اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر
حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر
وہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہے
ڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گرا کر
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
اے دل تجھے دشمن کی بھی پہچان کہاں ہے
تو حلقۂ یاراں میں بھی محتاط رہا کر
شاعر: محسن نقوی
@aqsa_here384 سنا تھا فرشتے جان لیتے ہیں
خیر چھوڑو۔۔۔ اب انسان لیتے ہیں
عشق نے ایسی شناخت بخشی ہے
لوگ اب دور سے پہچان لیتے ہیں
دین تو بڑی انمول چیز ہے خدا ک��
لوگ اس کا بھی دان لیتے ہیں