تاریکیوں میں ہم جو گرفتار ہو گئے
شاید سحر سے پہلے ہی بیدار ہو گئے
یہ کون سا مقام رہ و رسم ہے کہ وہ
اتنے ہوئے قریب کہ بیزار ہو گئے
منزل کی سمت تجھ کو نہ لے جائیں گے کبھی
وہ راستے جو آپ ہی ہموار ہو گئے
ناکامیوں نے اور بھی سرکش بنا دیا
اتنے ہوئے ذلیل کہ خوددار ہو گئے
مرے چارہ گر تجھے کیا خبر !
جو عذاب ہجر و وصال ہے۔۔
یہ دریدہ تن یہ دریده من تری چاہتوں کا کمال ہے۔۔
مجھے سانس سانس گراں لگے۔۔
یہ وجود وہم و گماں لگے۔۔
میں تلاش خود کو کروں کہاں؟
مری ذات خواب و خیال ہے۔۔
جسے پھول دینے کی عادت ہو،
اس کے ہاتھ میں کچھ خوشبو لازمی ره جاتی ہے
جو دوسروں کے لیے آسانی بنے،
اللہ اس کے لیے راستے آسان کر دیتا ہے۔
جو محبت بانٹتا ہے،
وہ خالی ہاتھ نہیں لوٹتا
کیونکہ نیکی کی خوشبو
سب سے پہلے اپنے ہی دل کو مہکا دیتی ہے۔
ایک بات کہوں ؟؟؟
زندگی میں کبھی کسی کو
اپنا بے حد خیال رکھنے نہ دینا
کوئی اہمیت دے رہا ہو
فکر کر رہا ہو تو اسے روک دینا
کیونکہ بے حد محبت فکر جتلانے والے
جب بدل جاتے ہیں ناں تو
ہم نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں
ہماری روح پل پل اذیت میں رہتی ہے ۔۔
ثم سمجھتے ہو بچھڑنا آسان ہے
نہیں۔ ہرگز نہیں...
زندگی بے رنگ ہو جاتی ہے،
چہرہ بے نور ہو جاتا ہے،
آنکھیں یعقوب ہو جاتی ہیں
اور عیدیں محرم ہو جاتی ہیں۔
پھر ا نسان
کو قبرستان سے ڈر نہیں لگتا
بلکہ قبرستان کی
مٹی سے بھی عشق ہو جاتا ہے۔