जिस वक़्त 'हिटलर' इन यहूदियों को गाजर मूली की तरह काट रहा था.. अगर उस वक़्त नंगे-भूके यहूदियों को फ़िलिस्तीन गले नहीं लगाता तो आज यह दिन नहीं देखने पड़ते !
ایک آدمی اپنی بیٹی کی پیدائش پر سخت پریشان دکھائی دے رہا تھا، حضرت امام صادق نے یہ دیکھ کر فرمایا " ارے تم بہتر سمجھتے ہو یا اللہ ! امام نے فرمایا اللہ نے جو تمہارے لئے بہتر سمجھا وہ تمہیں عطا کیا
امام معصوم علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ بعض مردوں کی آنکھیں بند ہوتی ہیں اور بعض کی کھلی ہوئی ہوتی ہیں؟ آپ نے فرمایا ” جب ان میں سے کسی ایک پر موت آتی ہے تو بوقت موت اس کی آنکھیں کھلی تھیں اس لئے وہ کھلی رہ گئیں اسے بند کرنے کی فرصت ہی نہیں ملی اور جن کی
میں ایک دن ہوائی جہاز میں سفر کر رہا تھا کہ دوران سفر کیپٹن نے اعلان کیا کہ ہم چند منٹوں میں ائر پورٹ پر اترنے والے ہیں میں نے اس سے کہا کہ آپ نے انشا اللہ کیوں نہیں کہا، اس نے کہا، جہاز کے کمپیوٹر نے ہمیں وقت ، سفر اور فاصلے کے بارے میں سب کچھ بتا دیا ہے اب انشاء اللہ کہنے
کی کیا ضرورت ہے۔ میں نے کہا: یہ جو آئے دن جہاز گرتے رہتے ہیں کیا ان میں کمپیوٹر نہیں ہیں آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالی کا ارادہ تمہارے کمپیوٹروں کا محتاج نہیں ہے۔ اُس نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد اعلان کیا۔ ہم
انشاء اللہ تھوڑی دیر بعد ائر پورٹ پر اترنے والے ہیں اس پر میں نے
حضرت امام صادق فرماتے ہیں کہ جب امام علی نے مسجد نبوی میں حالت رکوع میں سائل کو انگوٹھی دی تھی تو اس پر سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۵۵ آیت ولایت نازل ہوئی کہ تمہارا اولی صرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ ہیں جو حالت رکوع میں زکوۃ دیتے ہیں اس واقعہ کے بعد لوگوں نے اپنے آقا و مولا (
شیطان کا کام صرف وسوسے ڈالنا ہوتا ہے کسی پر مسلط ہونا نہیں ہوتا (لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن) جب لوگ قیامت کے دن شیطان کو لعنت ملامت کریں گے تو وہ کہے گا: میں نے تو تمہیں گناہ کی دعوت دی تھی گناہ پر مجبور تو نہیں کیا تھا۔