - تو کوئی بھی شخص آپ کو سنجیدہ لے ہی نہیں سکتا
ارے سنجیدہ لینا تو دور کی بات، ہماری کوئی عزت ہی نہیں رہے گی سامنے والے کی نظر میں
اور جہاں انسان کی عزت دو ٹکے کی بھی نہ ہو - تو اس سے بدتر حالت میں وہ اپنے آپ کو اور کہاں پا سکتا ہے
خلاصہ ...
آپ سوشل میڈیا پر کیا کر رہے ہیں اور کیا نہیں - اس سے مجھے تو کیا، کسی کو بھی کوئی سروکار نہیں
مگر کم از کم اتنی تو شخصیت انسان کی ہونی چاہیے کہ جس کا نام سامنے آتے ہی لوگوں کو یہ احساس ہو کہ یہ ایک باکردار شخص کی آئی ڈی ہے
اگر اپنا چورن ہی آپ کو بیچنا ہے چوبیس گھنٹے، تو پھر کوئی گالی دے یا طعنہ مارے، کوئی عزت کی دھجیاں ہی کیوں نہ اڑائے آپ کی - آپ کو تو پھر کوئی فرق ہی نہیں پڑنا چاہیے
کیونکہ فرق صرف اور صرف اس شخص کو پڑتا ہے جس کو اپنے کردار کی قدر ہو، کوئی عزت ہو اس کی اپنی ہی نظر میں
اور اگر آپ کو اپنی قدر ہے - تو اس کی جھلک سوشل میڈیا پر نظر آنی چاہیے
یہ بیچ میں لٹکنے والی حرکتیں کرنا بند کریں - راستہ کوئی ایک چنیں اور پھر اس پر ڈٹ جائیں
ورنہ کوئی راہ چلتا شخص جب آپ کے منہ پر تھوکتا ہے، تو پھر اس تھوکے ہوئے کو برداشت کیا کریں - کیونکہ یہ مقام آپ نے اپنے لیے خود منتخب کیا ہوتا ہے اپنا سوشل میڈیا پر
اپنی ایک سلطنت بناؤں گی
داخلی دروازے کی تختی پر لکھا ہو گا!
لن يغفر وجع القلب لأولئك الذين
يدخلون هنا۔۔۔۔!!
یہاں داخل ہونے والوں کی دل آذاریاں معاف نہیں ہوں گی!
عربی میں کہتے ہیں:
"الطيور لا تقع إلا على أشكالها"
In English:
"Birds of a feather flock together.”
فارسی میں کہتے ہے :
"کند ہم جنس باہم جنس پرواز"
ان سب کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے زندگی کا سفر اپنے جیسے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ ان کی سوچ اور نفسیات ایک دوسرے کے ساتھ ملتی ہیں۔