@SanaullahDawn ڈیجیٹل نما چینلز میں لڑکیوں کو ڈبل تنخواہیں دی جارہی ہے یہاں تک کہ انٹرنیشنل میڈیا کےساتھ کام چھوڑ کر لوکل ڈیوٹی کی جا رہی ہے اردو رپوٹرز،بیٹ رپورٹرز تجزیہ نگار، انگلش رپوٹرز اور کوئی سی ای او کے ساتھ پروگرام میزبان
میڈیا عنقریب ختم ہو رہا ہے، عوامی پیسوں پر یہی چیز چلے گی
@MeFaheem بلوچستان سے لیکر پشاور تک ساری توجہ اسی پہ ہے کوئی سی ای او کےساتھ ڈائریکٹ میزبان اینکر بن جاتی ہے جب رنگ ریٹ ٹھیک ہو کوئی انگلش میں رپورٹر، انٹرنیشنل ادارے سے بھی استعفے ڈبل تنخواہ اسٹارٹ، عجیب تماشا ہے اس ملک کے عوام کے پیسوں کے ساتھ