Graduated today with a BA (Hons) in Accounting & Economics from the University of Strathclyde. 🎓
A bittersweet milestone. I dedicate this degree to my sister, Beebow Baloch, whose courage and commitment to human rights continue to inspire me.
This one is for you.
The woman they call a 'criminal' has the support of the entire Balochistan, which has shut down businesses in protest against the illegal life sentence imposed on Baloch leaders. We are all criminals because we, too, stand with the oppressed.
History shows that when the world pays attention together, it becomes harder for abuse of power to stay invisible.
This is the time to stand together against injustice!!
We had a very productive meeting with the @UN Working Group on Discrimination against Women & Girls in #Geneva. A glimpse of the discussion on the illegal life imprisonment sentence imposed on Dr. Mahrang Baloch and BYC leaders, collective punishment, and enforced disappearances.
To the oppressor: your prisons are not big enough to cage an ideology.
You can lock up our leaders. You can terrorize our families. But you cannot hang the truth. And you will never, ever break the resolve of the Baloch people.
#Balochistan
ایک متنازعہ قتل کے مقدمے کو بنیاد بنا کر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی لیکن کیا اسی راجی مچی کے دوران ایف سی کے اہلکاروں کی براہِ راست فائرنگ سے قتل ہونے والے چار نہتے بلوچوں کے قاتلوں کو بھی کبھی عمر قید کی سزا ملی؟ کبھی ان نہتے س��ویلینز کے قتل پر کوئی ایف آئی آر درج ہوئی، کبھی انکے قاتلوں کوکٹھرے میں کسی عدالت نے کھڑا کیا؟ نہیں، کیونکہ ان کے لیے قانون کا معیار مختلف ہے، کیونکہ وردی پہن لینے سے قتل جرم نہیں رہتا، اور قانون صرف مظلوم کے خلاف طاقتور ہو سکتا ہے۔
جولائی 2024 میں ایک پرامن عوامی اجتماع کو روکنے کے لیے پورے بلوچستان کو عملاً محاصرے میں بدل دیا گیا۔ سڑکیں کھودی گئیں، راستے بند کیے گئے، بسوں پر فائرنگ کی گئی، اور پھر نہتے لوگوں پر گولیاں برسائی گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چار افراد اپنی جانوں سے گئے، درجنوں زخمی ہوئے، تین افراد مستقل معذوری کا شکار ہوئے، اور ایک شخص کے سر میں گولی مار کر اسے عمر بھر کی اذیت کے حوالے کر دیا گیا۔
مگر ان قتلوں پر کوئی مقدمہ نہیں۔ ان زخمیوں کے لیے کوئی انصاف نہیں۔ ان معذوروں کے لیے کو��ی احتساب نہیں۔ جنہوں نے عوام پر گولیاں چلائیں، جنہوں نے بسوں کے ٹائر پھاڑے، جنہوں نے گھروں پر دھاوے بولے، جنہوں نے طاقت کے زور پر ایک عوامی اجتماع کو ک��لنے کی کوشش کی، ان میں سے کسی ایک کو بھی قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا، وہ اس لیے کہ اس نظام میں قانون جرم کو نہیں، مجرم کی حیثیت اور طاقت کو دیکھتا ہے۔ اگر آپ کمزور ہیں تو الزام ہی سزا بن جاتا ہے، لیکن اگر آپ طاقتور ہیں تو لاشیں بھی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔
یہاں انصاف کا ترازو برابر نہیں، بلکہ طاقت کے وزن سے جھکا ہوا ہے۔
اور یہی نظام ہیکہ قاتل آزاد ہیں اور مظلوم قید۔
گولیاں چلانے والے محفوظ ہیں اور گولیاں کھانے والے مجرم۔
بندوق والوں کے لیے استثنا ہے اور خالی ہاتھ لوگوں کے لیے عمر قید۔
یہی اس سامراجی اور ہائبرڈ نظام کا اصل چہرہ ہے
اور یہی اسلامی جمہوریہ پ��کستان میں انصاف ہے۔
جس ایک قتل کی پاداش میں ڈاکٹر مارنگ ، شاہ جی اور دیگر لوگوں کو سزائیں دی گئی ہیں کیا بلوچستان میں ہونے والا یہ واحد واقعہ ہے جو قابل جرم اور قابلِ سزا ہے ۱۹۴۷ سے آج دن تک ماروائے آئین قتل جبری گمشدگیاں، م��خ شدہ لاشیں، گھروں کو نذرِآتش کرنا کیا یہ سب جرائم کے ذمرے میں نہیں آتے کیا یہ لوگ اس ملک کے شہری تصور نہیں ہوتے اِن جرائم میں ملوث کتنے لوگوں کو عدالتی کٹہرے میں لایا گیا ہے۔
When decisions are made behind closed doors, without judges, the accused, or their lawyers present, what remains of law, justice, and the Constitution?
