#قیدی_نمبر_804_کی_رہائی
سال ۲۰۱۱ سے تحریک انصاف کا سیاسی عروج شروع ہوا، پرانی سیاسی پارٹیوں میں موروثیت کے سبب قیادت کی ارتقاء کا عمل جمود کا شکار تھا، پرانے نام کہ جن کو جمہوریت کا چمپئن بنا کر پیش کیا جاتا “حکمران خاندان” بن گئے اور اپنی حاکمیت قائم رکھنے کے لیے ہر قسم کی ڈیلوں کو جائز گرداننے لگے تو نئی نسل کے لیے ان میں کوئی کشش نہ رہی۔ سیاسی باوے یہ بھانپ گئے کہ آنے والا وقت تحریک انصاف کا ہے اور جو کہ “الیکٹبلز” کا چلن ہے، جوق در جوق بڑے بڑے ناموں کی شمولیتیں شروع ہوگئیں۔ کل تک جو عمران خان کا مذاق اڑاتے تھے، اس کی پارٹی پر جملے کستے تھے اب وہ تحریک انصاف کے رہنما بن گئے۔ طلباء سیاست سے مرکز کی سیاست میں ایکٹیو ہوئے یہ میرا دوسرا ہی سال تھا، گراؤنڈ کے ورکر کے ساتھ بڑا قریبی اور مضبوط رابطہ تھا۔ ہم نے طلباء سیاست تو بڑے انقلابی ایجنڈے پہ کی تھی اب جو ہر ایرے غیرے کو اپنی پارٹی کا کرتا دھرتا بنتے دیکھتے تو تلملا کے رہ جاتے۔ بنتا بھی تھا ہماری پارٹی ہائ جیک ہورہی تھی اور ہماری آنکھوں کے سامنے ہورہی تھی، خاموش کیسے رہ سکتے تھے۔ ہر میٹنگ میں کبھی کسی کو چیلنج کررہے، کبھی کسی کو۔ خان صاحب کو ایک کی پروفائیل بتا رہے کبھی دوسرے کی۔ بہت قریب تھا کہ کسی دن کسی کو گھیر کر پیٹھ ڈالتے یا خود ہی پٹ آتے کہ ایک دن خان صاحب نے بٹھایا اور سمجھایا۔ دو باتیں ہمیشہ یاد رکھو۔ہر انسان میں خوبیاں اور خامیاں ہوں گی، لوگوں کی سٹرینتھس کو دیکھو صرف خامیوں کو نہیں۔ آپ کو اپنے نظریے اپنے مقصد کے لیے کمپرومائز کرنا پڑ سکتا ہے، پڑتا ہے۔ ایسے وقت میں اپنی انا اور پسند ناپسند کو پس پشت ڈال کر لوگوں کی سٹرینتھس اور ویکنسس کمپئر کرو۔ دیکھو کہ آیا وہ تمہارے مقصد کے حصول کے لیے معاون ثابت ہوسکتے ہیں یا ان کی کمزوریاں تمہارے کاز کو نقصان پہنچائیں گی؟ دوسرا choose your battles ہر ایشو پر لڑ جانا بھڑ جانا ضروری نہیں ہے۔ (یہ بات وہ بار بار اور ہمیشہ کرتے ہیں جب بھی پارٹی لیڈرشپ کسی نان ایشو میں الجھنے لگتی، اور جو کہ عموما ہوتا تھا کیونکہ دوسری طرف کے لوگوں کی تو یہ سروائیول کی جنگ ہے، مختلف پراپگینڈوں کا سامنا تو مستقل ہی رہتا ہے، تو وہ کرکٹ کی ٹرمنالوجی استعمال کرتے well left, ضروری نہیں ہے ہر بال کھیلنا۔ ہمیشہ اپنی نظر بڑے مقصد پر مرکوز رکھیں۔ اپنے لیے ایک ٹارگٹ رکھو اور اُس پر اپنی نظر مرکوز رکھو۔ فوکس رہو۔ کوئی بھی distraction تمہیں اُس مقصد سے نہ ہٹا پائے۔ تحریک انصاف پاکستان کی اکلوتی سیاسی جماعت ہے جس کو عوام نے کھڑا کیا ہے۔ عوام نے بنایا ہے۔ اس کے والی وارث عوام ہیں۔ جو لوگ یہاں اپنے ذاتی مفاد کے لیے آئے ہیں وہ وقت کے ساتھ ساتھ فلٹر ہوتے جائینگے۔ خود کو ایکسپوز کرتے جائینگے جن جن کا نظریہ ہم سے align نہیں ہے وہ خود ہم سے دور ہوتے جائینگے۔ تم اپنا وقت اور انرجی ان پر برباد کرنے کہ بجائے اپنے مقصد پر فوکس رکھو۔ آج کے حالات کے تناظر میں آپ کے لیڈر کی آزادی، آپ کے مینڈیٹ کی واپسی آپ کے وہ امیڈیٹ گولز ہیں جن سے آپ کی توجہ ہٹانے کے لیے ایک کے بعد ایک ڈسٹریکشن تیار کی جارہی ہے۔ فیصلہ آپ کا ہے۔ آپ نے عمران خان کی بات مان کر اپنی نظر مقصد پر رکھنی ہے یا اس کٹھن مرحلے پر, ایسے وقت میں جب اس کی زندگی داؤ پر لگی ہوئ ہے اپنے لیڈر کی ہدایات پس پشت ڈال کر اُس کے کاز سے ہٹنا ہے۔ میں آپ کو پورے ذمہ داری سے بتا رہا ہوں کہ فیصلہ ساز اُن کے زندگی کے حوالے سے اپنے منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے آپ کی توجہ عمران خان سے ہٹنے کے منتظر ہیں۔
