جن لوگوں کو طشتری میں رکھ کر اقتدار دیا گیا ہے، وہ تو دھاڑنے کی باتیں ہی کریں گے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت کے لیے عظیم قربانیاں دی ہیں اور جدوجہد کی ہے۔ آج جمہوری نظام کے تسلسل کے لیے ہی ہم پارلیمان میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
ہم نے ماضی کی تلخیاں بھلا کر بڑی رواداری کا ثبوت دیا ہے۔ مگر نواز لیگ کو جب موقع ملا، انہوں نے ہمارا بھروسہ توڑا — کبھی کالا کوٹ پہن کر اور کبھی طے شدہ میٹنگ منسوخ کر کے۔
آج پیپلز پارٹی کی وجہ سے ہی مسلم لیگ (ن) کا وزیرِ اعظم منتخب ہوا ہے۔ ہمارے بغیر تو اسمبلی کا کورم بھی پورا نہیں ہوتا اور قانون سازی نہیں ہو سکتی۔ مگر ان کے طور طریقے میں آج بھی فرعونیت اور رعونت موجود ہے۔
@suno_newshd@_ImranSanaullah
شاید مسلم لیگ (ن) کو آج ہی پتا چلا ہے کہ آزاد کشمیر آزاد ہوا ہے۔ الیکشن قریب ہیں تو الیکٹرک بسیں اور سڑکیں یاد آ گئیں۔
سب سے پہلے الیکٹرک بسیں اور پنک بس سندھ نے متعارف کرائی تھیں۔ بہترین اور مفت ہیلتھ کیئر سسٹم بھی سندھ کا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے قائد کے الفاظ کہ ”کشمیر کو کشمور نہ سمجھو، میرپور کو میرپور خاص نہ سمجھو“ تعصب اور تضحیک سے بھرپور ہیں۔ یقیناً سندھ میں ان کا ووٹ اور وجود نہیں ہے، مگر سندھ وفاق کو ریونیو دیتا ہے، تھر کے کوئلے سے بجلی فراہم کرتا ہے، ملک کی 70 فیصد گیس کی ضروریات پوری کرتا ہے اور فوڈ سیکیورٹی و زرعی شعبے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
نواز لیگ کی ناقص پالیسیوں نے زراعت تباہ کر دی ہے اور گندم کا بحران پیدا کر دیا ہے۔
@suno_newshd@_ImranSanaullah
الیکشن سر پر ہیں تو نواز لیگ کو کشمیر کی ترقی، ایئرپورٹ اور موٹر وے کے خواب یاد آ گئے۔ حیرت ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے قائد کے خواب پورے نہیں کیے اور آج انہیں خود اعلانات کرنے پڑ رہے ہیں۔
جب بارشوں سے پنجاب ڈوبا ہوا ہے، وزیرِ اعلیٰ مریم نواز پنجاب کو نظرانداز کر کے کشمیر میں کھڑی ہیں۔
ان کی کارکردگی تو ہمیں معلوم ہے — پنجاب کے CCD ڈیتھ اسکواڈ سے آسٹریلیا سے آئی ہوئی 9 سالہ بچی بھی محفوظ نہیں رہ سکی۔ غیر ملکی خواتین کے اغوا اور abuse میں ان کے اپنے خاندان کے افراد ملوث ہیں، مگر اس ایشو کو چھپانے کی بھرپور کوشش جاری ہے۔ اس سنگین جرم کی شفاف accountability ہونی چاہیے۔
@suno_newshd@_ImranSanaullah
پاکستان پیپلز پارٹی کبھی قدرتی آفات پر سیاست نہیں کرتی۔ آج جب لاہور اور پنجاب بارش سے تباہ حال ہیں اور صوبے کا drainage سسٹم ناکام ہو چکا ہے، مریم نواز سندھ پر تنقید کر کے پوائنٹ اسکورنگ کر رہی ہیں۔
بلکل، سندھ کو ہم نے پنک اور الیکٹرک بسیں دیں، مفت جدید ہیلتھ کیئر سسٹم دیا اور سائبر نائف ٹیکنالوجی متعارف کرائی۔ آج سندھ کے ہر شہر میں ہمارے ہیلتھ کیئر یونٹس موجود ہیں۔
پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ آج بھی اشتہاری مہم چلا کر اور اپنی تصویر والے بینر لگا کر الیکشن کمیشن کے قواعد کے خلاف سیاسی رشوت کے طور پر الیکٹرک بسیں کشمیر کو دے رہی ہیں۔
پیپلز پارٹی نے کشمیر کی بحالی اور ترقی کے لیے تاریخ ساز کام کیے ہیں۔ پی پی پی حکومت نے 2005 کے زلزلے کے بعد بحالی و تعمیرِ نو کے عمل کو تیز کیا، قانون ساز اسمبلی کی نئی عمارت کا آغاز کیا، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دائرہ وسیع کیا اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے وفاقی فنڈز مختص کیے۔
مسلم لیگ (ن) کو آج یاد آیا کہ کشمیر کو ایئرپورٹ اور الیکٹرک بسوں کی ضرورت ہے۔ مریم نواز ہر چوتھے روز مری جاتی ہیں، مگر کشمیر آج یاد آیا۔
پیپلز پارٹی نے FCR ختم کیا، متفقہ آئین دیا اور گلگت بلتستان کو قانون ساز اسمبلی دی۔ آج بھی حقِ حاکمیت، حقِ ملکیت اور حقِ روزگار کی بات بلاول بھٹو زرداری کر رہے ہیں۔ انٹرنیٹ بندش کے خلاف آواز بھی چیئرمین پیپلز پارٹی نے اٹھائی ہے — ہمیں 2024 کی انٹرنیٹ بندش بھی یاد ہے، جس نے الیکشن کے نتائج اور فارم بدل دیے تھے۔
@suno_newshd@_ImranSanaullah