That is the key question. Epstein and Maxwell were sent to prison for running an underage child sex ring.
Prosecute their clients!!! Until we see at least one client arrest, this partial release of Epstein files means nothing.
بہت سے لوگوں نے یہ ویڈیو دیکھی ہے مگر اصل کہانی نہیں جانتے۔
3 اگست 2009 کو میکسیکو کے شہر مونتری میں فیسٹا اِن ہوٹل کے باہر ایک نوجوان لڑکی گبریلا ریکو خیمنیز چیختی چلاتی نظر آتی ہے۔ ویڈیو میں وہ دعویٰ کرتی ہے کہ طاقتور لوگ بچوں کے ساتھ خوفناک جرائم کر رہے ہیں۔ کچھ دیر بعد اسے پولیس حراست میں لے لیا گیا اور پھر وہ منظر سے غائب ہو گئی۔
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ وہ ایک نجی ایلیٹ پارٹی میں تھی جہاں بااثر شخصیات موجود تھیں، اور سچ بولنے پر اسے خاموش کر دیا گیا۔ بعض لوگ اس واقعے کو ایپسٹین فائلز اور عالمی اشرافیہ سے جوڑ رہے ہیں۔
کل، امریکی محکمہ انصاف کی فائلوں کے ایک نئے بیچ میں اس کے دعوؤں کی حمایت کرنے والے شواہد جاری کیے گئے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بش نے ایسا کیا، اور اس سے بھی بدتر۔
Reports suggest Mr. Imran Khan may be suffering from central retinal vein occlusion. Although we cannot independently verify this, we are deeply concerned and request that a team from Shaukat Khanum Hospital be granted immediate access to participate in his care.
#SKMCH
جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی پر چارج شیٹ، موجودہ چیف جسٹس نے مزاحمت کے بجائے خاموشی اختیار کی، ادارے کی حفاظت اور دفاع کے بجائے انہوں نے صرف اپنے عہدے کے تحفظ کیلئے مذاکرات کیے، جب عدلیہ کا سربراہ اپنی ذاتی بقا کو ادارے کی سالمیت پر ترجیح دیتا ہو تو یہ قیادت نہیں بلکہ ذمہ داری سے فرار ہوتا ہے، منصور علی شاہ کا استعفیٰ۔۔!!
’’اس بار سوچ کر ووٹ دینا، دینا ہے تو دے بھی دینا کیا فرق پڑتا ہے، پہلے بھی دیا تھا نکلا نہیں تو کیا ہوا‘‘
عوام کے اجتماعی شعور پر آئینی عہدے پر بیٹھا شخص تقریباً لعنت بھیج رہا ہے، مذاق اڑا رہا ہے
ہماری جدوجہد ہمارا حق ہے، کیونکہ پاکستان کی 80 فیصد عوام میرے ساتھ ہے۔ میں جانتا ہوں کہ دھاندلی کا 90 فیصد عمل پولنگ کے بعد سے لے کر نتائج کے درمیان ہوا ہے۔ میں نے دو سال الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے لیے کوشش کی، اگر ۸ فروری کو EVM ہوتی تو گیم وہیں ختم ہو جاتی۔ آج بھی کہتا ہوں، اگر انتخابات میں شفافیت چاہیئے تو EVM کا نظام لایا جائے، دھاندلی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔”
چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کی اڈیالہ جیل میں گفتگو (24 جولائی 2025)
2/2
" پاکستان میں اس وقت مارشل لاء نہیں “عاصم لاء” نافذ ہے-
ملک میں عاصم منیر کا قانون چل رہا ہے اور آئی ایس آئی اسے تحفظ دے رہی ہے- جو چیز عاصم منیر کو طاقت دیتی ہے وہ اس ملک کا قانون بن جاتا ہے- عاصم منیر اپنی طاقت کے لیے ملک کی ہر چیز کی قربانی دے گا- یہ آرمی چیف فوج کی بدنامی کروا رہا ہے، جیسا کہ یحییٰ خان نے کیا تھا۔
اس وقت سینیٹ ، قومی اسمبلی، وزیراعظم اور صدر سب غیر قانونی ہیں۔ ایک جعلی آئینی عدالت بنا کر ہماری نشستیں کم کی گئیں- جو تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ ایک جماعت کی نشستیں کسی اور کو دے دی جائیں۔ وہ آئینی عدالتیں جن میں انصاف ملنا چاہیے، آج وہاں عاصم منیر نے اپنے ذاتی نوکر بٹھا رکھے ہیں۔ سکندر سلطان راجہ نے تاریخی الیکشن فراڈ کیا، اور اُسے توسیع دے کر اس دھاندلی کو تحفظ دیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج سات ماہ سے میری اپیلیں نہیں سن رہا، کیونکہ اسے بھی ہدایات عاصم منیر سے مل رہی ہیں۔ اس وقت ملک میں عاصم منیر کا قانون ہے، جیسے پاکستان اس کی ذاتی ملکیت ہو۔