مروت لوگ میرے بہت قریب رہ چکے ہیں نہایت ہی پرخلوص اور وفادار قبیلہ ہے
دل سے آپکے لیے عزت ہے لیکن جس دن آپ نے عمران خان کوکراس کرنے کی کوشش بھی کی میں یقین سے کہ سکتاہوں مروت قبیلہ تو دور کی بات آپکے اپنے محلے والے بھی پہچاننے سے انکار کرینگے
تحریک انصاف نے عزت دی ہے راس آنا سیکھو
Grateful and honoured to have been elected unopposed as MNA NA-207 Shaheed Benazirabad-I.
I pledge to serve all my constituents to the best of my abilities, with dedication and irrespective of political affiliation.
Would like to thank the people of my constituency, PPP workers , jiyalas , media orgs and press for their presence and support, from filing my nomination papers in NA-207 till today’s final publication order.
Exactly the whole Nation stands with the six judges except Pti's current leadership!
کالے کوٹ کے اوپر کالا چشمہ پہن کر وی ایٹ میں بیٹھے چند رہنما بس گاڑی سے ہی چیں چیں کرتے ہے گراونڈ پر انکی کارکردگی زیرو ہے۔
مینگورہ، سوات اور خیبر ایجنسی کے بعد عمران خان، بشری بی بی، قیادت اور کارکنان کی رہائی اور مینڈیٹ کی واپسی کےلیے آج چارسدہ، کل بریکوٹ اور باجوڑ میں احتجاج ہوگا۔ ہفتہ کے روز ہمارے ایم این اے شاہد خٹک کی قیادت میں کرک میں احتجاج ہوگا۔ یوتھ ونگ اور مقامی قیادت صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی احتجاجی شیڈول جاری کرچکی ہے۔ ہم اپنی تنظیموں، ٹیموں اور ذیلی ونگز کو متحرک کررہے ہیں۔ کور کمیٹی خان صاحب کی اجازت سے جب بھی لانگ مارچ، دھرنے یا احتجاجی تحریک کی فائنل کال جاری کرتی ہے، ہم تیار ملیں گے۔ میری وکلاء قیادت سے درخواست ہے کہ اب تو اعلی عدلیہ کے جج صاحبان اپنی زندگیاں داؤ پر لگا کر حقائق سامنے لے آئے ہیں۔ عمران خان، بشری بی بی اور تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف فیصلے کس دباؤ کے تحت آئے، ۹ مئی کا گھناؤنہ منصوبہ کہ جس کو استعمال کرکے ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیے گئے، بے گناہ خواتین اور کارکنان کو کن کی ایما پر جیلوں میں رکھا گیا ہے قوم تو پہلے ہی جانتی تھی۔ اب اُس پر ملک کی اعلی عدالت کے جج صاحبان کی گواہی کی صورت مہر تصدیق بھی ثبت ہوگئی ہے۔ ہم میں سے بہت سے نوجوانوں کو سیاست میں شامل ہونے کی ترغیب عدلیہ بحالی تحریک سے ملی تھی، یہ وقت ہے کہ پارٹی اور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر آئین اور قانون کی بحالی کے لیے متحرک ہوں۔ میں آپ کو باور کراتا ہوں کہ آئ ایس ایف، تحریک انصاف یوتھ ونگ اور پاکستانی قوم آپ کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔ قدرت بار بار آپ کو موقع دے رہی ہے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اُس کی خاموشی اُس کی بقا کی ضامن ہے تو یہ اُس کی خام خیالی ہے۔ جو عفریت اس ملک پر قابض ہے اُس کے منہ کو خون لگ چکا ہے، آج نہیں تو کل باری سب کی آئیگی۔ بلا تفریق آئے گی۔ خدارا اپنی وفاداریوں کا مرکز پاکستان کو رکھیں۔ ریاست کے نام پر پاکستان کی شہ رگ پر پنجے گاڑے بیٹھی عفریت کو نہیں۔
