حسنات ملک 🔥🔥🔥
جس طریقے سے 3 قیدیوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پٹیشن لی جو کہ proxy پٹیشن تھی یہ درخواست فوری لگی فورا ہی خلاف فیصلہ کروا کر آئینی عدالت لے جانا پلان کا حصہ تھا تاکہ 16 ستمبر سے پہلے سپریم کورٹ کی پیشی سے پہلے آئینی عدالت سے فیصلہ کروانا مقصود تھا جو کہ آج ہوگیا۔
انا للہ وانا الیہ راجعون عدلیہ
3 ججز کو تو ساری دنیا ہی جانتی یے اور انکے فیصلوں سے بھی سب واقف ہیں کہ جسٹس امین الدین خان، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس باقر نجفی کے انصاف سے کون واقف نہیں ہے۔
میرا کالم/رئوف کلاسرا
ابھی تو بہت کچھ ہونا باقی ہے
جب سے وزیرداخلہ محسن نقوی نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلی مریم نواز کا سر عام پرفارمنس آڈٹ کیا ہے‘ اس کے بعد وفاقی وزیروں میں مایوسی اور غیریقینی بڑھی ہے۔
ان کا خیال تھا کہ اس پارٹی نے پرویز مشرف کے دور میں سخت ترین مشکلات دیکھیں لیکن پھر بھی ڈٹے رہے اور جھکے نہیں۔ لیکن اب جس طرح ایک وزیر نے سرعام اپنے ہی وزیراعظم کی کارکردگی کا پوسٹ مارٹم کیا اور وہ سب چپ رہے‘ اس سے پارٹی کے اعتماد اور قد کاٹھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
پارٹی کے اندر خوداعتمادی کا بحران ہے اور میرے ذرائع یہ بتا رہے ہیں کہ سات سے آٹھ ایسے وزیر ہیں جو ابھی سے ادھر ادھر دیکھنا شروع ہوگئے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ موجودہ سسٹم شاید زیادہ دیر نہ چل سکے‘ لہٰذا کچھ نے ابھی سے خود کو مستقبل کے سیٹ اَپ کے ساتھ جوڑنے کے لیے کچھ نہ کچھ سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔
انہیں لگتا ہے کہ نواز شریف صاحب کی سیاست کا محور ان کی صاحبزادی ہیں اور اب وہ اس سے ہٹ کر کچھ سوچنے یا کرنے کو تیار نہیں۔ ان کا اگلا ہدف مریم نواز کو وزیراعظم بنوانا ہے۔
یہی کوشش آصف زرداری بلاول بھٹو کے لیے کررہے ہیں۔ لیکن (ن) لیگ کے کچھ اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر آپ عوامی سطح پر اپنی حمایت اس طرح کھو بیٹھیں‘ جیسے موجودہ صورتحال ہے تو آپ کے وہ طاقتور دوست بھی آپ کو وزیراعظم نہیں بنوا سکیں گے جن پر آپ تکیہ کر کے بیٹھے ہیں۔
سیاستدانوں نے 2008ء سے 2017ء تک کچھ سپیس لی تھی اور مقتدرہ بڑی حد تک پیچھے ہٹ گئی تھی اب وہ سپیس دوبارہ مقتدرہ نے لے لی ہے۔ بلکہ یوں کہیں کہ شہباز شریف نے بخوشی سب کچھ ان کی جھولی میں ڈال دیا اور وہ سب بھی ڈال دیا ہے جو انہوں نے شاید مانگا بھی نہیں تھا
مکمل کالم لنک
👇
https://t.co/jVqWQJPBR2
@roznamadunya
' بدقسمت قیدی'
تین قیدی جنہوں نے 22 اگست کو اسلام آباد ہائی میں درخواستیں دائر کیں کہ ان کو بھی عمران خان کی طرح پرائیویٹ ہسپتال علاج کے لیے شفٹ کریں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فوری ان کا معاملہ اٹھایا تاہم ان کی استدعا مسترد کر دی۔ تینوں قیدی اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہی انٹرا کورٹ اپیل دائر کرنے کے بجائے سیدھے آئینی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں ۔پہلے تو آئینی عدالت بھی ان پر مہربانی کرتی ھے اور گرمیوں کی آخری چھٹی والے دن کیس فکس کر دیتی ھے ۔اگلے دن کے لیے اٹارنی جنرل کو نوٹس کردیا جاتاہے ۔ تاہم بدقسمتی سے آئینی عدالت بجائے ان کی فوری داد رسی کرتی ایک اور قیدی (عمران خان) کے کیسز کا ریکارڈ منگوا لیتی ھے اور معاملہ غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہو جاتا ھے ۔
