ایک پتھر پہ بنا دی گئی صورت میری
اس سے بڑھ گرنے لگی شہر میں قیمت میری
آج گھبرا کر میں پھر گھر سے نکل آیا ہوں
آج پھر راس نا آئی مجھے قربت میری
وقت کے ساتھ بدلنا تو بہت آسان تھا
مجھ سے ہر وقت مخاطب رہی غیرت میری
رات کی گرد میرے رخ پہ جمی ہے یارو
دھوپ نکلے تو ذرا دیکھنا رنگت میری
ترے در سے نکلنا یاد آیا_!!
مسافر دل کو یہ کیا یاد آیا.!!
اچانک کھو گئیں ماضی میں آنکھیں
کوئی مانوس چہرہ یاد آیا
کسی آغوش کی ت��ویل میں تھے
سکوں کا ایک لمحہ یاد آیا
خدا ناکردہ تم کو تنہا چھوڑوں
کسی لب کا وظیفہ یاد آیا
ہمیں عباسؔ جس کو بھولنا تھا
وہی ہم کو ہمیشہ یاد آیا۔۔۔! 🌸♥️