خان سے معافی منگوانے والی ویڈیو ہے تو خان سے معافی مانگنے والی ویڈیو بھی ہو گی۔۔؟؟ عوام کو دکھاؤ۔۔۔اور ایک سیٹ ہار بھی گئے تو کوئی مسئلہ نہیں پہلے کون سا تیر مار رہے ہیں۔۔خان کی عزت سے آگے کچھ نہیں
ملاقات ہی کیوں کی!
پہلے دن سے کہ رہے ہے گنڈاپور نے پارٹی کیلئے قربانیاں دی ہے لیکن وہ وزارت کیلئے موزوں امیدوار نہیں ہے
یہ بندہ ابھی سے خان دشمنوں سے گلے لگ رہا ہے آگے تو سیدھا جنرل پہ جا کے رکے گا
اوپر سے پارٹی کے دوسرے رہنما بھی کمپرومائزڈ لگ رہے ہے
اللہ خیر کریں
27 years ago, Pakistan Tehreek-e-Insaf started its struggle to assert the primacy of the rule of law & justice within the country. Central to establishing rule of law is the presence of an independent judiciary.
Over the years we have seen a degeneration of rule of law, and in the last two years, the law & the Constitution has been blatantly violated, subverted and undermined - decimating what was left of the judiciary's credibility and authority.
Therefore, we welcome the six brave judges of the Islamabad High Court who have highlighted the alarming state of affairs of the higher judiciary in a letter addressed to the Chief Justice of Pakistan and members of the Supreme Judicial Council. This letter with its 2 annexures, brings on the record the brazen and shameful interference of the intelligence agencies in judicial matters, which is a damning indictment against the independence of the judiciary in the country.
The fact that the judges have been intimidated and coerced into giving judgements based on political expediency raises a lot of questions on the fairness of the courts and their judgements over the last 2 years.
In addition, this also questions the credibility of the state narrative with results to 9th May, an event instigated within the Islamabad High Court when Chairman PTI Imran Khan was abducted & dragged from the court premises by paramilitary forces, who stormed the building of the IHC.
Since then, a wave of political victimisation has been unleashed where abductions, followed by torture inflicted upon political workers & leaders has become the norm, and the Courts have been unable to assert their authority or dispense justice.
More importantly, it is Islamabad High Court & its lower courts where most of the cases of PTI chairman Imran Khan, including his illegal arrest & conviction, are pending or underway. The fact that this court is under influence & pressure raises serious doubts on these cases as well.
It is, therefore, imperative that the Supreme Judicial Council conducts an impartial inquiry into these serious allegations by the six honourable judges of the IHC, and ensure justice and relief to thousands of political prisoners languishing in jails without any crime.