تینوں قیدی خود بھی پرائیویٹ ہسپتال شفٹ نہ ہوسکے نہ ایک اور قیدی (عمران خان) جن کی منتقلی کا امکان تھا اس کو بھی نہ ہونے دیا ۔
کیا کسی سزا یافتہ قیدی کا بیرون ملک علاج کے لیے جانا ۔۔ پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال ملتی ہے ؟؟؟؟ اعظم نذیر تارڑ صاحب کیا باقی قیدیوں کو بھی یہ سہولت حاصل ہے تھی یا ہو گی ؟؟؟ پھر اس قیدی کا واپس بھی نہیں آنا اور یہاں اشتہاری ہو جانے کی کوئی مثال ملتی ہے ؟؟؟؟
🚨 حفیظ اللہ نیازی صاحب کی نظر میں پاکستان کا اصل کرائسز اور اس کا حل
پاکستان کا اصل کرائسز یہ ہے کہ پورے عوام کراچی سے چترال تک اور بلوچستان تک اس جماعت تحریک انصاف کے ساتھ ہیں جس کو سیاست میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے،
پاکستان کی عوام موجودہ نظام کے لیے اجنبی ہو چکی ہے ،
جب ملک کی اکثریت نظام کا حصہ نہ ہو اور اپنے ہی ملک میں اجنبی کے طور پر رہ رہی ہو تو معاملات کیسے چلیں گے؟
جمہوریت کا مطلب ہوتا ہے بائی دا پیپل ، جمہور کی آواز ،اکثریت کی آواز،
مگر جب اکثریت آپ کے ساتھ آن بورڈ نہ ہو ، سنک نہ ہو ،
تو اصل کرائسز یہ ہے اس کو حل کریں،
اکثریت آپ سے ناراض ہے اس لیے وہ تخریب کاری کرنے والوں کو بھی سپورٹ کرتے ہیں کہ پاکستان کو تکلیف پہنچے ،
آپ کو یہ سوچنا ہوگا کہ اس ناراض اکثریت کو آن بورڈ کیسے کرنا ہے؟ ان کو کاٹ کر بحیرہ عرب میں نہیں پھینک سکتے،
پاکستان سے الگ نہیں کر سکتے ،
عمران خان کے ساتھ شاید سب سے زیادہ اختلافات میرے ہوں لیکن ہم زمینی حقائق کو کیسے جھٹلا سکتے ہیں؟
عمران خان کو آن بورڈ کیے بغیر معاملات نہیں چل سکتے ،
جائیں اور جیل جا کر اس سے بات کریں، عمران خان سے کہیں کہ ہمیں ملک کی خاطر آپ کی مدد چاہیئے،
خان سے کہیں کہ خدا کے واسطے ہم آپس میں بعد میں نمٹتے رہیں گے لیکن اس وقت ملک کی خاطر ہمیں اپنی مدد دیں،
اگر عمران خان یہ مدد دے دیں تو یہ ان کی مہربانی اور بڑا پن ہے ،
حفیظ اللہ نیازی صاحب کی مہرین منان کے پروگرام میں گفتگو
اس سے بڑا زوال شریف خاندان کا کیا ہوسکتا ہے کہ جو فیملی چالیس پچاس سال سے سیاست/اقتدار میں ہے۔جس خاندان میں تین دفعہ کا وزیراعظم نواز شریف،دو دفعہ کا وزیراعظم شہباز شریف، (دونوں معتدد بار وزیراعلی) بیٹا حمزہ وزیراعلی اور اب بیٹی مریم نواز وزیراعلی ہو لیکن ان سب پر جمعہ جمعہ آٹھ دن کا وزیر سنگین چارج شیٹ پڑھ کر سب کو لپیٹ دے اور آپ کچھ نہ کر پائیں۔ بے بسی کی تصویر بنیں رہیں۔
شریف خاندان پر بڑے مشکل وقت آئے ہوں گے لیکن اس سے بڑا سیاسی مشکل وقت کبھی نہ آیا ہوگا کہ انہیں اپنے ہی وزیر محسن نقوی کی سننی پڑ گئی ہیں اور آپ وزیراعظم ہو کر کچھ نہ کر پائیں۔
مکمل پروگرام لنک
👇
https://t.co/upzbAgzCl2 via @YouTube@NeoNewsUR@fawadnb@RabeeaSK@NasrullahMalik1
