فالورز بڑھانے کا شاندار اور خوبصورت موقع!!!
مجھے ایسے ٹویٹر اکاؤنٹس کی تلاش ہے جو ٪100
فیصد فالو بیک کرتے ہوں۔
میرے ساتھ جُڑنے پر میرے9K سے زائد فالورز آپ کو فالو بیک کریں گے جو کہ سب ایکٹو فالورز ہیں۔
اس پوسٹ کو ری ٹویٹ لازمی کریں، کمنٹ سیکشن میں ہینڈل مینشن کریں
الحمدللّٰہ اس وقت پاکستان کے تمام بڑے چھوٹے شہر عمران خان کی کال پر کراچی بن چکے کروڑوں لوگ سڑکوں پر ہیں ۔۔۔ وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ۔۔۔ #امپورٹد_حکومت_نامنظوز
کنگڈم ویلی راولپنڈی
پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ اٹھارٹی سے منظور شدہ
اسلام آباد لاہور موٹروے M2 چکری انٹرچینج پر واقع
اسلام آباد نیو ائیرپورٹ کے قریب ترین
سات مرلہ، دس مرلہ اور ایک کنال کے خوبصورت رہائشی پلاٹس چار سال کی اقساط پر دستیاب ہیں
#KingdomValley#AZRealEstate
پنجاب ہاؤسنگ اٹھارٹی سے منظور شدہ
اسلام آباد - لاہور موٹروے M2 کے اوپر
راولپنڈی کی خوبصورت لوکیشن پر
چکری انٹرچینج پر نیو ائیرپورٹ کے بالکل پاس
سات مرلہ، دس مرلہ اور ایک کنال کی بکنگ جاری ہے
#kingdomvalleyislamabad#NayaPakistanHousingScheme#AZRealEstate
0349 3413476
یہ اناڑی ہر چیز مہنگی ہونے کے باجود 17 کروڑ میں فی کلومیٹر بنا رہا ہے۔ ہمیں یہ اناڑی حکمران نہیں چاہیے۔ قوم کو پھر سے تجربہ کار حاکموں کی ضرورت ہے۔
تحریر محمد ناصر صدیقی
#M_Nasir_Saddeqi#قلمکار
تجربہ کار کروڑوں لگاتے تھے وہاں یہ لاکھوں میں کام چلا لیتا ہے ۔ پتہ نہیں اس کا ہر دورہ تجربہ کاروں کے دوروں سے آدھی قیمت میں ہی کیوں پڑتا ہے۔ مجھے تو یہ بلکل ہی اناڑی لگتا ہے۔ اب دیکھیے نا جو موٹروے فی کلومیٹر ن لیگ 37 کروڑ دو لاکھ میں بناتی تھی وہی موٹروے
سارا جرمانہ معاف کروا دیتا ہے بلکہ منافعے کے پورے 50 فیصد شیئر کے ساتھ نیا معاہدہ بھی کر ڈالتا ہے۔
پتہ نہیں یہ کیسا اناڑی ہے جو نہ صرف پاکستان کو بیرونی مشکلات سے نکال لیتا ہے بلکہ اپنے ملک میں پرائیویٹ کمپنیوں سے ہوئے کئی مہنگے معاہدے ریوائز کر چکا ہے۔ جن غیر ملکی دوروں پہ
2018 میں ایک اناڑی کی حکومت آتی ہے تو وہ عالمی عدالت سے وقت لیتا ہے اور کیس کو مضبوط کرتا ہے ۔ دلائل کی بنیاد پہ عدالت 2019 میں جرمانہ آدھا کر دیتی ہے جو چھ بلین ڈالر بنتا ہے لیکن اناڑی تو اناڑی ہوتا ہے۔ وہ کمپنی کو دوبارہ اپروچ کرتا ہے اور آخر کار طویل مذاکرات کے بعد نہ صرف
