آئی ایس پی آر کو میرا جواب اور وہ دو بنیادی وجوہات جن کی بنیاد پر پی ڈی ایم اور اس کے سرپرست مجھے گرفتار کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں:
۱۔ مجھے انتخابی مہم چلانے سے روکنے کیلئے کیونکہ انشاءاللہ جب انتخابات کا اعلان ہوگا تو میں جلسے منعقد کروں گا۔
۲- پی ڈی ایم حکومت اور اس کے سرپرستوں کیجانب سے سپریم کورٹ کی حکم عدولی اور انتخابات کےانعقادکے حوالے سے دستور سے انحراف کی صورت میں مجھے آئین کی حمایت میں ایک بھرپور عوامی تحریک کیلئے عوام کو متحرک کرنے سے باز رکھنے کیلئے۔
Today, I had the honour of speaking to the 47 countries that comprise the @UN#HumanRightsCouncil urging the immediate release of my father @imrankhanpti and all #Pakistan’s #politicalprisoners. Along with this, I want to be very clear. Like my father, I fully support maintaining GSP+ as the people of #Pakistan should never be punished for the actions of its leaders. But the Pakistani regime must also fully comply with the 27 treaties it committed to follow to obtain this benefit, including the International Covenant on Civil and Political Rights and Convention Against Torture. @UN@ptiofficial #HumanRights #ImranKhanUnlawfullyDetained
Niaz Ahmad Owner of ZONG Network..
یہ زونگ کمپنی کے مالک ہیں لازمًا اربوں پتی ہونگے لیکن پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا اسکی کہی ہوئی باتیں ضرور توجہ سے سنیں اور سبق حاصل کریں ۔۔
تنگدستی اگرچہ ہو غالب
تندرستی ہزار نعمت ہے.!
Alhamdulillah, Allah ka shukar hai I am proud of you, my boys, and of all my coaching staff shahid anwar Rao Iftikhar Anjum Mansoor amjad Abrar ahmed Ali hamza and Dr ubaid
Special mention To Azhar Ali Zohaib khan and Mohtashim Ali as well
Pakistan zindabad 🇵🇰🇵🇰❤️
“To strive for justice is a sacred duty, and I am ready to lay down my life for Haqeeqi Azadi (true freedom) of my nation.
At this moment, Pakistan is being governed solely under “Asim Law”. Here, verdicts are pre-written and merely announced aloud. Like the baseless decisions and sentences of the past three years, the Toshakhana 2 verdict is nothing new for me. This ruling, too, was delivered in haste, without any evidence and without fulfilling legal requirements. Neither we nor our lawyers were even given opportunity to present our case.
The sustained solitary confinement imposed on me and my wife constitutes severe mental torture. We are barred from books, television, and meetings. Although television access is granted to every other prisoner, even this fundamental facility has been withheld from me and Bushra Bibi. The books sent by my family are confiscated by jail authorities, and we are kept in solitary confinement for weeks at a time. This treatment is inhumane, yet all this oppression and brutality cannot weaken my resolve.
It is not our tradition to target women and children. Our religion mandates mercy toward women even during warfare, yet here they are being persecuted purely out of political vendetta. I am deeply saddened and distressed by the mistreatment and brutality faced by my sisters and other women outside Adiala Jail. The treatment meted out to Bushra Bibi, Dr. Yasmin, Mahrang Baloch, and other women stands in clear violation of Islamic traditions and moral values. Bushra Bibi, my wife, has been subjected to solitary confinement purely because of personal hostility towards me, even though she has no political role and is a homemaker.
The army is mine and belongs to the people of Pakistan. When I criticize Asim Munir, it is criticism of an individual, just as past dictators were criticized. Asim Munir did not come into power through a public referendum or popular vote. Whatever is happening to me in jail is being carried out on the instructions of a colonel acting under Asim Munir’s orders.
The rule of law in Pakistan has been severely undermined. Just as in 2007, PCO judges who sided with a dictator and tarnished the sanctity of the judiciary earned no respect, while those who resisted were hailed as national heroes. Similarly, today, the judges who are resisting this system are our heroes, while those acting as puppets, obediently following orders, lack conscience and are no different from the PCO judges of the Musharraf era.
For the struggle to restore the rule of law and uphold the Constitution, it is essential for the Insaf Lawyers Forum and legal fraternity to step forward decisively. Only a just legal system can safeguard the people; without it, neither economic progress nor moral development is possible.
I have full confidence in Salman Safdar and his team and have instructed them to file an appeal against these bogus decisions in the Islamabad High Court.
My message for Sohail Afridi is to prepare for a street movement. The entire nation must rise for their rights!!
To strive for justice is a sacred duty, and I am ready to lay down my life for Haqeeqi Azadi (true freedom) of my nation.”
Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his lawyers after the verdict of a military-style trial in Adiala Jail - (20 December, 2025)
بریکنگ نیوز 🚨
انٹرنیشنل میڈیا اینکر کیئٹی ہیلپر کے ساتھ علیمہ خان کا اہم انٹرویو 🛑
ہم چونکہ غزہ میں مصروف تھے, عمران خان پر اتنا جبر ہورہا تھا, ویسٹرن میڈیا کیوں خاموش رہا, اب ہم بھرپور آواز اٹھائیں گے!!
My full interview with Kasim and Sulaiman Khan is out now on YouTube.