پی پی پی اور ن لیگ کے ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات پر وہ ججز کیا سوچ رہے ہوں گے جو موجودہ اسمبلی کی منظور شدہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کے بعد beneficiary بنے اور اہم عہدوں پر براجمان ہوئے ہیں ۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کے بقول اب ہائبرڈ نظام چل رہا ھے۔ آج وزیر داخلہ نے کہا کہ موجودہ نظام تباہ ہوچکا ھے ۔ تاہم موجودہ 'تباہ شدہ' نظام کو تقویت دینے کے لیے عدلیہ میں بیٹھے چند ججز کا رول ہمیشہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔۔
اللّٰہ تعالیٰ کو رعونت اور تکبر پسند نہیں جنرل پرویز مشرف اپنے دور کا بہت طاقتور حکمران تھا کہتا تھا بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو پاکستان واپس نہیں آنے دیگا پھر وہ وقت آیا کہ انہیں خود جلاوطنی اختیار کرنی پڑی اور جلاوطنی میں وفات پائی افسوس کسی نے مشرف کے انجام سے سبق نہیں سیکھا
یہ”ہارڈ سٹیٹ “ کی تھیوری پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہی ہے۔ جِس خِطہ میں مختلف قومیں اور زبانیں بولنے والے لوگ ہوں وہاں ہارڈ سٹیٹ نہیں بنا کرتے۔ ہم مصر و چین نہیں اور نہ ہی شمالی کوریا۔ یہاں صرف ایک دوسرے سے تعاون کی بنیاد پر ہی ریاست چل سکتی ہے اور افراد اور قوموں کے درمیان تعاون کا ہی دوسرا نام آئین ہے۔
آزاد کشمیر ، بلوچستان ، خیبر پختونخواہ لہو لہان ہیں۔ آزادیاں چھین لی گئی ہیں۔ الیکشن بے معنی ہو گئے ہیں اور معیشت تباہ حال ہے۔ یہ”فیلڈ سٹیٹ “ کی نشانیاں نہیں تو اور کیا ہے؟ ہمیں ہارڈ سٹیٹ کی نہیں ، ایک آئینی سٹیٹ کی ضرورت ہے۔ لوگوں اور قوموں کے حقوق کی ضامن۔
ہر بات کا جواب جیل یا گولی نہیں ہوتا۔ عقل کو ہاتھ دیں، پاکستان کسی بڑے سانحہ”Implosion “ سے اَب کُچھ زیادہ دور نہیں۔
یہی رانا ثناء اللہ جب عمران خان دور میں جیل میں تھے تو ان کا سارا مقدمہ اسی میڈیا نے لڑا جس پر آج تبرہ پڑھ رہے ہیں۔ اگر میڈیا ان کے ساتھ کھڑا نہ ہوتا، ان کا ایشو نہ اٹھاتا تو خان صاحب نے کم از کم چودہ برس سزا انہیں دلوا دینی تھی۔
رانا صاحب اے این ایف کی جیل سے انہی ٹی وی اینکرز کو جو درد بھرے خطوط لکھتے تھے وہ آج بھی پڑھیں تو آنکھوں میں آنسو آجائیں۔اب اقتدار ملا ہے تو زرا رعونت ملاحظہ فرمائیں۔ ڈانٹ ڈپٹ دیکھیں۔ کل کو وقت بدلا تو پھر یہ مظلوم بن کر انہی اینکرز کو خطوط لکھ رہے ہوں گے۔
فرماتے ہیں سندھ میں 3000 ارب کی پی پی پی کرپشن پر جو انہوں نے کہا اس پر میڈیا ان سے سوال نہیں کرسکتا۔ مطلب تین ہزار ارب کرپشن جس کا دعوی رانا ثناء اللہ نے خود کیا وہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کا “ذاتی معاملہ” ہے اس سے میڈیا کا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ وہ آپس میں طے کر لیں گے۔
یہ سب سیاستدان اپوزیشن میں مظلوم بن جاتے ہیں۔ اقتدار میں سیدھا گلہ پکڑ لیتے ہیں۔ پہنچانے نہیں جاتے کہ یہ بھی مظلوم تھے۔ درست کہتے ہیں مظلوم کو جب پاور ملتی ہے تو اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں بنتا۔
کوئی اور صوبہ برداشت نہیں کرے گا کہ اس کی 12سیٹوں کا الیکشن دوسرے صوبے میں ہو، مجھے نہیں پتہ آپ نے اتنا عرصہ کیسے برداشت کیا؟ بلاول بھٹو کا آزاد کشمیر والوں سے سوال
اب ایک سوال میرا ہے، یہی بلاول والا جملہ بولنے پر ایک آزاکشمیر کا شہری غدار کیوں بنا دیا جاتا ہے؟