For the missing and the victims of extrajudicial killings, it seems these protections are reserved for a select few. Stop mocking democracy and the judiciary. If Balochistan mattered, this is not how its people would be treated. Every day, it is being pushed closer to a point of no return.
The life imprisonment sentence given to Mahrang is deeply shameful&represents a misuse of the law against a voice advocating for the oppressed&for missing persons.The state appears unwilling to listen to those who suffer oppression&to those who have been deliberately marginalized
جس دن ہمارے ساتھیوں کے مقدمات کو فیس لیس ٹرائل میں منتقل کیا گیا، پراسیکیوٹر کی جانب سے ججز پر ٹرائل کو تیز کرنے اور سزا سنانے کے لیے مسلسل زور دیا گیا، اور عدالت کے رویے سے ظاہر ہونے والی بے چینی سامنے آئی، اسی دن ہمیں اندازہ ہوگیا تھا کہ انصاف نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ سزائیں ہمارا انتظار کر رہی ہیں۔
لیکن بلوچ قوم یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرے گی کہ پرامن سیاسی آوازوں کو خاموش کرانے کے لیے صرف پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے، حکومت اور خفیہ ایجنسیاں ہی متحرک نہیں تھیں، بلکہ انصاف کے ایوان بھی اس عمل میں شریک تھے۔ وہی عدلیہ جس سے مظلوموں نے امید باندھی تھی کہ وہ ظلم کے سامنے دیوار بنے گی، اسی نے ظالم کے ہاتھ مضبوط کیے۔ وہی ججز جن پر انصاف کی ذمہ داری عائد تھی، انہوں نے انصاف کا ترازو طاقتوروں کے حق میں جھکا دیا اور یوں آزاد اداروں کے بجائے اقتدار کے اشاروں پر چلنے والی کٹھ پتلیوں کا کردار ادا کیا۔ تاریخ گواہ رہے گی کہ جب مظلوم انصاف مانگ رہے تھے تو ریاست کے مختلف ستون ایک صف میں کھڑے ہو کر ان کی آواز دبانے میں مصروف تھے اور یوں اپنے حق کے ��ئے کھڑے ہونے والے مظلوموں کو عمر قید کی سزائیں دی گئیں۔
It is disturbing to see Karachi police arresting Amna Baloch and others when they were organizing a peaceful walk at Lyari in Karachi today against the abduction, followed by extrajudicial murder, of young Zeeshan Zaheer in Panjgur.
#StateKilledZeeshanZaheer#StopBalochGenocide
This causes goosebumps in my soul. How can one ignore this? These are the children of a land that is known as one of the richest areas in terms of natural resources. Today, they are victims of nature, literally. #OccupiedBalochistan
Read Thread 👇
Family members of Huzair Baloch, a student of BS History at Karachi, call for an #X_Campaign against his illegal detention by law enforcement agencies on June 5, 2025, from Turbat. They urge people to join by using the hashtag #ReleaseHuzairBaloch tomorrow from 8 to 12 at night.
When James Joyce said, “Absence, the highest form of presence,” and May Sarton echoed, “Absence becomes the greatest presence,” perhaps they foresaw moments like this, an empty chair placed in Norway, heavy with meaning, silently honoring Dr. Mahrang. A presence that cannot be erased.
#MahrangBaloch