یہ اذانیں اس لیے دی جا رہی تھیں کہ ان کو لگا تھا کہ سامنے مسلمان فورسز ہے کم از کم فائر نہیں کریں گے فائرنگ سے بچنے کے لیے یہ اذانیں دی جا رہی تھی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے معصوم بچے بھی ہیں۔
#TLPProtest#FascismUnderAsimLaw#RegimeChangeInPakistan
پاکستان میں عام مظاہرین پر فائرنگ اور جانی نقصان پر امارتِ اسلامی کا اظہارِ افسوس
پاکستان میں "تحریکِ لبیک" نامی جماعت نے احتجاجی دھرنا شروع کیا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ وہ اسلام آباد تک اپنے مطالبات پرامن طور پر، ملکی قانون کے مطابق پہنچائیں۔ تاہم پاکستانی فوج نے مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ اور حملے کیے، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا۔
ہم عام شہریوں کے خلاف اس قسم کے تشدد اور خونریزی پر گہرے افسوس اور دکھ کا اظہار کرتے ہیں۔
ہم جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ اور پورے پاکستانی عوام سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔
ہم پاکستانی حکومت اور متعلقہ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ اپنے عوام کے خلاف طاقت کے استعمال سے احتراز کریں اور مسائل بات چیت اور مفاہمت کے ذریعے حل کریں۔
امارتِ اسلامی افغانستان
۱۴۴۷/۴/۲۱ھ ق — 2025/10/13م
آواز دروں —•—
مرید کے میں پولیس رینجرز اور مظاھرین کے مابین ھونیوالا تصادم نہایت افسوسناک اور دلگیر ھے، مظاھرین اور پولیس اھلکاروں کا بہا خُون نفرت کی نىئ لکیریں کھینچ دیگا ۔ یہ رویے انتہا پسندی کی نىئ لہریں پیدا کر سکتے ھیں ۔۔
اس تصادم سے بچا جا سکتا تھا ۔۔
کل شب حکومت اور ٹی ایل پی کے مابین ھونیوالی بات چیت کو مزید وقت دیا جانا چاھئیے تھا، امن کو مناسب موقع کیوں نہیں دیا گیا ؟کس بات کی جلدی تھی ؟
میں ٹی ایل پی کے طرز ِ سیاست کا حامی نہیں ھوں ،جتھوں کے ذریعے گھیراؤ جلاؤ اور مطالبات منوانے کی سیاست ناقابل قبول ھے ۔۔غزہ میں جنگ بندی ھو جانے کے بعد لانگ مارچ کر کے اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے سامنے احتجاج کا اعلان ناقابل فہم اور بلا جواز تھا ۔
لیکن
انتھک کوشش کر کے مذاکرات کے ذریعے درمیانی راستہ نکالنا اور جید علما ، سیاستدانوں کو بیچ میں ڈال کر ایک دوسرے کو فیس سیونگ دینا اور امن قائم رکھنا ھی درست راستہ تھا !!
ھونیوالا جانی نقصان باتوں یا مالی اعانت سے پورا نہیں کیا جا سکتا۔ یاد رکھیں رِستے زخم ناقابل ِ علاج بن جاتے ھیں ۔۔
درخواست ھے کہ ٹی ایل پی کے گرفتارقائدین کے ساتھ حُسن سلوک سے پیش آیا جاۓ ، تمام زخمیوں کو علاج معالجہ کی مطلوبہ سہولت فراھم کی جاۓ، بامعنی مذاکرات کے ذریعے ٹمپریچر نیچے لایا جاۓ ۔۔
اندرون ِ ملک جنگ چھیڑنے سے گریز کیا جاۓ ،فریقین سے تحمل اور تدبر کی درخواست ھے ۔۔
کاش مکالمے کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کیلئے ھماری پیشگی اپیلوں کو اھمیت دی جاتی لیکن ایسا نہیں ھوا !!!
وفاقی/پنجاب حکومت طاقت کا استعمال فورا بند کرے،مفتی منیب الرحمن صاحب کو ثالث بناکر مذاکرات سے مسلہ حل کرے،انسانی جانوں کے ضیاع کے افسوسناک واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کرائے۔دوسرے طرف ٹی ایل پی کے لیڈرشپ سے بھی اپیل ہے کہ پرامن ،نان وائلنٹ رہ مذاکرات کو ذریعہ بنائے۔
ہم نے ہمیشہ فوج سے پیار کیا آج انہوں نے دو قومی نظریہ ختم کر دیا اذان کے وقت ہمارے بچوں کے سینوں میں گولیاں ماریں ۔تم لوگ را کو ختم نہیں کر سکتے لیکن تم اپنے لوگوں کو ختم کر سکتے ہو ہم علماء کو فون کرتے رہے ہمارے مدد کرو انھوں نے اپنے فون بند کر دئیے تم لوگ کال کو کیسے لوگوں کو اسلام سکھاؤ گے ان بچوں کا خون تمھارے گردنوں پر ہے ۔