عمران خان کی گورنمنٹ کیسے گری ؟ گرانے والے خود بتاتے ہیں کہ ہمیں کس نے بُلا کر کہا کہ حکومت گراؤ اسکے لیے مولانا فضل الرحمن کا اپنا بیان ہی کافی ہے
پھر 8 فروری کو عوام نے اس بیانئیے پر مہر لگا دی ۔ آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے 8 فروری کو اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے ساتھ کھڑی تھی
عوام کا فیصلہ قبول کرلو یا کوئی اور پیمانہ ہے تو بتا دو
صورتحال
عمران خان جیل میں مررہا ہے۔ اسکی ملاقاتیں بند ہیں۔ اسکی معلومات تک رسائی بند ہے۔ اسے قید تنہائی میں ڈال دیا جاتا ہے اور پھر کچھ ہفتوں کے وقفے سے کبھی بیٹوں سے بات کروا کے اور کبھی کسی وکیل کو بھجوا کر دیکھا جاتا ہے کہ ابھی وہ ٹوٹا ہے یا نہیں۔ اس کی استقامت دیکھ کر سختی پھر بڑھا دی جاتی ہے۔ یہ سختیاں اب طویل تر ہوتی جارہی ہیں اور عمران خان اب محو ہوتا جارہا ہے۔
اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ سختی بہت زیادہ ہے۔ فوج کو کوئی بھی حد عبور کرتے ہوئے کچھ وقت نہیں لگتا۔ ایسے حالات میں چند ہزار لوگ سڑکوں پر آکر کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت کیا کرسکتی ہے؟ تحریک انصاف کی قیادت اس جعلی نظام کی بیساکھیاں بننے سے انکار کرسکتی ہے۔ پختونخواہ اسمبلی آئی ایم ایف ڈیل پر تلوار کھڑی کرکے عمران خان کو صحت اور ملاقاتوں کی سہولیات دلوا سکتی ہے۔ اگر ایسا کرنے کی کوشش میں حکومت گرتی ہے تو گر جائے۔ یوں بے بسی سے عہدوں سے چپکے رہنے سے عوام مایوس اور بے بس ہورہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے رہنماؤں کو گالم گلوچ ، تحریک انصاف کے رہنماؤں کو رسواء کرنا اور نفرت کا اظہار اب معمول بن چکا ہے۔ اسکی مذمت کافی نہیں ہے۔ اسکی وجوہات تلاش کی جانی چاہییں۔ وجوہات وہی ہیں ، نا منصوبہ بندی ہے ، نا اتفاق ہے ، نا کوئی پیش رفت ہے نا کوئی لائحہ عمل ہے۔ تحریک انصاف کی موجودہ قیادت بہت زیادہ تجربہ کار قور ذہنی پختہ بھی نہیں ہے۔
موجودہ چہروں میں سے بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ تو دو سال پہلے بطور سیاستدان صفر تھے۔ سہیل آفریدی پہلی مرتبہ اسمبلی آیا ہے۔ رجیم چینج نا ہوتا تو جنید اکبر بھی پہلی صف کے رہنماؤں میں نہ ہوتے۔ لیکن ان لوگوں کو اس تنقید اور اس ردعمل کی وجوہات تلاش کرکے اس کا سدباب کرنا ہے اور جلد از جلد کرنا ہے ناکہ سوشل میڈیا کو اپنا دشمن سمجھ کر ، یا تنقید کو سازش سے تعبیر کرکے چلنا ہے۔
فوج ناکام ہے۔ فوج نے معیشت تباہ کردی ہے۔ فوج نے افغانستان ، امارات ، چین سے تعلقات بگاڑ لیے ہیں۔ فوج کے خلاف عوامی نفرت سبھی ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ فوج موجودہ ماڈل اور اہلیت کیساتھ کبھی نہیں بچ سکتی۔ ایک دن یہ سارا بوجھ فوج کو لے ڈوبے گا۔ لیکن تحریک انصاف کو اور عوام کو اس بربادی کے انتظار میں نہیں بیٹھے رہنا۔ ہاتھ پاؤں مارنے ہیں۔ اگر نہیں کرسکتے تو عہدے چھوڑ دیں ، اسمبلیاں چھوڑ دیں۔ اسمبلیوں اور عہدوں سے الگ ہونے کا مطالبہ دھمکیاں نہیں ہیں۔ یہ بھی اس نظام کو کمزور کرنے کا منصوبہ ہے۔
اگر آپ گالیاں مت دیں تو ایک آخری بات کہوں ؟