عدالت پہنچتی ہے اور اتفاق سے یہ معاہدہ کینسل کرنے کا سہرا بھی افتخار چودھری صاحب کے سر سجتا ہے۔ معاہدے کی اس وقت کی اصلی فریق گولڈ بیرک 2012 میں پاکستان سے کیس جیت جاتی ہے اور کیس آگے بڑھاتی ہے۔ اس کے چند سالوں بعد وہ ہرجانے کا دعویٰ دائر کرتی ہے جو 11 بلین ڈالر کا ہوتا ہے۔
کمپنی نے کسی نئے معاہدے سے انکار کر دیا کیونکہ اس کو انویسٹمنٹ سے ڈبل جرامنے کی صورت میں مل رہے تھے۔ آخر کار وزیر اعظم عمران خان نے ترک صدر سے رابطہ کیا اور سفارتی پریشر کا استعمال کیا۔ انھوں نے پاکستان کی معاشی حالت کے پیشِ نظر ترک صدر کو کمپنی سے جرمانہ ختم کرنے کی سفارش کی ۔
راجہ پرویز اشرف جا نام راجہ رینٹل پڑ گیا اور شک ظاہر کیا گیا کہ اس پلاننگ میں لیگی راہنما ، راجہ رینٹل صاحب اور افتخار چودھری بھی کہیں نہ کہیں ملوث رہے ہوں گے ۔ خیر ملک کو بڑا نقصان ہوا اور کچھ طاقتوں کو فاہدہ ہو گیا ۔ جب ایک اناڑی کی حکومت آئی تو اس نے کمپنی سے مزاکرات کئے لیکن
پیپلز پارٹی نے ترک کمپنی کارکے کے ساتھ 2009 میں رینٹل پاور پلانٹ کے ساتھ 564 ملین کا معاہدہ کیا جس کو ن لیگ نے کیس کر کے افتخار چودھری کے ساتھ مل کر کینسل کروایا اور یوں کمپنی نے عالمی عدالت میں کیس کر کے 2013 میں کیس جیت لیا جس سے پاکستان پہ 1.2 بلین ڈالر کا جرمانہ ہوا۔ اس پہ
اس قدر تجربہ کار تھے کہ اینگرو گروپ کا کیمیکل ٹرمینل 27 ملین روپے یومیہ پر 15 سال کے لیے کرائے پر حاصل کیا گیا جبکہ اناڑی نےپورٹ قاسم پر پہلے سے ایل پی جی کا غیر استعمال شدہ ایل پی جی ٹرمینل استوا کیا جو صرف 30 سے 40 ملین روپے کی لاگت سے ایل این جی کی درآمد کےلیے کارآمد بن گیا
معاہدہ ری شیڈول ہوا اور قطر سے دس سالہ نیا معاہدہ طے پایا جس کے تحت 10.2 فیصد برینٹ مقرر کی گئی ، لیٹر آف کریڈٹ بھی 170 ملین سے آدھا کر کے 84 ملین پہ طے ہوا اور یوں 31 فیصد سستا معائدہ کر دکھایا جس سے ملک کو دس سال میں تین بلین ڈالر کا منافع ہونا ہے۔
خاقان عباسی صاحب تو
حکومت کو 170 ملین ڈالر کا لیٹر آف کریڈٹ دینا پڑتا تھا ۔ اس سے ملک کو بےشک نقصان ہو لیکن شاہد خاقان عباسی صاحب پہ نیب میں کروڑوں کے کک بیکس کے الزامات عائد ہوئے ۔ عمران خان جیسا اناڑی حکومت میں آیا تو انھوں نے اس قدر مہنگے معاہدے پہ نظرثانی کا اعلان کر دیا۔ آخر کار دانشمندوں کا
سیاست اور معیشت میں اناڑی سمجھا جاتا ہے لیکن عمران خان نے ان تجربہ کاروں کی تمام غلطیوں کا ازالہ اپنی حکومت میں انتہائی فہم و فراست سے کیا ہے۔
ن لیگ نے 2016 میں قطر کے ساتھ 15 سالہ ایل این جی کا معاہدہ کیا جس میں دس سال کےلیے قیمت بھی مقرر کر دی گئی جو 13.37 فیصد پر برینٹ تھی۔