اس جانور کو گرفتار کرکے پبلک میں عضو تناسل کاٹ دیا جائے تاکہ دوسروں کو عبرت ہو۔
یہ واقعہ قصور کھارہ روڈ شاہ عنایت کالونی میں ہوا ہے۔
https://t.co/ymRqOTxn4X
دنیا کی ہر فوج اپنا سب سے مہلک اور خطرناک ہتھیار لڑائی کے آخر میں استعمال کے لیئے رکھتی ہے اور تب استعمال کرتی ہے جب اُسے یقین ہو کے اس سے بازی پلٹ جائے گی اور معرکے کا اختتام ہو جائے گا۔
مگر افسوس ہے کے گزشتہ 76 سال سے ہمارے لالچی، خودغرض اور بے غیرت جرنیلوں کی یرغمال فوج کا سب سے مہلک ہتھیار عورت کی شرمگاہ رہا ہے۔
فاطمہ جناح پہ لگائی گئی غلیظ تہمت ہو یا بنگالی عورتوں کی نسل بدل دینے کا مشن، بےنظیر کی گندی تصویریں ہوں یا ایک پردہ دار عورت کی ماہواری پہ تحقیقات، ان جرنیلوں اور ٹونیوں کے گندے دماغ کبھی شرمگاہ سے باہر ہی نہیں نکل سکے اور اِس بدنصیب وطن عزیز کا کوئی ایسا سیاسی محاز نہیں جہاں انہوں نے یہ ویپن آف ماس ڈسٹرکشن استعمال نہیں کیا۔
بیرونی محازوں پہ چونکہ حقیقی دلیری اور مردانگی کی ضرورت پڑتی ہے لہذا وہاں سے ہم نے ان جرنیلوں اور ٹونیوں “شجاعت کے زندہ نشانوں” کو ہمیشہ پتلونیں چھوڑ کے چھتر کھاتے واپس آتے دیکھا ہے۔ ہر جگہ جوان افسر اور سپاہیوں کے خون پر یہ جرنیل اور ٹونی عیاشی کرتے چلے آئے۔
شہید یا تو جوان ہوا یا یرغمال ینگ آفیسر یا بمب دھماکے کی زد میں آنے والا بلڈی سوئلین۔ گنتی کے اکا دکا جرنیل حادثوں کا شکار ہوئے یا سازشوں کا۔
ججوں کو کنٹرول کرنا ہو، سرکاری اعمال کو پٹہ ڈالنا ہو، میڈیا طوائفوں کو اپنے اشارے پہ مجرا کروانا ہو یا سیاست دانوں کی شلوار بیچ بازار اتارنی ہو اس ہتھیار کا وار کبھی خالی نہیں جاتا۔ ڈرٹی ہیری کا نام بھی انہی کرتوتوں کے بائث پڑا۔ لوگ اکثر مریم کی فحش فلموں کی لائبریری کی دہائی دیتے ہیں کے کیسے ایک نا اہل، بد زبان مجرمہ نے شرمناک ویڈیوز کے زریعے پورے سسٹم کو یرغمال بنائے رکھا ہے۔ آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کے یہ سب مواد اُسے دیا کس نے؟ اگر آپ واقعی سمجھتے ہیں کے یہ پٹواری ذہنیت کا خاندان حرام کھانے اور بیاہوں شادیوں میں گانے بجانے سے زیادہ کسی کام کی اہلیت رکھتے ہیں تو آپ بھی کوشش کر کے کھوتا بریانی کم کھایا کریں ۔ ان کی کُل اوقات اور ذہنیت خاکی انگلیوں پہ ناچنے والی بوٹ پالشی کٹھ پتلیوں سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔
کرپشن کے کیک میں سے سیاستدانوں کا حصہ ایک پیسٹری سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔ باقی سارا مال خاکی جیبوں میں جاتا ہے۔
پاکستان کی تمام روائیتی سیاسی خاندان اور اکثر نمایاں مُلّے اُن کتوں کی طرح ہیں جو رئیس کی ڈائننگ ٹیبل کے ساتھ مستعد بیٹھے للچائی نظروں سے مالک کو دیکھتے ہیں۔ جب کبھی وہ ادھ کھائی بوٹی ان کی طرف اچھال دے تو یہ فرط جذبات سے نہال ہو جاتے ہیں اور اس قدر دم ہلاتے ہیں کے وڈن فلور سے اسمبلی کے ڈیسک بجانے جیسی آواز آنے لگتی ہے۔ کچھ تو مارے خوشی کے وہیں موتنے بھی لگتے ہیں۔
کرپٹ، بے غیرت اور ریٹائیڈ جرنیلی ٹولہ اپنی چند سال کی سروس اور ایکسٹینشن کے چکر میں اس حد تک گر گیا ہے کے ملکی تاریخ میں پہلی بار عورت کی ماہواری جیسا حساس اور ہمیشہ پردے میں رہنا والا معاملہ زبان زد عام آیا ہے۔ بے شرمی کی یہ چنگاری جو انہوں نے سلگائی ہے اس سے سب کے گھر جلیں گے۔