27 برس قبل پاکستان تحریک انصاف نے ملک میں قانون کی حکمرانی اور عدل و انصاف کے قیام کیلئے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا۔ قانون کی حکمرانی کی بنیاد ہی آزاد عدلیہ پر استوار ہوتی ہے۔
گزشتہ کئی برسوں کے دوران ہم نے اپنی نگاہوں کے سامنے قانون کی حکمرانی کے تار و پود بکھرتے دیکھے جبکہ گزشتہ دو برس کے دوران پوری ڈھٹائی سے دستور و قانون سے انحراف کیا گیا اور آئین کو تاراج کرنے کے ساتھ نہات دیدہ دلیری سے اسے نیچا دکھایا گیا جس سے عدلیہ کی بچی کُھچی ساکھ اور اس کے اختیار و حیثیت کا بھی جنازہ نکل گیا۔
چنانچہ ہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے ان 6 بہادر ججز کا خیر مقدم کرتے ہیں جنہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور سپریم جیوڈیشل کونسل کے اراکین کے نام اپنے خط کے ذریعے اعلیٰ عدلیہ کی نہایت تشویشناک کیفیّت پر سے پردہ ہٹایا ہے۔ یہ خط اپنے دو عدد منسلکہ جات کے ذریعے خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے پوری ڈھٹائی سے عدالتی معاملات میں اس شرمناک مداخلت کو ریکارڈ پر لاتا ہے جو ملک میں عدلیہ کی آزادی کے خلاف ایک نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت فردِ جرم سے کسی طور پر بھی کم نہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران جس انداز میں ججز کو ڈرا دھمکا کر انہیں سیاسی بنیادوں پر فیصلے جاری کرنے پر مجبور کیا جاتا رہا ہے اس سے ان ججز کے فیصلوں اور عدالتی امور میں شفافیّت کے پورے عمل پر ان گنت سوالات سر اٹھاتے ہیں۔
مزید یہ کہ اس پورے عمل سے ریاست کے بیانیے کی صحت اور 9 مئی کے واقعات و نتائج کی حقیقت، جن کے پس منظر میں بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا اسلام آباد ہائیکورٹ کی عمارت پر باقاعدہ ایک یلغار کی صورت میں نیم فوجی دستوں کے ذریعے (ہائیکورٹ کے اندر سے) اغوا اور ان سے کی جانے والی بدسلوکی کارفرما ہے، کے حوالے سے بھی نہایت سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
تب سے لیکر اب تک (ملک میں) سیاسی انتقام کی ایک لہر اٹھائی گئی ہے جس کے تحت سیاسی کارکنان اور قائدین کو اغوا کرکے انہیں اذّیت و تشدد کا نشانہ بنانا ایک معمول یا روایت بن کر رہ گیا ہے اور عدالتیں اپنے اختیارات بروئے کار لانے یا (ان زیرِعتاب سیاسی کارکنان/قائدین کو) انصاف فراہم کرنے میں یکسر ناکام رہی ہیں۔
اس سے بھی بڑھ کر اہم یہ ہے کہ یہ اسلام آباد ہائیکورٹ اور اس کی ذیلی عدالتیں ہی ہیں جہاں بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے زیادہ تر مقدمات جن میں ان کی غیرقانونی گرفتاری اور (جعلی، بےبنیاد، من گھڑت اور جھوٹے مقدمات میں) دی جانے والی سزاؤں (کے خلاف اپیلوں وغیرہ) کے معاملات شامل ہیں، زیرِ سماعت ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ یہ عدالت دباؤ اور مداخلت کے زیرِ اثر ہے جس سے ان مقدمات پر کی جانے والی عدالتی کارروائی پر بھی نہایت سنگین نوعیت کے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔
چنانچہ یہ ناگزیر ہے کہ سپریم جیوڈیشل کونسل اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 معزز ججز کی جانب سے لگائے جانے والے نہایت سنجیدہ الزامات کی ایک غیرجانبدارانہ تحقیقات کرے اور ان ہزاروں سیاسی قیدیوں کیلئے سہولت و انصاف کی فراہمی یقینی بنائے جو بغیر کسی جرم کے جیلوں میں قید ہیں۔
میں مدثر آیان دوسرے شفٹ سے اکاونٹ نمبر 211 سے بول رہاہوں آپ نہایت ہی جاہل انسان ہے جسکی جہالت زدہ باتیں اب پاکستانی عوام روز سنے گی
شرجیل میمن کے پیادےاب ہمیں سوشل میڈیا یوز کرنا سکھائیں گے مان لیجئے جہالت کے قطب مینار تحریک انصاف سوشل میڈیا کے اگے کوئی نہیں ٹک سکتا
فٹے منہ تیرا
علوی صاحب میں آپ کو چیلنج کرتا ہوں اپنی سوشل میڈیا ٹیم کے صرف پانچ ہزار ممبران کے ویڈیو میسیج دکھادیں اگر ۔ آپ کی ٹیم ایک ہی چھت کے نیچے سے چل رہی ہے جسے شفٹوں میں کام کرنے والے لوگ ہزاروں جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے چلارہے ہیں۔اپنے سپورٹرز کے نام پتے تصویریں چیک کریں سب پتہ چل جائیگا
A Man who can't even differentiate between WIFI & VPN was our former Finance Minister, who was brought by the company with a Special Airforce Plane.