We spoke about their childhoods, what Imran was like as a father, as well as what they now want from the international community. And I ask, do they ever think they’ll see their father again?
https://t.co/BGkabbKrTK
Sky's lead world presenter @SkyYaldaHakim has spoken to Imran Khan's sons, who described the conditions of their father's prison in Pakistan.
The former prime minister has been in prison since his arrest in August 2023 on corruption charges.
🔗 https://t.co/IjfNNgiDDV
#Pakistan: Imran Khans solitary confinement and inhumane detention conditions must end - UN expert. Prolonged or indefinite solitary confinement is prohibited under int'l human rights law – and when it extends longer than 15 days, it's a form of #torture.
https://t.co/m2Re8Yhyc0
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
"ماضی کے ڈکٹیٹرز کے ادوار میں بھی ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی گئی مگر عاصم منیر نے ہر حد عبور کر لی ہے۔ دو سال میں پاکستان میں سویلینز کے قتل عام کے چار بڑے واقعات ہوچکے ہیں۔ جن میں پہلا 9 مئی، دوسرا 26 نومبر، تیسرا آزاد کشمیر اور چوتھا مریدکے قتلِ عام ہے۔ اپنی ہی عوام پر ایسا ظلم کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ باعث تکلیف بات یہ ہے کہ ان تمام واقعات میں کوئی بیرونی دشمن نہیں، بلکہ اپنی ہی پولیس، رینجرز اور پیرا ملٹری فورس کے ہاتھوں اپنے ہی ہم وطنوں کو بےدردی سے شہید کیا گیا ہے جو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز سے ثابت ہے۔
مجھے اس بات کی بھی بہت تکلیف اور افسوس ہے کہ قتلِ عام کے جتنے بھی واقعات ہوئے نہ ہی ان پر کوئی جوڈیشل کمیشن بنا نہ ہی انکوائری ہوئی اور نہ ہی ذمہ داران کو سزا سنائی گئی۔ میں چاہتا ہوں کہ مریدکے قتلِ عام پر جوڈیشل کمیشن بنا کر آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ کیونکہ قتلِ عام کے ان واقعات میں تعداد کے حوالے سے شدید ابہام پایا جاتا ہے جیسا کہ مریدکے واقعے میں سرکاری اطلاعات کے مطابق 4 مظاہرین جان سے گئے جبکہ متاثرہ فریق کے مطابق حقیقی تعداد 400 سے 600 تک ہے۔
قتلِ عام کی جوڈیشل انکوائری میں ظلِ شاہ کے قتل میں ملوث آئی جی پنجاب عثمان انور سمیت آئی جی اسلام آباد ناصر رضوی کو ضرور شاملِ تحقیقات کیا جائے کیونکہ قتلِ عام کے ان واقعات میں یہ بھی حصے دار ہیں۔
میں تاکید کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا میں ہمارے کارکنان اور عوام بعد از نمازِ جمعہ مریدکے قتلِ عام کیخلاف احتجاجاً نکلیں۔ یہ کسی ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اس بربریت کیخلاف آواز اٹھائیں اور جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کریں۔ اس ظلم اور بربریت کا راستہ نہ روکا گیا تو باری باری سب اس کی زد میں آئیں گے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی باعثِ تشویش ہے۔ دو مسلم ہمسایہ ممالک کے درمیان لڑائی کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے، دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کو لڑائی کی بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنا بہتر ہے۔ جس طرح یہاں تین نسلوں سے مقیم افغان پناہ گزینوں کو دہائیوں کی مہمان نوازی کے بعد دھکے دے کر ملک بدر کیا گیا ہے، وہ بھی افسوسناک ہے۔ افغانستان ہمارا مسلم ہمسایہ ملک ہے۔ دہشتگردی سے متعلق معاملات بات چیت سے حل کیے جائیں۔
تاریخ سے ثابت ہے کہ ڈکٹیٹرز کبھی بھی امن نہیں لاسکتے- کیونکہ ملٹری ڈکٹیٹرز کو Military Solution کے علاوہ کوئی حل نظر نہیں آتا- یحیٰی خان سمیت تمام ڈکٹیٹرز کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں- یہ معاملات سیاستدان معاملہ فہمی سے حل کرتے ہیں۔ اگر ان سے نہیں ہوتا تو مجھے پیرول پر رہا کیا جائے تاکہ دیرپا امن کے قیام اور افغانستان سے تنازعے کے حل کے لیے میں اپنا کردار ادا کروں۔
ملکی حالات سے مایوس ہو کر پہلے ہی تیس لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ملک سے تیزی سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کا انخلاء جاری ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری آنا تو دور کی بات ملک کے اندر سے بھی سرمایہ تیزی سے باہر جا رہا ہے۔ جب تک ملک میں امن نہیں ہوگا سیاسی استحکام نہیں آسکتا۔ اور سیاسی استحکام کی عدم موجودگی میں معاشی استحکام ممکن نہیں-
ملک میں لاقانونیت کا یہ عالم ہے کہ ہم اپنے ملک میں رہتے ہوئے ہی غیر محفوظ ہیں۔ کسی کو یہ نہیں پتہ کون کب سڑک پر مارا جائے یا اٹھا لیا جائے۔ آزادی اظہار پر شدید قدغن ہے، میڈیا کو بولنے کی آزادی نہیں، جس طرح علیمہ خان پر بےجا مقدمہ بنایا گیا ایسا کسی کے بھی ساتھ ہوسکتا ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام
(15 اکتوبر، 2025)