رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
جنت میں ایسے لوگ داخل ہوں گے جن کے دل پرندوں کے دلوں کی مانند ہوں گے۔
(یعنی نرم دل، پاکیزہ اور توکل کرنے والے ہوں گے)
صحیح مسلم، 7162
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
جس کو دنیا کی فکر لگی ہو تو اللہ تعالیٰ اس پر اس کے معاملات کو پراگندہ کر دے گا، اور محتاجی کو اس کی نگاہوں کے سامنے کر دے گا، جب اس کو دنیا سے صرف وہی ملے گا جو اس کے حصے میں لکھ دیا گیا ہے، اور جس کا مقصود آخرت ہو تو ⬇️
اور جب آدمی کوتکلیف پہنچتی ہے تولیٹے ہوئے اور بیٹھے ہوئے اور کھڑے ہوئے (ہرحالت میں ) ہم سے دعا کرتا ہے پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو یوں چل دیتا ہے گویا ۔۔۔⬇️
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
جس کو دنیا کی فکر لگی ہو تو اللہ تعالیٰ اس پر اس کے معاملات کو پراگندہ کر دے گا، اور محتاجی کو اس کی نگاہوں کے سامنے کر دے گا، جب اس کو دنیا سے صرف وہی ملے گا جو اس کے حصے میں لکھ دیا گیا ہے، اور جس کا مقصود آخرت ہو ...⬇️
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
تم میں سے کوئی شخص مومن نہ ہو گا جب تک اس کے والد اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ اس کے دل میں میری محبت نہ ہو جائے۔
صحیح بخاری، 15
عبداللہ بن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے منبر کے زینے سے فرمایا:
لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آ جائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔
سنن نسائی، 1371
*ہم دو ارب مسلمان ڈیڑھ کروڑ یہودیوں کے سامنے بے بسی کے ساتھ کھڑے اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔*
اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں اس حال سے جلد نکلنے میں ہماری مدد فرمائے۔ آمین
ڈیڑھ کروڑ یہودیوں کے دو ارب مسلمانوں پر غلبہ پانے کی وجہ:
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
قریب ہے کہ دوسری قومیں تمہارے خلاف اس طرح متحد ہو کر ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالے پر (دوسروں کو) بلاتے ہیں۔
⬇️
اور دنیا کی محبت میں ڈوب چکے ہیں،ہمیں ہر وقت اس دنیا کی نعمتوں کے چھن جانے اور موت کا خوف ہے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہر قوم ہم ہر ٹوٹ پڑی ہے جبکہ ہمارے پاس *وسائل کی کوئی کمی نہیں*، دشمنوں کے دلوں سے مسلمانوں کا خوف ختم کر دیا گیا ہے اور رسوائی ہمارے اوپر مسلط کر دی گئی ہے۔⬇️