حیرت اور آفرین ہے خان کے پہاڑ جیسے حوصلے اور عزم کی کہ وہ ان کے اس نیچ حملے کو بھی برداشت کر گیا اور نہیں ٹوٹا۔ ہر قسم کی ڈیل کو انکار کرنے کے بعد وہ 8 فروری کو اپنی قوم سے آس لگائے بیٹھا ہے کہ یہ اپنے ووٹ کی طاقت سے اس گھنونے نظام کا خاتمہ کریں گے۔ اُسے آپ سب پہ اس حد تک یقین ہے کہ اس جنگ میں وہ اپنا سب کچھ داؤ پہ لگا چکا ہے۔
بےغیرتی کے اس ننگے تماشے میں جو سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے وہ فوج کا ہوا ہے کیونکہ یہ باجوے اور منیرے کی زیرکمان اپنے آپ کو ذلت اور نفرت کی اُس گہرائی میں گرا چُکے ہیں جہاں سے اب خان بھی اِن کو نہیں نکال سکتا اور نجانے اب یہ کتنی نسلوں تک یہاں ہی رہیں گے۔
جہاں سے ریحان زیب کا تعلق ہے اِن علاقوں کے اور اس کلاس کے ہزاروں نوجوان عرب امارات اور سعودیہ میں محنت مزدوری کرتے ہیں۔ کوئ خوش قسمت ہو اور اس کی طرح پڑھ لکھ جائے تو وہ یورپ امریکہ بھی چلا جاتا ہے۔ اچھا کما لیتا ہے، اچھا پہن اوڑھ لیتا ہے۔ پیچھے والے سمجھتے ہیں بڑا خوش قسمت ہے مگر وہ تمام عمر ٹکڑوں میں بٹا رہتا ہے۔ جیب میں جتنے بھی ڈالر اور پاؤنڈ آجائیں جب دہلیز پر آگ آتی ہے تو کچھ نہیں دیکھتی کماؤ بیٹے کے بوڑھے ماں باپ اور بہن بھائ، پیچھے رہ جانے والے یار دوست اور غریب عزیز رشتہ دار یکساں دربدر ہوتے ہیں۔ بلا تفریق ٹھوکریں کھاتے ہیں۔
دو سال قبل جب دہشتگردی کی واپسی کے حوالے سے بات کرنا شروع کی تو اپنی پارٹی کے کچھ رہنماؤں اور خیرخواہوں نے روکنے کی کوشش کی۔ کچھ نے خان صاحب سے بھی اپنے خدشات کا زکر کیا۔ کوئ بھی انسان ایسے میں سوچ میں پڑ جائے کچھ لمحے کےلیے مجھے بھی یہ خیال آیا کہ کیا میں واقعی بہت بڑا خطرہ مول لے رہا ہوں؟ کیا ایسا کرنے کہ سوا میرے پاس کوئ چارہ ہے؟ کیا خاموشی میری زندگی کی ضمانت ہوسکتی ہے؟
اور تب مجھے احساس ہوا کہ میرے پاس کوئ راستہ نہیں ہے آواز اٹھانے کے سوا۔ کیونکہ میرے پاس اس ملک کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ مجھ جیسی پاکستان کی چوبیس کروڑ عوام کی جڑیں اس زمین میں گڑی ہیں۔ ہماری شاخیں کہیں بھی پہنچ جائیں یہاں کی لو، خشک سالی، سردی گرمی سب ہم تک پہنچیں گی۔ ہم جیسے جانتے ہیں کہ ہم چپ رہ کر، برداشت کرکے اپنی زندگی کے دو چار دن بڑھا بھی لیں خاموشی، تابعداری ہماری زندگیوں کی ضمانت نہیں ہے۔ کیونکہ ہماری جڑوں نے اس ملک میں رہنا ہے۔ آج نہیں تو کل ہماری زندگیوں کے کسی نا کسی موڑ پر ہمارے اور اس ملک کے سٹیٹس کو کے مفادات ایک دوسرے کے مقابل آئیں گے۔ اور اگر ہم آج اجتماعی طور پر اپنا حق تیاگ دیں گے تو کل ایک ایک کرکے ہمیں اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔
یقین کریں اور یہ حقیقت تسلیم کریں کہ ہم جیسوں، ریحان زیب جیسوں کے پاس کوئ راستہ نہیں ہے آواز اٹھانے کے سوا۔ اب چاہے اس کی قیمت ہم ایک ایک کرکے ادا کریں یا مل کر ایک بار یہ فیصلہ کرکے کہ ہم مزید جنازے نہیں، آواز اٹھائیں گے!
In order to help you finally secure that scholarship position to study in Australia🇦🇺 next year
Here below we have compiled a list of all Australian Universities scholarship pages for international students + other external databases
(Undergrad/MSc/PhD)
Pls retweet
1/n👇
Fully Funded - Deakin University Scholarships in Australia 2023.
Details: https://t.co/y94YdLkmuL
Scholarship Benefits:
📌 Full tuition fee
📌 Living allowance
📌 Thesis allowance
📌 Sick leave (Paid)
📌 Health expenses