میں نے جب بھی کسی باادب اور شائستہ انسان کو دیکھا، اسے درد، تکلیف اور حساسیتِ دل میں مبتلا ہی پایا۔ ہمیشہ میرے دل میں یہ تجسس رہا کہ اس خوبصورتی کے پسِ پردہ کیا ہے۔ پھر مجھے معلوم ہوا کہ ان میں سے اکثر کے درد نے ہی ان کی روحوں کو تہذیب سکھائی ہے
میں نے ایک محقق کا نام اور اسکی کتاب کا حوالہ دیکر بات کی اس محقق نے فرانس اور امریکا میں بیٹھ کر تحقیق کی اب آپ موضوع بدل رہے ہیں تحقیق میں فکری دیانت بھی اہم ہے فکری تعصب کی بنیاد پر زبردستی ایک رائے کو تحقیق بنا کر تھوپنا تحقیق نہیں کہلاتی دلیل نہ رہے تو عقیدے کو طعنہ بنانا rationalism نہیں self-deception کہلاتا ہے
آپ ڈاکٹر محمدحمیداللّٰہ کے خطبات بہاولپور پڑھیں انہوں نے اپنے پہلے خطبے میں قرآن مجید کی تاریخ بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ پہلا قرآن مجید حضرت زید بن ثابت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے کیسے لکھا تھا مزید یہ کہ حضرت عثمان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے دور میں لکھا جانا والا ایک نسخہ تاشقند میں محفوظ ہے جس پر انکے خون کے دھبے بھی موجود ہیں دوسرا امریکا، تیسرا برطانیہ، چوتھا مصر پانچواں ترکی میں محفوظ ہے۔قرآن مجید پرانی کتابوں میں نہیں لاتعداد حفاظ کے دل ودماغ میں محفوظ تھا محفوظ ہے اور محفوظ رہے گا
رفتار راستہ طے کرتی ہے،
مگر __
صحیح سمت ہمیشہ منزل تک لے جاتی ہے ...!!✨
دعا ہے رات سکون سے گزرے اور صبح خیر، امید اور خوشیوں کے ساتھ طلوع ہو۔آمین
#شب_بخیر
Esto es lo que ocurre en tu cerebro y en tu sistema inmune con un solo beso 💋 se liberan neurotransmisores que reducen el estrés y fortalecen la conexión.
چمکتے چاند کو ٹوٹا ہوا تاره بنا ڈالا
میری آوارگی نے مجهـ کو آواره بنا ڈالا
بڑا دلکش، بڑا رنگین ہے یہ شہر، کہتے ہیں
یہاں پر ہیں ہزاروں گهر، گهروں میں لوگ رہتے ہیں
مجهے اس شہر نے گلیوں کا بنجاره بنا ڈالا
میں اس دنیا کو اکثر دیکھ کر حیران ہوتا ہوں
نہ مجھ سے بن سکا چهوٹا سا گهر، دن رات روتا ہوں
خدایا! تُو نے کیسے یہ جہاں سارا بنا ڈالا
میرے مالک! میرا دل کیوں تڑپتا ہے، سلگتا ہے
تیری مرضی، تیری مرضی پہ کس کا زور چلتا ہے
کیسی کو گل، کسی کو تُو نے انگاره بنا ڈالا
یہی آغاز تها میرا، یہی انجام ہونا تها
مجهے برباد ہونا تها، مجهے ناکام ہونا تها
مجهے تقدیر نے، تقدیر کا مارا بنا ڈالا
میری آوارگی نے مجھ کو آواره بنا ڈالا .
