@Huma_rani804 جی بلکل ہم سب پاکستانی ہے اور پاکستان ہر ہماری جانیں قربان
لیکن یہاں ایک اور بات شاید کسی نے محسوس نہیں کی جب پنجاب میں فحاشی کے واقعات ہوتے ہے تو پاکستان میں ہو رہا ایسا کہا جاتا ہے لیکن جب دوسروں صوبے میں ہوتے ہے تو اس صوبے کا نام کیا جاتا ہے پاکستان کانہیں
سپریم کورٹ سے تازہ اپڈیٹ
آج چار دن بعد اعتراض لگایا گیا اس کو بھی دور کر دیا جاۓ گا پٹیشن نمبر تک نہیں لگایا جارہا ،بہانے چھوڑے اور عمران خان کی صحت زندگی کا معاملہ ہے انصاف دیں.
@saqibbashir156 یہ قیدی نون لیگ سے تعلق رکھتے ہیں اتنی جلدی درخواست بھی دائر کی تاکہ ابو نااہل نا ہو جائے کیا یہ قیدی پہلے وزیراعظم رہ چکے ہے کیا یہ قیدی کسی سیاسی جماعت کے سربراہ ہے
چلو پھر ہم کہتے ہے ان کو سہولت دی جائے تاکہ ان کا کھیڑا بھی مرجائے
یہ معـاملہ نـون لیـگ کا لگ رہا ہے
چـار دن پہـلے نـون لیـگ نے بیـان دیا تھا کہ بـاقی لـوگ بھی پھر کہیـں گے کہ ہمیـں بھی پرائیـوٹ ہسپتـال لیـکر جاؤ
اس درخـواست سے رشـوت کی بو آرہی ہے صـاف الفـاظ میـں کہوں تو نون نے پیسے دے کر درخواست دائر کروائی تاکہ آپنا دیاہوا بیان سچا ثابت ہو
اسلام آباد ہائی کورٹ
بانی پی ٹی آئی کا نجی ہسپتال سے علاج کا معاملہ
اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کا بھی نجی ہسپتالوں سے علاج اور اہل خانہ سے بات کرانے کیلئے عدالت سے رجوع
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سپریٹنڈنٹ جیل سے پیراوائز کمنٹس طلب کرلیے
اسلام آباد ہائی کورٹ کا اڈیالہ حکام کو نوٹس، جواب طلب
جسٹس محمد آصف نے قیدیوں الیاس خان،محمد اسماعیل خان اور اویس الطاف کی درخواستوں پر سماعت کی،
اسماعیل خان کے وکیل بیرسٹر اختر چھینہ عدالت پیش
درخواستگزار ہیموفیلیا بیماری کا شکارہے اور انٹرنل بلیڈنگ ہے، بیرسٹر اختر چھینہ
دو ماہ میں دس مرتبہ ہسپتال لایاگیا لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا، بیرسٹر اختر چھینہ
اس مسلہ کا علاج ابھی تک پاکستان میں صرف شفاء ہسپتال میں ہی ممکن ہے، بیرسٹر اختر چھینہ
سپریم کورٹ فیصلہ ہےاگر بیماری کا علاج سرکاری ہسپتال میں نہیں تو قیدی کو پرائیویٹ ہسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے، بیرسٹر اختر چھینہ
سپریم کورٹ فیصلے نے واضع کر دیا کہ علاج کے اخراجات اہل خانہ برداشت کر سکتے ہیں، بیرسٹر اختر چھینہ
سپریم کورٹ فیصلہ پر انحصار کرتے ہوئے استدعا ہے،میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے، بیرسٹر اختر چھینہ
اگر لیور ٹرانسپلانٹ سرکاری یسپتال میں میسر نہ ہو تو کیا اس قیدی کو پرائیوٹ ہسپتال میں منتقل نہیں کیا جائے گا، بیرسٹر اختر چھینہ
درخواست گزار اویس الطاف کےوکیل سید جعفر ویڈیو لنک ک ذریعے عدالت پیش
درخواست گزار اویس الطاف کو بخار اور دل کا مرض ہے، سید جعفر ایڈووکیٹ
مناسب علاج معالجہ کرانا قیدی کا بنیادی حق ہے، سید جعفر ایڈووکیٹ
سرکاری ہسپتال میں علاج ممکن نہیں شفاء ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیاجائے،سید جعفر ایڈووکیٹ
درخواست گزار محمد اسماعیل 9 سال سے اڈیالہ جیل قید ہے، وکیل درخواست گزار
ایک بھائی دوبئی ہوتاہے،سالوں سے رابطہ نہیں ہے، وکیل درخواست گزار
جیل حکام کو حکم دیاجائے کہ واٹس ایپ کال کے ذریعے بھائی سے بات کرائی جائے،وکیل درخواست گزار
عدالت نے تینوں کیسز میں پیرا وائس کمنٹس طلب کرلیے،
عدالت کاجیل حکام کو جواب کیلئے نوٹس جاری، سماعت27 اگست تک ملتوی کردی،
پاکستان کے ان ماوں اور بہنوں کے بارے میں بتاو جو چاہتی ہے کہ ہمارے بچے بےغیرت پیدا ہو اور ساری زندگی زندہ رہے کبھی مرے نا
اور ان بہنوں کے بارے میں بتاو جو کہتی ہے کہ فلاں بندے بڑے غیرت مند اور ایماندار ہے لیکن شادیاں بےغیرت لڑکوں سے کرتی ہے
ایسی عورتیں کہاں پائی جاتی ہیں 😜