علیمہ خانم اور انکی بہنوں نے تحریک انصاف کے اندر ایک دھڑے کی خاموش حمایت کی جس کا مجموعی طور پر تحریک کو نقصان ہوا۔ جس وقت علی امین گنڈاپور تحریک انصاف میں اپنے حریفوں کو دبا رہا تھا اس وقت ان کی جائے پناہ علیمہ خانم تھیں۔ اڈیالہ کے باہر عمر ایوب بھی دکھائی دیتے تھے اور عاطف خان بھی۔ جیسے ہی بلا ٹلی اور عمران خان نے سہیل آفریدی کو وزیر اعلی لگایا یہ لوگ بھی غائب ہوگئے۔ انہیں شروع دن سے ان لوگوں سے لاتعلق رہنا چاہیے تھا۔ ابھی بھی تحریک انصاف کے اندر کسی بھی شخص سے ہمدردی یا اس سے نرم گوشہ رکھنے کی پالیسی کو ترک کرنا ہوگا چاہے وہ سلمان اکرم راجہ ہوں یا کوئی اور تاکہ ایک حد کھینچ دی جائے اور گوں مگوں والی پالیسی ختم ہوجائے۔
وہ چار لوگوں میں گفتگو نہیں کرسکتا۔ باڈی لینگوئج اسکی یئیں یئیں کی عملی تصویر بنی ہوتی۔ سوچ اسکی وہ کہ افغان تاجر نے کرنسی جلائی ہم ہارڈ سٹیٹ ہوگئے۔ آخری کتاب اس نے بہشتی زیور پڑھی ہوگی۔ عہدے سے ہٹائے جانے پر جس خاتون کو آپا کہتا رہا اسی کے خلاف گھٹیا مہم چلوا دی کہ انکار کی توہین برداشت نہیں ہوپائی۔ ملک کا ڈی فیکٹو سربراہ ہے۔ سویلین کٹھ پتلیوں پر اپنا سالا بٹھا رکھا ہے۔ ہر دعوی جھوٹ نکلا ، ہر مبالغہ آرائی میں سے مری ہوئی چوہی برآمد ہوئی۔
اسکی ساری طاقت اس کا عہدہ ہے۔ یہ عہدہ اس نے سب کچھ داؤ پر لگا کر حاصل کیا ہے۔ اس عہدے کو برقرار رکھنے کے لیے وہ کچھ بھی داؤ پر لگائے رکھے گا۔ وہ عمران خان نہیں ہے جو ہٹانے جانے کے چار سال بعد بھی عوام کے دلوں پر راج کررہا ہے۔ یہ فائز عیسی ، قمر جاوید باجوہ ، ندیم انجم وغیرہ ہے۔ اس کا سایہ بھی اس کا ساتھ چھوڑ جائے گا۔ اس کا پی اے بھی اس کا فون نہیں اٹھائے گا۔ یہ بات وہ آپ سب سے بہتر جانتا ہے۔ہم جس بربادی سے جس ناکامی سے ڈراتے رہے وہ اب منہ کھولے سب کو نگل رہی ہے۔ اس کو بھی نگل جائے گی۔
سکڑتی معیشت میں سرکار کا بیروزگار آرمی افسران کو روزگار فراہمی کا احسن اقدام! شکریہ تو دونوں کا بنتا ہے، آرمی افسران نے بیروزگار نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو روزگار فراہم کیا اور اب وہ انکا خیال رکھ رہے ہیں۔
This is Israel, world
An Israeli soldier ordered a Palestinian youth to continue walking, then used him as a target for long-range shooting practice before killing him.
Tell us what you think of their actions!
Repost please
تاریخ ساز دن، تاریخ ساز لیڈر
میدان کھیل کا ہو یا سیاست کا - دونوں کا ناقابلِ شکست بادشاہ عمران خان
آج سے 34 سال قبل، 25 مارچ 1992 کو عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے ورلڈ کپ جیتا۔
آج 34 سال بعد 25 مارچ 2026 اندرونی اور بیرونی طاقتوں سے لڑتا امت مسلمہ کا لیڈر اپنی قوم کی حقیقی آزادی کی خاطر ڈٹ کر کھڑا ہے۔
خان کی قیادت جو ہمیشہ بہادری، ایمانداری اور جیت کے عزم کے ساتھ میدان میں اتری ہے اور جیت اس کا مقدر ہے!
انشاء اللہ
#KaptaanAndHisTigers
#ShameOnJudges
افغانستان کی پالیسی پر بولو تو کہتے ہیں افغانستان چلے جاؤ۔
ایران کے معاملے پر بولو تو کہتے ہیں ایران چلے جاؤ۔
کیوں یہ تمہارے باپ کا ملک ہے۔
وزیراعلی سہیل آفریدی 🔥
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his sons on phone from Adiala Jail - (March 21, 2026)