ٹویٹس کی طرح اکانومی کو بھی چلاتے بھائی بھلے ہی سلو چلاتے 😑
آج سوات سے عمران خان، بشری بی بی، تحریک انصاف کی قیادت و کارکنان کی رہائی اور پاکستان کی عوام کے مینڈیٹ کی واپسی کے لیے تحریک کا آغاز کردیا گیا ہے۔ آج ہی انشاء اللہ باقی اضلاع کے لیے بھی شیڈول جاری کرنے جارہا ہوں۔ جب بھی کور کمیٹی کی جانب سے دھرنے یا لانگ مارچ کا فیصلہ آیا ہماری تیاری انشاء اللہ مکمل ملے گی۔ پوری قوم پاکستان کے پرچم کے ساتھ اُسی طرح عمران خان کی رہائی اور اپنے مینڈیٹ کی واپسی کی تحریک کا بیڑہ اٹھائیگی جیسے انہوں نے ۸ فروری کو اٹھایا تھا۔ فیصلہ سازوں کو خبر ہو کہ پاکستانی قوم اب ناموں کی محتاج نہیں رہی۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ہر عمل اور بات کو وطن دشمنی اور دہشت گردی سے جوڑا جارہا ہے لیکن عمران خان نے اس قوم کی سوچ کو بھی آپ کے بیانیوں سے آزاد کردیا ہے وہ جان چکی ہے کہ اُن کے فیصلے کی توہین ہی اصل وطن دشمنی ہے۔ اُن کے مینڈیٹ کی چوری ہی اصل دہشتگردی ہے۔ آپ اس آڑ میں خیبر پختونخواہ میں جن کاروائیوں کا ارادہ رکھتے ہیں اُن سے باز رہیں۔
آج سوات سے عمران خان، بشری بی بی، تحریک انصاف کی قیادت و کارکنان کی رہائی اور پاکستان کی عوام کے مینڈیٹ کی واپسی کے لیے تحریک کا آغاز کردیا گیا ہے۔ آج ہی انشاء اللہ باقی اضلاع کے لیے بھی شیڈول جاری کرنے جارہا ہوں۔ جب بھی کور کمیٹی کی جانب سے دھرنے یا لانگ مارچ کا فیصلہ آیا ہماری تیاری انشاء اللہ مکمل ملے گی۔ پوری قوم پاکستان کے پرچم کے ساتھ اُسی طرح عمران خان کی رہائی اور اپنے مینڈیٹ کی واپسی کی تحریک کا بیڑہ اٹھائیگی جیسے انہوں نے ۸ فروری کو اٹھایا تھا۔ فیصلہ سازوں کو خبر ہو کہ پاکستانی قوم اب ناموں کی محتاج نہیں رہی۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ہر عمل اور بات کو وطن دشمنی اور دہشت گردی سے جوڑا جارہا ہے لیکن عمران خان نے اس قوم کی سوچ کو بھی آپ کے بیانیوں سے آزاد کردیا ہے وہ جان چکی ہے کہ اُن کے فیصلے کی توہین ہی اصل وطن دشمنی ہے۔ اُن کے مینڈیٹ کی چوری ہی اصل دہشتگردی ہے۔ آپ اس آڑ میں خیبر پختونخواہ میں جن کاروائیوں کا ارادہ رکھتے ہیں اُن سے باز رہیں۔