🍁
میرا اک کزن جس نے ابھی ابھی میٹرک کر لیا ہے ۔
جب سکول بند تھے تو میں نے سوچا کہ اسے پڑھا دیا کروں گا۔
اک دن اسکو انگلش کا ایک پیرا گراف یاد کرنے کیلئے دیا اور میں خود موبائل پہ مصروف ہوگیا ۔
وہ زور و شور سے ہل ہل کے پیراگراف یاد کرنے لگا، اچانک ایک لفظ پروہ رک سا گیا اور پھر اسے رٹے والے انداز میں بار بار دہرانے لگا
پھسائی چلو جی ،پھسائی چلو جی ، پھسائی چلو جی
میں حیران اور پریشان ہو کر دیکھا کہ اس پورے پیرے میں ایسے کوئی لفظ ہے ہی نہیں یہ کیا کہے جا رہا یے ؟ پھسائی چلو جی ، پھسائی چلو جی موبائل سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا اور کہادکھاؤ مجھے یہ پھسائی چلو جی کہاں ہے ؟ اور جب اس نے انگلی کے اشارے سے مجھے دکھایا تو وہ لفظ Psychology تھا ۔ 😢
اور میرے پسینے اس وقت چھوٹ گئے جب دو دن پہلے آنجناب کو میٹرک کے امتحان میں 1100 میں سے 1037 نمبر مل گئے ۔ 🙄
میں تم سے کیسے محبت کرتی ہوں؟
میں تم سے کیسے محبت کرتی ہوں؟
(الزبتھ بیریٹ براؤننگ کی نظم "How Do I Love Thee?" سے ماخوذ منظوم اردو ترجمہ)
میں تم سے کیسے محبت کرتی ہوں؟ آؤ، گن کر دیکھتے ہیں،
دل کے سارے رازِ الفت آج کھل کر دیکھتے ہیں۔
جتنی گہرائی، وسعت، جتنی بلندی روح پائے،
ہستیوں کے آخری ساحل جہاں خاموشی سمائے،
اتنی ہی بے حد محبت میرے دل میں تم بسے ہو،
میرے ہر احساس کے روشن سفر میں تم رچے ہو۔
جیسے ہر دن کی ضرورت، نرم دھوپ اور شب کا دیا،
ویسے ہی ہر سانس میں تم، ویسے ہی ہر پل کا دیا۔
میں محبت یوں کروں جیسے سچائی کا سفر ہو،
بے غرض، بے خوف، جیسے حق پہ قائم ہر بشر ہو۔
میں محبت یوں کروں جیسے عبادت بے ریا ہو،
جس میں خواہش نام کی بھی کوئی ہلکی سی صدا ہو۔
اپنے گزرے سب دکھوں کی ساری شدت لے کے چاہوں،
بچپنے کے پاک ایماں کی حرارت لے کے چاہوں۔
جو عقیدت کھو گئی تھی وقت کی گردِ سفر میں،
وہ بھی لوٹ آئی ہے آ کر تیری چاہت کے اثر میں۔
اپنی ہر مسکان، ہر آنسو، ہر اک سانس کے ساتھ،
زندگی کے ہر قدم پر، ہر خوشی، ہر آس کے ساتھ۔
اور اگر رب نے اجازت دی، کرم کی چھاؤں دی،
موت کے اُس پار بھی میری محبت اور بڑھے گی۔
اردو ترجمہ : قاسم رومی
#ReflectionsbyFatima
تم اس درد کی کیفیت کیسے بیان کر سکتے ہو؟
جس میں تم بولنا چاہتے ہو !
چیخنا چاہتے ہو!
شور مچانا چاہتے ہو!
اتنی شدت سے اپنا درد بیان کرنا چاہتے ہو کہ برسوں
سے بہرے لوگ بھی تمہاری آواز سننے لگ جائیں!
مگر تم بول نہ پاؤ
چیخ نہ سکو!
تمہاری آواز حلق میں اٹکی رہ جاۓ
تمہارا درد آنکھوں کی نمی بن کر تمہاری پلکوں کو بھگو جائے
اور تم بس مسکرا کر رہ جاؤ!
اس ازیت کو کوئی نہیں سمجھ سکتا!
#Yaad_e_Jani #Urdu_poetry #poetry
یہ گانا تقریبا پندرہ سال پرانا ہے۔ کیا آپ یقین کر سکتے ہیں؟ مگر آج بھی اسکے بول اتنے ہی سچے، موزوں اور حالات کے عین مطابق محسوس ہوتے ہیں!
بس اپنی زندگی کے پانچ منٹ نکال کر اسے ضرور سنیے۔ جیسے اسکے بول ہیں:
"اُٹھ جوانا، تیرا مُلک ڈُبیا۔"
اسے سنتے ہوئے بھی میرا دل رو پڑا ہے۔
دعا میں التجا نہیں، تو عرض حال مسترد
سرشت میں وفا نہیں، تو سو جمال مسترد
ادب نہیں، تو سنگ و خشت ہیں تمام ڈگریاں
جو حُسن خلق ہی نہیں، تو سب کمال مسترد
عبث ہیں وہ ریاضتیں، جو یار نہ منا سکیں
وہ ڈھول تھاپ بانسری، وہ ہر دھمال مسترد
#اردو_زبان