ملک میں عدلیہ، ادارے اور جمہوریت کو منظم طریقے سے تباہ کیا گیا ہے۔ ملٹری کورٹس کو قانونی قرار دے دیا گیا، اور یہ اقدام دراصل عدلیہ کی جانب سے خود اپنے اوپر عدم اعتماد ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو بطور ہتھیار استعمال کر کے مجھے توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن میں یہ واضح کر دوں: میں مر جاؤں گا، مگر کبھی عاصم منیر کی بادشاہت کو تسلیم نہیں کروں گا۔ یہ ایک قبضہ گروپ ہے، جس نے ملک پر زبردستی قبضہ کر رکھا ہے۔
اس وقت پاکستان میں "ڈاکو، ڈفر الائنس" مکمل طور پر قابض ہے۔ چھبیسویں ترمیم سے ججوں کی خودمختاری مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ ججز کے احکامات کی کوئی اوقات نہیں رہ گئی، ایک پولیس والا بھی جج کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیتا ہے۔ آج دورانِ کاروائی جج صاحب نے باہر گیٹ پر منتظر میری فیملی کو اندر بلانے کا حکم دیا اور بارہا کاروائی رکوائی بھی مگر میری فیملی کو اندر نہیں لایا گیا۔ اسکا مطلب ہے کہ پولیس اہلکار کے سامنے بھی جج کے احکامات کی کوئی وقعت نہیں۔ ہمارا انصاف کا نظام مکمل طور پر دفن ہو چکا ہے۔
ملک اس وقت تباہ ہوتا ہے جب نا اہل شخص کو اس پر بٹھا دیا جائے۔۔۔
عاصم منیر ملک اور محسن نقوی کرکٹ سنبھال کر بیٹھ گیا ہے- ان کی اہلیت کیا ہے؟ محسن نقوی کی وجہ سے آج ہماری ٹیسٹ ٹیم نویں نمبر پر پہنچ چکی ہے۔ جب اس طرح کے نااہل بٹھائے جائیں گے، تو کھیلوں سمیت ہر شعبے کا یہی حال ہوگا۔ ملک تباہ تب ہوتا ہے جب نااہل لوگ اہم عہدوں پر قابض کر دئیے جائیں۔ یہ بہت خطرناک ہوتا ہے کہ کسی کو بغیر اہلیت صرف طاقت کے زور پر اداروں پر مسلط کر دیا جائے۔
مجھ پر ٹارچر بہت بڑھا دیا گیا ہے۔ مجھے 22 گھنٹے سیل میں قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، کتابیں نہیں دی جا رہیں، حالاتِ حاضرہ سے بےخبر رکھنے کیلئے نہ ہی اخبار دیا جارہا ہے اور نہ ہی ٹی وی دیکھنے کی اجازت ہے۔ یہ نہ صرف مقامی بلکہ عالمی انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے۔ آج جج کے حکم پر 3 گھنٹے کے بعد فقط ایک کتاب مجھے مہیا کی گئی ہے۔ جبکہ میری فیملی نے گزشتہ 1.5 ماہ کے دوران کم از کم 2 درجن کتابیں بجھوائی ہوئی ہیں۔ جب سے جیل سپرنٹینڈنٹ غفور انجم آیا ہے، مجھ پر ٹارچر بہت بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ تمام ٹارچر اس کی سربراہی میں کیا جارہا ہے۔
ہم پاکستان میں امن چاہتے ہیں، پاکستان میں اس وقت جو بھی امن کیساتھ کھڑا ہے، امن مارچ کر رہا ہے ہمیں اسکے ساتھ بھرپور یکجہتی دکھانی چاہیے۔
آج سات ماہ ہو گئے، مجھے اپنے بچوں سے بات نہیں کرنے دی گئی۔ یہ اُن کا حق ہے کہ وہ عدالت میں جائیں، اور میں نے خود اپنے بیٹوں کو کہا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی بنیاد پر عالمی عدالت سے رجوع کریں۔ وہ امریکا میں کسی سے مدد نہیں مانگ رہے، صرف اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ جب صدر ٹرمپ کی حکومت آئی تب بھی میں نے یہی کہا تھا کہ پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہوں گے ۔
ہم نے تمام دروازے کھٹکھٹائے، لیکن کہیں سے سنوائی نہیں ہوئی۔ میں نے صرف ایک بار مذاکرات کا کہا تھا، وہ بھی 26 نومبر اور 9 مئی کے کمیشن کے مطالبے کے ساتھ۔ 26 نومبر کو نہتی عوام پر گولیاں چلانے کے پیچھے عاصم منیر ہے۔ میں آج پھر واضح کر رہا ہوں کہ اب بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ یہ گروہ پورا نظام ہتھیا چکا ہے-
بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، علی امین گنڈاپور اور جنید اکبر کو تاکید کرتا ہوں کہ بھرپور طریقے سے تحریک چلائیں۔ تحریک کا مقصد انصاف کا نظام، قانون کی بالادستی اور آئین کا تحفظ ہونا چاہیئے۔ اگر ہم نے سڑکوں پر آواز نہ اٹھائی تو یہ قبضہ گروپ پارلیمانی پارٹی کو بھی آہستہ آہستہ تباہ کر دے گا۔ میں کھڑا ہوں، تو آپ کو بھی کھڑا ہونا ہوگا۔
1/2
باہر نکل کر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نہ کبھی معاف کروں گا، نہ کبھی بھولوں گا، عوام بھی نہیں بھولے گی، جو اُس نے میرے ساتھ کیا ہے، وہ بھگتے گا، اللہ بھی اُسے سزا دے گا ، عمران خان کی گفتگ
Important Message from Former Prime Minister Imran Khan from Adiala Jail - 22 July 2025
“Never in the history of Pakistan has any political leader been subjected to the treatment that I am currently enduring. Nawaz Sharif committed corruption worth billions and was nevertheless granted every possible comfort in prison. In contrast, never before has the innocent and apolitical spouse of a political figure been imprisoned under such inhumane conditions as those imposed upon Bushra Bibi.
I am enduring the harshest prison term in the country’s history solely for the supremacy of the Constitution and in service of my nation. The level of oppression and authoritarianism is such that even the water I have for ablution is filthy and contaminated with dirt, unfit for any human being. Books sent to me by my family have been withheld for months. Access to television and newspapers has also been suspended. I have spent countless hours re-reading the same old books, but now even those are no longer available.
All my basic human rights have been violated. Even the minimum facilities accorded to ordinary prisoners under the law and the jail manual are denied to me. Despite repeated requests, I have not been allowed to speak to my children. Political meetings have also been restricted; I am only permitted to meet certain ‘choice individuals’, while all other interactions are barred.
Let me make this absolutely clear: every member of the party must immediately set aside all internal differences and focus solely on the movement planned for August 5th. I do not see any meaningful momentum building behind this initiative at present. I am waging a battle against a 78-year-old system, and my greatest success is that despite unprecedented oppression, the public stands firmly with me.
On February 8th (2024), the people expressed their trust in Pakistan Tehreek-e-Insaf by voting for you even in the absence of an electoral symbol. After such a clear mandate, it is the moral and political responsibility of every party member to become the voice of the people. It will be nothing short of disgraceful and condemnable if PTI leaders waste time on internal conflicts at this critical juncture. Anyone found engaging in factionalism within the party will be expelled. I am fighting for the future of our generations, and every sacrifice I make is for that cause. To create rifts within the party at this time would be a direct betrayal of my mission and vision.
The so-called government formed through Form 47 has crippled the judiciary through the 26th Constitutional Amendment. The way biased judges are now delivering blatantly unjust verdicts under these courts is visible to the entire nation. We must launch a robust campaign to liberate the judiciary, for no nation can survive, let alone progress, without judicial independence.”
فیصلے کے پیرا نمبر 𝟐𝟐 میں لکھا ہوا ہے کہ طارق اور حمزہ مرکزی ملزمان تھے انہوں نے تھانے کے گیٹ پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگائی تھی لیکن وہ بے گناہ پائے گئے اور بے گناہ اس لیے پائے گئے کہ انہوں نے پریس کانفرنس کر کے پی ٹی آئی سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا تھا ! فیصل چوہدری